دنیا بھر کی محبت ماں کے دامن میں سموئے ہوئے ہے ۔ ماں ہی وہ شجر سایہ دار ہے جس کا ہر لفظ سراپا محبت ہوتا ہے ، جس کا ہر عمل امن کا خواہاں ہوتا ہے ، ماں ہی وہ عظیم رشتہ ہے جو سب رشتوں کو پائیدار کرتی ہے ، ماں ہی وہ احساس ہے جو اپنی اولاد کے لیے ہر تکلیف برداشت کرتی یے ۔ ماں کی عظمت کو سلام !
ماں تو ماں ہے اس سے پہلے بس خدا کا نام ہے
اور بچوں کے لیے یہ اک دعا کا نام ہے
ابتدا کا نام ہے اور انتہا کا نام ہے
زندگی اک ناؤ ہے ماں ناخدا کا نام ہے
انعام الحق جاوید
اور پھر ماں کی دعا سے ہوگیا میں کام ران
کاتبِ تقدیر نے ناکام لکھا تھا مجھے
ڈاکٹر اسحاق وردگ
اور جب تلک کلیم کے سر پر رہی ہے ماں
نعلین پا قبول دعا کر رہی ہے ماں
پاؤں میں آ گرے ہیں جو دشمن کے سارے تیر
میں جانتا ہوں دوست کہ کیا کر رہی ہے ماں
ایاز عباسی
تیرے قدموں میں ہے میری جنت
چومتا ہوں میں قدم تیرے ہر دن
محمد اقبال خان
جب بھی گھرسےنکلتاہوں فیضی
ماں جی رب کے حوالے کرتی ہے
اویس فیضی
ماں کتنی ٹھنڈک ہے تیرے نام کے ان حرفوں میں
لب پہ آتے ہی تپتی دھوپ بھی گھنی چھاؤں لگنے لگتی ہے
تیرا سایہ رہے مجھ پر میری زندگی کی آخری حد تک
ماں تجھے اک دن نہ دیکھوں تو زندگی بُری لگنے لگتی ہے
امن ایمان
وہ اِک رشتہ کہ جس کا نام ماں ہے
کوئی رشتہ بھلا ایسا کہاں ہے
محبت ماں اے تیری، لامکاں ہے
محبت اور جو بھی ہے گماں ہے
افتخار احمد
چرخا کاٹ لیا دن رات اور فاقہ ٹال دیا
ماں تیرا احسان کہ تو نے رزق حلال دیا
اشرف یوسفی
دیر کرتی گاڑیوں کو کیا خبر
کتنی مائیں جاگتی ہیں رات سے
محمد ارشد مرزا
لاکھ رشتےہوں خون کےفیضی
ماں کا نعم البدل نہیں ہوتا
اویس فیضی
مرے چاروں طرف ہے دشت بےپایاں کہاں ہو تم
مرے ماتھے پہ بوسہ دینے والی ماں ! کہاں ہوتم
مجھے جھلسا رہی ہے زندگی کی دھوپ برسوں سے
مری امید ، میری زیست کا ساماں کہاں ہوں تم
اعتبار ساجد
جب میں نے ماں کے کاندھے پر سر رکھا
دل سے دور زمانے کا ہر ڈر رکھا
بدرمنیر
خدائے پاک میں تیری رضا پہ راضی ہوں
مگر یہ ماؤں کا جانا سمجھ سے باہر ہے
ثروت مختار
ورنہ کسی راہ میں بھٹک گئے ہوتے
تو راہ حق پہ ہے عطا ماں کی ہے
شعر و سخن میں تو آسمان چھو لے
ساحر اس میں رِضا ماں کی ہے
جون ساحر
جلنے لگتے ہیں فرشتوں کے پر و بال جہاں
اس بلندی پہ مجھے ماں کی دعا لے جائے
جاوید قاسم
اک نظر کاش مری سمت وہ ایسے دیکھے
جیسے گھر سے مجھے جاتے ہوئے ماں دیکھتی ہے
ہم کسی خستہ حویلی کی طرح ہیں حماد
اتفاقاً ہی کوئی آنکھ یہاں دیکھتی ہے
حماد نیازی
کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے
اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے
خالد احمد
میں ان کو خانوں میں کیسے بانٹوں جو میری عمر ِرواں کے دن ہیں
تمام دن میرے باپ کے دن تمام دن میری ماں کے دن
سعود عثمانی
جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا
ماں نے اپنے لال کی تختی جلا دی رات کو
سبط علی صبا
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تک
ماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
سرفراز نواز
اک ماں کو اپنے لخت جگر کی تلاش تھی
والد کو اپنے نور نظر کی تلاش تھی
ہمشیر اپنے بھائی کی آمد کا منتظر
