مہمان کالم - ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین ڈاکٹر ابرار احمد اور سیربین

( ”اوڈیسی: نظم کی دنیا“ میں جب ابرار احمد کو ”معاصر نظم کا جمال“ کہا گیا تو مجھے اس کا تین سال پہلے محض 67 برس کی عمر میں بچھڑنا یاد آ گیا۔ 1954 ء میں جڑانوالہ پیدا ہونے والے ابرار احمد نے ایک شاعر کی حیثیت سے تب ہی شہرت پالی تھی جب وہ ملتان کے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی بی ایس کر رہے تھے۔ لاہور میں مقیم ہوئے تو ان کی شاعرانہ شناخت مستحکم ہوتی چلی گئی شاعر نے دیہات سے بڑے شہروں میں آبادی کے مسلسل انتقال اور اس کے یہاں کی ثقافت پر پڑنے اثرات، انسانی وجود کی اتھل پتھل اور نفسیاتی بکھراؤ کو بطور خاص موضوع بنایا۔

اس ضمن کی مثال میں ابرار کی مقبول نظم ”قصباتی لڑکوں کا گیت“ کو لیا جاسکتا ہے۔ اس کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’آخری دِن سے پہلے‘ 1997 ء میں، دوسرا ’موہوم کی مہک‘ 2019 ءمیں، جب کہ غزلیات پر مشتمل مجموعہ ’غفلت کے برابر‘ 2007 ء میں شائع ہوا تھا۔ یہ ابرار احمد کی ادب کے اس طالب علم سے محبت تھی کہ اس نے یہ تینوں مجموعے مجھے عطا کیے تھے اور میرے ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ پر ایک انگریزی روزنامے میں مفصل مضمون لکھا تھا۔

اس کی ایک اور شہرت ای این ٹی سپیشلسٹ کی بھی تھی اور وہ عمر کے آخری برسوں میں بھی ایک معالج کے طور پریکٹس کرتا رہا تھا۔ میری ابرار احمد سے ملاقات رہی اور مکالمہ بھی۔ ہم ایک دوسرے کی تخلیقات پر کھل کر بات کر سکتے تھے اور کرتے تھے مگر میں اس کی بیماری کے مہلک پن کا اُس وقت تک اندازہ نہ کر پایا تھا جب تک آخری دنوں میں وہ ہسپتال کے بستر سے نہ لگ گیا تھا۔ 2021 ء میں اکتوبر ہی کا مہینہ تھا کہ یہ معاصر نظم کا جمال ہو جانے والا یہ شاعر اور ہمارا دوست ابدی سفر کے لیے رخصت ہو گیا۔ )

ابرار احمد کے بارے میں جیلانی کامران مرحوم نے بجا طور پر کہہ رکھا ہے کہ اس کی نظموں میں انسانی سرشت ایک نیا زائچہ تحریر کرتی ہے، لیکن اس کہے کا کچھ اثر نہ ہوا اور جب ”حاشیہ“ میں ان کی نظم ”سیربین“ پر مکالمہ طے ہوا تو ہندوستان سے ہمارے نوجوان ناقد فیاض احمد وجیہہ نے ایسا ابتدائیہ پیش کیا جس میں نظم کے اسٹرکچر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔ تصنیف حیدر اور پروین طاہر کا بھی یہ کہنا تھا کہ گفتگو کے لیے اس نظم کے انتخاب میں غلطی ہوئی تھی۔

علی محمد فرشی نے کھل کر یہ بات تو نہیں کہی مگر اپنے نوٹ سے یہی تاثر دیا کہ نظم کا انتخاب درست نہ تھا۔ نصیر احمد ناصر کا رد عمل کچھ زیادہ شدید رہا انہوں نے اسے ایسی نظم قرار دیا تھا جو ابرار کے عمومی معیار کو بھی نہیں چھوتی تھی۔ نصیر کو تو نہ صرف اپنی نظمیں ’دیوار قہقہہ‘ اور ’ان فوکس‘ یاد آ گئیں اور فوری مطالعہ کے لیے ”دیوار قہقہہ“ کا لنک بھی فراہم کر دیا تھا۔ میں نے نصیر کی نظم پڑھی، وہی جس میں ”دیکھو، دیکھو“ کی تکرار ہے، مجھے نظم گتھی ہوئی اور اچھی لگی تھی۔ تاہم ”سیربین“ کے حق میں نہ جانے والی اس ساری فضا میں مجھے ابرار احمد کے تخلیقی تجربے کے ساتھ کھڑا ہونے میں لطف آ رہا تھا۔ یاد رہے وہ سب جو ابرار احمد کی ”سیربین“ کو رد کر رہے ہیں عین اسی لمحے میں تسلیم بھی کر رہے تھے کہ وہ اہم نظم نگار تھے۔

