” محنت کرنے والوں کو اللہ پاک پسند کرتا ہے “ یہ جملہ کاشان احمد کو ہمیشہ حوصلہ فراہم کرتا تھا ۔ کاشان جماعت نہم کا طالب علم ہے جو محنت کےگن گایا کرتا ہے ۔ ہر سال جماعت میں اول آتا ہے نیز گھر کے کاموں میں بھی والدین کا خوب ہاتھ بٹاتا ہے۔ کاشان کے والد محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں ۔ 30 اپریل کو حسب معمول کاشان اسکول جاتا ہے ۔ پہلی کلاس میں ہی بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔ ہر بچہ غیر معمولی طور پرخوش نظر آتا ہے ۔ اتنے میں جماعت میں السلام علیکم ! پیارے بچو ! کی صدا بلند ہوتی ہے ۔ سب بچے میڈم عظمیٰ کے سلام کا جواب دیتے ہیں ۔ کاشان اپنی خیالی دنیا سےحقیقت کی طرف محوسفر ہو جاتا ہے ۔ کاشان کو پریشان دیکھ کر میڈم عظمیٰ بخاری اسے مخاطب کر کے پوچھتی ہیں :
کاشان بیٹا ! کیا سوچ رہے ہو ؟
کاشان (کچھ دیر خاموش رہنے کےبعد) تعجب سے کہتا ہے میم پتا نہیں کیوں یہ سب آج خوش نظر آ رہے ہیں ؟ میں اسی سوچ میں گم تھا ۔ میم عظمیٰ(ہلکے تبسم بھرے انداز میں ) : کاشان ! تم ابھی تک نہیں سمجھے یہ سب کل کی چھٹی کی وجہ سے خوش ہیں ۔ چھٹی؟ کیسی چھٹی ۔۔؟ میڈم عظمیٰ : یکم مئی کو دنیا بھر میں یوم مزدور منایا جاتا ہے جس وجہ سے ہر سال کی طرح اس سال بھی سرکاری سطح پر اس دن کو خاص اہتمام سے منایا جائے گا ۔ کاشان ( میڈم عظمیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے) : میڈم ! میرے والد بھی مزدور ہیں ۔ جماعت کے سب بچے کاشان کی اس بات پر طنزاً قہقہ لگاتے ہیں جس پر میم عظمی سب کو خاموش کراتی ہیں ۔بچو ! یہ انداز غیراخلاقی ہے ۔ مزدور نہ صرف اس معاشرے کا بلکہ اس ریاست کا قیمتی اثاثہ ہیں جو رزق حلال سے کماتے اور کھاتے ہیں ۔ یہاں تو جتنا بڑا آفیسر ہے اس سے اتنی ہی بڑی کرپشن کی امید ہے ۔ اصل آفیسر تو وہی ہے جو رزق حلال کمانے اور کھانے کو ترجیح دے چاہے وہ کباڑی ہو یا خاکروب ۔ پیشہ کوئی بھی برا نہیں ہوتا ہمارا رویہ اور ہمارا چال چلن اس پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ ہمیں مزدور کا خیال رکھنا چاہیے جیسا کہ ہمارا دین اسلام بھی اس کے حقوق پر زور دیتا ہے ۔ مزدور کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور انھیں ان کی اجرت پسینا خشک ہونے سے قبل ادا کریں ۔ مزدور کواجرت کے ساتھ عزت بھی دیں ۔ یہ دن ہم نے بیٹھ کر یا آرام کر کے نہیں گزارنا بلکہ سب نے عہد کرنا ہے کہ اپنے وطن میں مزدور طبقہ کی حوصلہ افزائی کریں گے اور رزق حلال کمانے والوں کو عزت دیں گے ۔ اس کے ساتھ خود بھی رزق حلال کو ترجیح دیں گے ۔ سب بچے (ہم آواز )کہتے ہیں ان شاء اللہ ۔۔۔
188