9اگست 2023کو 15ویں عام انتخابات کے نتیجے میں بننے والی قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی، گو ابھی مدت مقررہ میں 4روز باقی تھے جس کا آئینی طور پر فائدہ اٹھا نے کیلئے پی ڈی ایم حکومت نے مدت پو ری کرنے کی بجا ئے اسمبلی تحلیل کرنے کو عافیت سمجھا۔ آئین ماہرین کہتے ہیں اسمبلی اپنی مدت سے ایک دو روز قبل تحلیل ہو تو پھر الیکشن کمیشن کو 30اضافی روز مل جاتے ہیں۔ نئی صورتحال میں عبوری حکومت کا قیام 90روز کیلئے سمجھا جا رہا ہے البتہ وفاقی کا بینہ کی طرف سے نئی مر دم شماری کے تحت انتخابات کرانے کی منظوری کے بعد نئی حلقہ بندیو ں کا چرا غ روشن کرنا لا زمی ہو گیا، حلقہ بندیو ں کا تیز ترین مر حلہ طے کر نے کیلئے الیکشن کمیشن کو 120دن کی ضرورت پڑے گی 90اور 120دن بعد الیکشن کمیشن آئینی طور پر 310 دن بعد 16ویں عام انتخابات کے قابل ہوگا یعنی سیاسی جماعتوں کو مارچ2024تک نئے انتخابات کا انتظار کرناپڑے گا ۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ اور دفاع رانا ثناء اللہ اور خواجہ آصف نئے انتخابات کے بارے میں پالیسی بیان دے چکے ہیں کہ اس برس الیکشن کا امکان نہیں۔ بارہ اگست کی سہ پہر وزیر اعطم شہباز سریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کے مابین ہونے والی گفتگو کامیاب رہی ۔طرفین نے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے نام پر اتفاق کیا۔ انوار الحق کاکڑنے یوم پاکستان کے قابل رشک لمحوں میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھالیا ہے ۔ اپنی ابتدائی بات چیت میں انہوں نے قومی خدمت کے عہد کی تجدید کی ، انکا کہنا تھا کہ وہ قوم کی توقعات پر پوری اترنے کی کوشش کریں گے۔ وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ مارچ 2018 میں آزاد حیثیت سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے ان کی 6 سالہ مدت مارچ 2024 میں ختم ہونا تھی۔انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز اور ہیومن ریسوس ڈیولپمنٹ کے چیئرمین کے طور پر کام کیا،وہ سینیٹ کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی، فنانس اینڈ ریونیو، خارجہ امور اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے رکن بھی رہے۔انوار الحق کاکڑ نے 2018 میں قائم ہونے والی بلوچستان عوامی پارٹی کے لیے پارلیمانی لیڈر کا کردار 5 سال تک ادا کیا
یہ درست ہے کہ نئی حکومت سیاسی جماعتو ں اور قائدین سیاست کا مسئلہ ہے اس اہم ترین مسئلے سے 24کروڑ80لاکھ شہریوں کو لینا دینا ہے نہ سروکار …قوم کا مسئلہ بجلی ، گیس ، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں میں کمی اور استحکام ہے ۔صرف بجلی بلز نے شہریوں کو پر یشانی ،مصیبت اور نکبت کی جس اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا ہے اس کے تصور سے جسم کا نپ اٹھتا ہے ۔ریڑھی اور خوانچہ فروشوں کی زندگی کو آٹھ اور دس ہزار کے بلوں نے مخمصہ کا مریض بنا دیا ۔چند روز قبل ایک شاپ پر بزرگ شخصیت 2700کا بل جمع کر وانے آئی۔ دکاندار کی جوابی وضاحت کی بزرگ کو پر یشانی کی ایسی دلدل میں گرادیا جہاں سے باہر نکلنامشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔دکاندار نے کہا کہ بزرگو !آپ کا بل 27سو کا نہیں 27ہزار روپے کا ہے ۔اب آپ بتائیں وہ بزرگ کیا کر تے… انڈے 280روپے درجن یعنی آپ 500روپے میں دو درجن انڈے نہیں خرید سکتے ۔مہنگائی اور بے روزگا ری نے ہر گھر میں اذیت کے کا نٹے پہنچا دیئے ، غریب کیا کر ے اور کہاں جائے ؟پی ڈی ایم حکومت جاتے جا تے عبو ری حکومت کو سخت ترین فیصے کرنے کا اختیار دے گئی، گو یا آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی ، گیس اور پٹرول مہنگا کر نے کا سلسلہ عبوری دور میں بھی جاری رہے گا
ہم عبوری وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے عر ض گذار ہیں کہ وہ اپنی پور ی توجہ شفاف اور آزادانہ انتخابات پر مر کو ز رکھیں خود ایسے امور سے دور رہیں جس سے غربت اور مہنگائی کے مارے لو گ بد دعاؤں پر نہ اتر جائیں ،آج حالت یہ ہے کہ لو گ غربت اور بے روزگا ری کے ہا تھوں مجبور ہو کر زندگی کا چراغ بجھارہے ہیں ۔مزدور اور محنت کش کیلئے اپنے بچو ں کا پیٹ پا لنا مشکل ہو تا جا رہا ہے ایسے حالات میں چند سو کمانے والا مزدور کیا کرے نگران حکومت اپنے اچھے فیصلوں اورکفایت شعاری مہم کے ذریعے مدتی خزانے پر بوجھ کم سے کم کر سکتی ہے اگر اس عارضی حکومت نے سب شاہا نہ اخراجات اورپروٹوکول کی چھتری کو اپنائے رکھاتو پر مایوس قوم مزید مایوسی کا شکار ہوجائیگی ۔
104