 

میں ابرار احمد کی نظم کے ساتھ کیوں کھڑا تھا اور کھڑا ہوں، یہ بتانے سے پہلے، اجازت چاہتا ہوں کہ یہاں ن م راشد کی کتاب ”ایران میں اجنبی“ کے دیباچہ سے چند سطریں نقل کر دوں۔ اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ ایسا میں کیوں کر رہا ہوں؟ تو شاید شافی جواب نہ دے پاؤں۔ بس جی چاہ رہا ہے اور شدت سے جی چاہ رہا ہے کہ وہ سطور ہو بہ ہو یہاں نقل کر دوں۔ میں دل کی مان رہا ہوں آپ میری مان کر اجازت دے دیجئے۔ ہاں تو راشد نے کہا تھا:

”صحیح بات یہ ہے کہ قاری ہو یا نقاد، جب تک وہ شاعر کے ساتھ ایک حد تک ہم سفر ہونے پر آمادہ نہ ہو، اس کی زبان یا اس کے مزاج سے واقف نہیں ہو سکتا۔ وہ نقاد جن کا علم اور ذوق“ بحر الفصاحت ”یا“ چہار مقالے ”کے راستے ان تک پہنچا ہے، وہ جب تک اپنے علم کو تھوڑا سا فریب نہ دیں یا ایک حد تک اپنے علم کی شکست کا اعتراف نہ کریں، کبھی جدید شاعری کی کما حقہ، ترجمانی نہیں کر سکتے۔ جدید شاعری پر یہ اعتراض صحیح ہے کہ یہ سب کی شاعری نہیں۔ بے شک یہ ہر شخص کی شاعری نہیں، یہ صرف اس شخص کی شاعری ہے جس کا شعور نیا ہو۔“

اوہ، جب میں یہاں تک نقل کر گیا تو لگا ان میں ایک آدھ جملہ کچھ اُچٹا، ہوا ہے، یا پھر ایسا نقل ہو گیا ہے جو میں یہاں درج نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مثلاً ”بحر الفصاحت“ یا ”چہار مقالے“ والا جملہ، کہ اب تو جی کا جنجال ہو جانے والی نئی اصطلاحات کا زمانہ ہے لہٰذا وہ پرانے والا یعنی راشد کو خوش نہ آنے والا چلن یکسر بدلا نہیں تو اس تنقید کا لسانی چولا بہ ہر حال بدل گیا ہے۔ خیر راشد سے شروع ہونے والی نئی نظم پر بات کا آغاز راشد ہی کی پرانی ہو جانے والی بات سے کر بیٹھا تو اس کا ایک جواز شاید یہ ہے کہ میں آنا فاناً ابرار احمد کی نظم ”سیربین“ کے مقابل نہیں ہوا۔

میں نے اسے محض متن نہیں سمجھا، اسے ادبی تخلیق جان کر اسے محترم جانا ہے اور اسے ”محض کاٹھ کے ڈبہ والے آدمی“ کا المیہ نہیں جانا شاعر پر گزرنے والی واردات کے طور پر محسوس کیا ہے۔ مگر اس مرحلہ تک پہنچنے سے پہلے میں نے یہ حیلہ کیا ہے کہ دھپ سے اس نظم کی کائنات میں اُترنے کی بجائے، کسی بھی تعصب کو ایک طرف دھر کے اس کی زبان اور مزاج سے آگہی کے لیے شاعر کے مجموعی تخلیقی چلن کو سمجھنا چاہا ہے۔