پھرتا تھا بھائی ، بھائی کی حالت سے بےخبر
شفیق راجہ
میری ماں کی دنیا کتنی چھوٹی ہے
میری ماں کا میں ہی کل سرمایہ ہوں
ڈاکٹر شعیب صدیقی
کتنی بےچین رہا کرتی ہیں مائیں دن بھر
اپنی اولاد کو سڑکوں کے حوالے کر کے
شرجیل بخاری
میں ماں کے واسطے ہوں چاند اس کا
تمھارے واسطے اچھا نہیں ہوں
شان قریشی
تکتی رہ جائے نہ ماں جانب در شام کے بعد
گھر میں ہوتا ہوں اسی واسطے ہر شام کے بعد
شوذب کاظمی
کبھی ماں ہے مروہ ، کبھی وہ صفا ہے
یہ سب خوبیاں اس کے رب کی عطا ہے
صوفیہ حامد
ماں سے لپٹ کے لاڈ لگانا اور پھر طاہر رونا
رات کی گھڑیاں اور بھی تازہ یادیں کرتی ہیں
محمد صداقت طاہر
مجھ سے مت پوچھ کہ کیا میں نے کہاں کھویا ہے
میں نے اک ماں نہیں کھوئی ہے جہاں کھویا ہے
سید ظہیر حسرت کاظمی
تیری قسمت میں اگر ماں کی دعا ہے بھائی
صاف ظاہر ہے' ترے ساتھ خدا ہے بھائی
عرباض عرضی
گھبرا کے اگر دل میں بھی کہہ دیتا ہوں "ماں جی"
فوراً کسی جانب سے جواب آتا ہے "ہاں جی"
عمیر نجمی
تیرے ماں باپ کی ہو عُمر دراز
کھا گیا میری ماں کو غم میرا !
عبداللہ ضریم
جس کے سر پر ماں کا سایہ ہو عقیل
اس کے سر پر آسماں موجود ہے
عقیل عباس جعفری
مرا دشمن جہاں چاہے مجھے للکار سکتا ہے
مرے چاروں طرف ماں کی دعائیں رقص کرتی ہیں
علی شاہ
ماں! وہ چہرہ کہ جہاں نور کے سائے ٹھہریں
ماں! وہ آواز کہ جس سے مرے پائے ٹھہریں
عمیر مانسہروی
پھر وہیں ماں کی دعا نے تھاما
جب بھی خدشات ڈرانے آئے
عنبرین خان
گھر کو جلدی جانا ہو گا
در پہ ہوں گی ماں کی آنکھیں
علی عازش
یہ کارِ شعر یہ سب شہرتیں اضافی ہیں
مرے لیے مری ماں کی دعائیں کافی ہیں
عمران عامی
میں تو زینوں پہ قدم رکھتا چلا جاؤں گا
مجھ کو لے جائے کہاں ماں کی دعا جانتی ہے
عرفان صادق
باپ کوئی بھی مصیبت نہیں آنے دے گا
ماں مرے دل میں اندھیرا نہیں ہونے دے گی
علی رومی
میں گرا، ٹوٹا، بکھر گیا جب بھی
تُو نے ہر زخم کو سجا لیا ماں
زندگی کا ہر اک سفر تیرے دم
تیرا سایہ ہے اک عطا ماں
فیاض ہنجرا
میرے سب کام مری ماں کی دعاؤں سے ہوئے
ورنہ دوزخ نہ کبھی سرد ہواؤں سے ہوئے
فیصل عجمی
سر پہ رہتا ہے جو سائباں کی طرح
کون کرتا ہے پیار اور ماں کی طرح
لیاقت شعلان
اک طرف ڈال دیا وزن محبت کا تری
اک طرف ڈالی ہے یہ ساری خدائی میں نے
مسعود احمد
یوں اجازت نہ دے گی رخصت کی
ماں کے آگے جبیں کروں گا میں
محبوب کاشمیری
یہ بہت دیر سے گھر رات پلٹتے لڑکے
کاش سمجھیں یہ کبھی ماؤں کے خدشات کا دکھ
مسعود ساگر
آج چہرہ مرا کتنا پُر نور ہے
آج چومی ہے ماں نے جبیں دلربا
میاں فرہاد
میں نے محسوس کیا ممتا کے پاؤں چھو کر
مجھ پہ جنت کا کوئی ایک کھلا دروازہ
ماجد رضا امبر
ہے ماں کا پیار مری زندگی کا سرمایہ
میں اس کے پیار کی قیمت چکا نہیں سکتا
ناز مظفرآبادی
دکھ کے لمحوں میں مرا ایک سہارا ماں ہے
میں اگر ڈوبتی کشتی ہوں کنارہ ماں ہے
اُس کے قدموں میں جو جنت ہے تو مطلب یہ ہے
آسمانوں سے جسے رب نے اتارا ماں ہے
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
میں اپنی ماں کے بہت ہی قریب رہتا تھا
سو بچپنے سے محبت مزاج میرا ہے
ناصر علی سید
سب روشنیاں صبح کے امکاں کی طرح ہیں
ہر ماں کے خدوخال مری ماں کی طرح ہیں
نسیم عباسی