448

بے زبانوں سے ہمدردی

کاشان ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۔ بچپن میں ہی یتیمی کا سامنا کرنا پڑا ۔ والدہ کلثوم بیگم نے ان کی تربیت میں والد کی کمی محسوس نہ ہونے دی یہی وجہ تھی کاشان کھیلنے کودنے کی عمر میں معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کا خواہاں تھا ۔ گورنمنٹ ادارے میں جماعت پنجم کا طالب علم تھا ۔ اس کا بہترین دوست اس کا پڑوسی ،ہم عمر اور ہم جماعت موہت شرما تھا جو ہندو دھرم سے تعلق رکھتا تھا ۔ دونوں انسانیت سے محبت کے جذبے سے سرشار  تھے اور ان کا بھی یہی خیال تھا ہر مذہب محبت اور بھائی چارہ کا درس دیتا ہے تو آپس میں نفرتیں کیوں رکھیں ۔ بےزبانوں سے ہمدردی دونوں میں مشترکہ خاصیت تھی ۔ 
گرمیوں کا موسم تھا ،دھوپ شدت کی تھی انسانوں کے ساتھ بےزبان جانور بھی درجہ حرارت کو برداشت نہ کرنے سے موت کا لقمہ بن رہے ہیں ۔ کاشان اور موہت ایک روز دوپہر کی سخت گرمی میں گھر کو لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر کچھ  بچوں پر پڑی جو ایک بےزبان چڑیا کو ہاتھ میں پکڑے اس کا تماشا بنا رہے تھے ۔ دونوں نے نہ آو دیکھا نہ تاو بجلی جیسی برق رفتاری سے بچوں کے پاس پہنچے اور اس ننھی چڑیا کو ان بچوں کے شکنجے سے آزاد کیا ۔اگر کچھ دیر مزید  ننھی چڑیا ان انسانوں کے درمیاں موجود رہتی وہ شائد پھر کبھی آنکھ نہ کھول پاتی ۔ کاشان نے بچوں کی طرف مسکراتے لبوں سے مخاطب ہو کر کہا :
” ہم سب کو اور اس بےزبان پرندے کو بنانے والا ایک ہی ہے کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ایسا سلوک ہو ؟ “
بچوں کو اپنی غلطی پر ندامت ہوئی اور سر جھکائے انکار میں سر ہلایا ۔ موہت نے بھی خاموشی توڑی اور کہا ” کوئی بھی مذہب ،ذات ، فرقہ ، قوم ، اور تعلیم اس وقت تک مہذب نہیں کھلائے گی جب تک وہ بےزبانوں پر رحم کا درس عملی صورت میں نہ دے “ ۔ 
کاشان نے موہت کی بات کو سراہا اور کہا :
” پیارے بچو ! یہ دنیا ایک آزمائش کی جگہ ہے جہاں قدم قدم پر انسان کا امتحان ہوتا ہے ۔ ہم وقتی طور پر اپنی خوشیوں کے لیے ان بےزبانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جو کبھی اپنے ساتھ پسند نہیں کرتے کیا ہم انسان کہلانے کے قابل ہوں گے ؟ قدرت کی ہر شے میں ایک خوب صورتی اور دل کشی ہے اپنے باطن کو پاک کر کے جس شے کو دیکھو گے وہ خوب صورت نظر آئے گی ۔ “
بچوں کواپنے کیے پر افسوس ہوا اور انھوں نے عزم کیا کہ اب ہم ان بےزبانوں کو تکلیف دینے کی بجائے ان کے لیے آسانیاں فراہم کریں گے ۔ اب ہم اپنی خوشی ان کو تکلیف دے کر نہیں ان کے لیے آسانیاں فراہم کر کے محسوس کریں گے ۔ ہر ایک کے درد کو اپنادرد سمجھیں گے ۔ آج سے ہم بےزبانوں سے ہمدردی کو اپنا شیوہ بنائیں گے ۔

بشکریہ اردو کالمز