صاحب! ابرار احمد کی 1997 ءمیں منظر عام پر آنے والی نظموں کی کتاب ”آخری دن سے پہلے“ اگر آپ کے ذہن میں تازہ ہے اور اس کے بعد والی نظمیں بھی نگاہ میں ہیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ میری طرح اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ابرار اپنی نظم میں یہ قرینہ رکھتا تھا کہ پہلے باہر پھیلے منظر کو اپنی نظر میں بھر لیتا۔ منظر پوری طرح نظر کلاوے میں نہ آتا تو وہ اپنے وجود کو متحرک کر کے پہلے منظر کا پراگا نکالتا اور نئے کی گنجائشیں پیدا کرتا چلا جاتا۔

بکھری ہوئی زندگی کے بکھراؤ کو سمیٹنے کے لیے جس اسلوب کو اس نے اپنے اوپر روا رکھا ہوا تھا اس میں بکھرے ہوئے امیجز اور عام زبان سے شعری جمالیات کی تجسیم اور معنویت کی تشکیل ممکن ہو گئی تھی۔ ماننا ہو گا کہ عام درجے کے شاعر کو یہ قرینہ عزیز رکھنے پر بکھیر سکتا ہے مگر لطف یہ ہے ابرار نے اسی قرینے سے بالعموم نیا پن اور تازگی اخذ کی تھی۔

میں نے جس تخلیقی قرینے کی تصویر بنانے کی کوشش کی ہے لگ بھگ یہی قرینہ زیر نظر نظم کا بھی ہے۔ وجیہہ نے ابتدائیے میں بہ جا طور پر شناخت کیا تھا کہ ابرار احمد کا ایک مسئلہ ناسٹلجیا بھی تھا۔ اس کا خود شاعر کو بھی احساس تھا اور اس نے اس کا اعلان ”قدیم قصبے کے نام“ انتساب میں یوں کر رکھا تھا:

”ہم لوٹیں گے تیری جانب اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو“
اور۔
”ہم آئیں گے تیرے مضافات میں مٹی ہونے کے لیے“

تاہم ”بوڑھی اینٹوں“ کو دیکھنے اور مٹی میں ”مٹی ہونے“ سے پہلے وہ نئی زمینوں اور نئے زمانوں کو اپنی پوری طرح پھیلی ہوئی نظر کے وسیلے سے ایک شدید دکھ اور حیرت کی طرح جھیل جانا چاہتا تھا۔

”ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے
جلو میں کوچے مکان لے کر
سفر کے بے انت پانیوں کی تھکان لے کر
جو آنکھ کے عجز سے پرے ہیں
انہی زمانوں کا گیان لے کر
ترے علاقے کی سرحدوں کے نشان لے کر
ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے، ۔ ”

ہوا ہر اک سمت بہہ رہی ہے، تو یوں ہے کہ ”ہوا“ چوں کہ ہمارے نظم نگار کے مزاج کے مطابق سیلانی ہوتی ہے لہٰذا اس کے محبوب استعاروں میں سے ایک ہو گئی، اسی طرح نیند میں چلتے خواب ہوں یا بدلتے ہوئے موسم، لمس کا بہاؤ ہو یا دوریوں کا بھید ہو جانے والے سمندر، گہرے راستے ہوں یا کسی کے نم گیتوں سے ایسی دوری جو ابد تک چلی جاتی ہے اور ان دنوں کے تسلسل کی ایسی صراحی بھی کہ بہ قول اقبال جس میں سے نئے حوادث، قطرہ قطرہ ٹپک رہے ہوتے ہیں، یہ سب مل کر اس نظم نگار کا مزاج بناتے تھے۔ اچھا، اس باب کی ایک عمدہ مثال ابرار کی نظم ”ہر روزَ“ ہو سکتی ہے، جی یہ وہی نظم ہے جس میں :

”ہر روز
کوئی قلم ٹوٹ جاتا ہے
کوئی آنکھ پتھرا جاتی ہے
کوئی روزن بجھ جاتا ہے
کوئی دہلیز اکھڑ جاتی ہے
کوئی سسکی جاگ اٹھتی ہے،
۔
ہر روز کہیں کوئی چھت بیٹھ جاتی ہے
کوئی درخت کٹ جاتا ہے
کوئی خواب بکھر جاتا ہے
کوئی آہٹ رخصت ہو جاتی ہے۔ ”

ابرار احمد کے ہاں دنوں پر دنوں کا گرتے چلا جانا ایک واقعہ نہیں حادثہ تھا، ایسا حادثہ جو نیند اور نورستگی کی خوشبو میں سوئی ہوئی گھاس پر دوام چلنے کی للک رکھنے والوں کے لیے نم ناک آنکھوں سے دیکھنا لازم ہو جاتا ہے۔ آدمی کے اندر ہی اندر کوئی پہیا آپ ہی آپ گھوم جاتا ہے۔ موت بلاتی رہتی ہے مگر وہ شامیں نگاہ میں رہتی ہیں جن میں ہوائیں چل رہی تھیں، تو یوں ہے کہ ابرار کے اندر سے شاعری کا منظر نامہ نہیں اگتا تھا، باہر سے بارش کر طرح اس کے وجود پر گرتا اور اسے بھگو دیتا تھا۔

میں نے اپنے تئیں ابرار احمد کے تخلیقی قرینے کو نشان زد کر دیا ہے۔ یہیں مجھے اصرار کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ اگر میں آپ احباب کے اصرار پر یہ مان بھی لوں کہ ”سیربین“ ابرار احمد کے تخلیقی مزاج کی نمائندہ نظم نہیں تو بھی مجھے اس پر اصرار رہے گا کہ یہ اس کے تخلیقی قرینے سے الگ پڑی ہوئی نظم بھی نہیں۔

میرا خیال ہے، اب ہم ان سوالات کے مقابل ہونے کے قابل ہو گئے ہیں جو احباب کی پر جوش دردمندی کی وجہ سے سامنے آتے رہے تھے۔ شروع میں یہ تقاضا بھی کیا گیا تھا کہ ان سوالات کے مقابل ”مصلحت پسندی“ کو راہ دیے بغیر ہوا جائے۔ اچھا جو مطالبہ کیا گیا میں نہیں سمجھتا کہ وہ کس حد تک پورا ہو پایا کہ تخلیق کے ساتھ جڑنے کی مصلحت مجھے ہمیشہ عزیز رہی ہے۔ نئے ناقدین قاری کے نقطہ نظر کی مصلحت سے جڑے ہوئے تھے۔ شاعری کی روایت کو عزیز رکھنے والے ایک اور طرح کی مصلحت کے اسیر تھے۔

وہ جنہیں راشد نے ”بحر الفصاحت“ یا ”چہار مقالے“ والا کہا تھا وہ اپنی مصلحت کیوں کر چھوڑ سکتے تھے۔ تو یوں ہے کہ راستہ تو ان ہی مصلحتوں کے اندر سے پھوٹنا تھا لہٰذا اس طرح کے مطالبات بسا اوقات فقط بدگمانی سے زیادہ کچھ اور نہیں تھے۔ میں نے نظم ”سیربین“ پر بات کو مؤخر رکھنے پر خود کو یوں مجبور پایا کہ مجھے اس فضا کو صاف کرنا پڑا تھا جو بے شمار سوالات کے بیچ گندھرا اور گدرا گئی تھی۔ نئی نظم کی جمالیات پر خوب خوب بات ہوتی رہی تھی۔

اگرچہ میں ذاتی طور پر نظم کو ایسا جمالیاتی صیغہ اظہار سمجھتا ہوں جس کے ریشے ریشے میں معنویت پیوست ہوتی ہے تاہم جہاں کہیں ترسیلی لہریں جمالیاتی دھارے کے اوپر بہنے لگیں، یوں کہ معنی کے شفاف پانیوں کے اندر سے جمالیاتی دھارا جھلک دینے لگے، تو یہ گھارا بھی مجھے لطف دے جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب میں نظم کے مختلف قرینے دیکھتا ہوں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ نئی نظم کے کسی بھی عمدہ شاعر کو اپنے مزاج سے ہم آہنگ اور اسی کے زیر اثر معنی اور مواد کی ایک ترکیب وضع کرنی ہوتی ہے۔

اس کے لیے وہ ساخت کے عام تصور کو توڑتا اور پھر سے اسے بناتا ہے۔ ابرار کی نظم کی ایک ساخت تو وہی تھی جو ہمارے کمپیوٹر کے مانیٹر پر نظر آ رہی تھی مگر اس طرح کی نظموں کو اس ساخت سے الگ کر کے نہیں سمجھا چاہیے جو اس فضا کے اندر سے پھوٹتی ہے جسے شاعر نے تخلیق کیا ہوتا ہے کہ اس کہانی سے بھی جڑی ہوتی ہے جس کے بیان میں ہمیں دل چسپی ہو نہ ہو وہ ہماری دل چسپی کھینچ لیتا ہے۔ خیر، فن پارے پر بات مقصود ہو تو اس کی معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے۔ اب اگر ابرار نے اپنی اس نظم میں خارج کے ایسے مظاہر پر نظر رکھی جو انسانی تقدیر سے جڑے ہونے کی وجہ سے روح تک کو لرزا دیتے تھے تو ہم اس کی طرف توجہ دیے بغیر، محض نظم کے اسٹرکچر پر نظر کیسے جما کر رکھ سکتے تھے۔

۔ 2۔

اچھا یہیں بتاتا چلوں کہ حاشیہ کے کچھ احباب ابرار احمد کی اس نظم کو اہم تسلیم کرنے سے مجتنب تھے، حتیٰ کہ اس پر بات کرنے سے بھی ہچکچا رہے تھے تو میں نے انہیں یاد دلایا تھا کہ شمس الرحمن فاروقی نے جب ”شب خون“ کا چالیس سالہ بہترین تحریروں کا انتخاب چھاپا تو اس میں اس نظم کو چار صفحات دیے تھے۔ میرا سوال یہ تھا کہ احباب فاروقی صاحب کے اس انتخاب میں اس نظم کے جگہ پا لینے کو کس کھاتے میں رکھ رہے تھے؟ مجھے احباب کی تنقیدی بصیرت پر کوئی شک نہیں تھا، مگر فاروقی کے تنقیدی فیصلوں کو بھی تو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اس سوال کے جواب میں جب تصنیف احمد نے کہا کہ فاروقی صاحب کے پاس یقیناً کوئی مضبوط جواز ہو گا، تو میں نے اضافہ کیا تھا کہ پھر ہمارے پاس کیا جواز رہ جاتا ہے کہ ہم نظم پر اپنے اپنے دلائل کے ساتھ مگر ڈھنگ سے بات آگے نہ بڑھا پائیں۔ سو میں نے اپنے دلائل مجتمع کیے اور بات آگے بڑھا نے سے پہلے صدر اجلاس کے اس سوال کی طرف متوجہ کیا تھا جس کے مطابق:

”کیا کسی بھی فن پارے کو معنیاتی منطق سے کنی کاٹ کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا تھا؟ اور سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر وہ حرف جو قرطاس تک آتا ہے اور ہر وہ رنگ جو کینوس پر ابھرتا ہے اور ہر وہ لے جو ہمارے کانوں کو چھوتی ہے، ہمیں اپنی معنوی منطق کی طرف کھینچتی ہے یا ہمیں تھوڑی یا زیادہ دیر کے لئے اپنی معنوی منطق کی ہمراہی و ہمدمی پر اکساتی ہے؟ وہ فن کا حصہ ہو جاتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ادب و فن میں وہ کیا شے ہے جو معنی کو نا صرف مضبوطی اور پائیداری عطا کرتی ہے، بلکہ اپنی بنیادی خصوصیت کے طور پر سب سے پہلے قاری اور ناظر اور سامع کو اپنی اور اپنی درونی و موضوعی کہکشاؤں کی طرف بلاتی ہے؟

کیا فن پارے کے اپنی طرف بلانے کے اس عمل میں اس کی ساخت، رنگوں، آوازوں اور حرفوں اور لفظوں کی ہم آہنگی ( اور کبھی کبھار بے ڈھنگی! آرتھوپیڈک اتحاد، انضمام بے ڈھب، بجز کراہت عدم تشدد، کہ دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں۔ افتخار جالب) ہی اصل کردار ادا نہیں کرتی۔ اسی کو ہم فن کہتے ہیں، ساخت اور جمالیات کہتے ہیں۔ روح تک لرزا دینے والے انسانی تقدیر کے ساتھ جڑے ہوئے تمام مظاہر اپنے تئیں کسی فن پارے کو عظیم تو کیا، قابل قدر تک بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ سو زیربحث نظم کی جمالیات کیا ہے؟ اس کی ساخت اس کے معنوی جمال کی پیغامبری کا فریضہ نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے؟“

مجھے یاد ہے تب جاوید انور نے یہ بھی کہا تھا:

”یہی وہ سوالات ہیں جو فیاض احمد وجیہہ صاحب نے اپنے ابتدائیے میں اپنے انداز میں اٹھائے ہیں اور انہیں کی طرف کچھ اشارے ہمیں ہمارے اب تک کے آخری رائے دہندہ کی تحریر میں بھی ملتے ہیں۔ اور کیا ایسا نہیں کہ ہم نے اپنی شدت پسندی کی وجہ سے بوجوہ ان سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ اور ایسے ہی سوالات ہیں، جن کی تلاش میں یہ نظم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔“

۔ 3۔

تب میں نے صدر صاحب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آپ نے ہوشیاری سے میری بات کے سیاق کو کاٹ کر الگ رکھا، فرشی کی بات پر توجہ نہ دی، عارفہ اقبال کی دلیل کو اس کے جوش کا طعنہ دے کر دبا دیا، اور صرف وہ بات دہرا دی، جس کے جواب میں آپ بہ سہولت میری جانب سے بھی ”نہیں“ کہہ سکتے تھے، سو آپ نے اپنے ”یقین“ کے ساتھ اس ”نہیں“ کو اپنے نقطہ نظر سے پہلے ٹانک دیا۔‘ میں انہیں یاد دلایا تھا کہ گزشتہ مباحث میں، میں نے ہر بار یہ گزارش کی تھی کہ ہر تخلیق کار کے مزاج اور فن پارے کی تخلیقی فضا سے مانوس ہوئے بغیر، تنقیدی فیصلے دینا خود تخلیقی عمل ہی کو لائق اعتنا نہ سمجھنے کے مترادف ہو گا اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ”ہزارے کا مہمان کیا بولتا“ پر، وجیہہ نے کچھ اسی طرح کے سوالات اٹھائے تھے جس کا ملخص یوں کیا جاسکتا ہے۔ :

1۔ کیا صرف معنی کی تشکیل ہی ادبی متن کا مسئلہ ہے؟
2۔ تخلیقی متن کے لسانی مواد پر ہماری توجہ کم کیوں ہے؟
3۔ نظم معنی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیانیہ کے غیاب میں کسی متوقع ساخت کی تعمیر کیوں نہیں کرتی؟

4۔ فوراً سے پیشتر نظم اور اس پر بات کرنے والے بھی معنی کی وہ کہانی سنانے لگتے ہیں جو نظم کی خارجی ساخت میں موجود ہے، کیوں؟

5۔ بلاشبہ اس نظم میں بہت کچھ ہے لیکن غور سے دیکھیے تو یہاں قصہ کہانی کے علاوہ کیا ہے؟

6۔ دراصل یہ نظم اپنے بعض ثقافتی نقوش کی وجہ سے سیاست کی اس سائیکی کی طرف ہمارے ذہن کو مائل کرتی ہے جس کو ہم ’آشوب‘ کا نام دے سکتے ہیں۔ کیا آشوب ذات کا یہ قصہ برصغیر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی سائیکی کو انگیز نہیں کرتا؟

7۔ کیا اس نظم کا بیانیہ تمثیلی نہیں ہے؟
اور اس طرح کے کئی سوالات قائم کرنے کے بعد وجیہہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:
8۔ ”اس نہج پر غور کیجیے تو یہاں نظم کی ساخت میں سب کچھ چھلاوہ معلوم ہو گا۔“

9۔ ”اس نظم کی خارجی ساخت کچھ اس ڈھب کی ہے کہ ہم بہ آسانی ادبی اور تخلیقی آہنگ سے محرومی کا گلہ کر سکتے ہیں۔“

10۔ ”اس کی خارجی ساخت کے پیش نظر میں بڑی آسانی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس کا بیانیہ کا قابل توجہ نہیں ہے اول تو یہ بیانیہ ہے ہی نہیں اس کا لسانی مواد نظم کی مطلوبہ زبان کی نفسیات سے الگ ہے اس کے برتاؤ میں ایک طرح کی سطحیت نمایاں ہے۔ “ وغیرہ وغیرہ۔

یہیں میں نے یاد دلایا تھا کہ جب جاوید انور کی نظم پر بات مکمل ہوئی تھی تو، ہم ایسے سوالات کے نئی نظم میں کارفرما تخلیقی عمل سے پچھڑے ہوئے ہونے کو بہ سہولت نشان زد کر سکتے تھے اور تب مجھے گمان ہونے لگا تھا کہ ہم نئی نظم کی فضا سے جڑ کر آئندہ پیش ہونے والی نظموں پر بات کر سکیں گے۔ مگر ہوا یہ کہ وجیہہ نے ابتدائیہ میں بھی لگ بھگ انہی سوالات کو دہرا دیا تھا۔ اچھا یہ سوالات آخر وجیہہ کا راستہ روک کر کیوں کھڑے ہو گئے تھے؟ یہ آپ بھی سوچتے ہوں گے اور میں نے بھی اسے آنکنا چاہا تھا تو مجھے اس کا جواب وجیہہ کے نوٹ کے ابتدائی جملے ہی میں مل گیا تھا۔ لیجیے میں وجیہہ کا لکھا نقل کر رہا ہوں :

”میں جب بھی کسی متن کے اکتشاف میں قدم بڑھا نا چاہتا ہوں سوالات کی آندھی راستہ روک لیتی ہے۔“

یہ جو اکتشاف ہے صاحب! اس کی بابت یہ بات سمجھ لینے کی ہے کہ چاہے یہ ”اکتشافی تنقید“ والا ہی کیوں نہ ہو، ارادہ کر کے اور کوئی نیت باندھ کر اس میں قدم نہیں دھرے جا سکتے، کہ اکتشاف کو لپک کر اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس میں لپک نہیں ہے، متن سے اٹھ کر آ لینے والی لپک، تو وہ کچھ اور ہو تو ہو، اکتشاف نہیں رہتا۔ تو یوں ہے کہ ہم نے اپنے ذہن میں قائم تنقیدی سانچے کے ساتھ اس نظم کے اکتشاف میں قدم بڑھائے تھے اور اسے کچل ڈالا تھا۔

لہٰذا نظم کی فضا کے اندر سے ابھرتے ہوئے جمالیاتی خطے، اس تند تنقیدی ریلے میں ڈوب سے گئے تھے۔ میں کہہ آیا ہوں کہ ابرار احمد کی نظم ”سیربین“ پر ابتدائی نوٹ میں لگ بھگ ان ہی جیسے سوالات کو دہرایا گیا ہے، جن کی فہرست میں ”ہزارے کا مہمان کیا بولتا“ والی گفتگو سے نکال کر اوپر درج کر آیا ہوں، یا ان ہی جیسے کچھ اور سوالات، مثلاً:

1۔ اس نظم کی جمالیات کیا ہے؟
2۔ اس کی کوئی تخلیقی ساخت ہے بھی یا نہیں؟
3۔ پیش نظر متن کی ساخت میں کئی مقام ایسے ہیں جو اس کی جمالیات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں؟

4۔ ’سیر بین‘ کی لفظی قواعد کہاں کہاں ٹوٹ رہی ہے۔ اس لسانی شکست و ریخت کا کوئی تخلیقی جواز ہے یا واقعی اس میں کوئی نقص ہے۔

5۔ بعض مقامات ایسے ہیں جہاں کسی خاص لفظ کی موجودگی پر سوال قائم کیا جا سکتا ہے۔
6۔ کیا ترسیل کے فریب کو توڑ کر فن کی جمالیات کو یہاں قائم کرنا آسان ہو گا۔

7۔ نظم کی اُجلی ساخت ہم سب کے سامنے ہے اس کو ہم اپنی ساخت میں کیسے ڈھالتے ہیں اسی سے بہت سی باتیں طے ہوں گی۔

8۔ بیانیہ کا ہر آہنگ اس کردار کے پیٹ سے باہر نکل آیا ہے اس لیے اس نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔

یہ اور اس طرح کے سوالات اٹھانے کے بعد ابتدائیہ نگار نے اگر پچھلی بار والی نظم کو ”چھلاوہ“ کہا تھا تو اس بار فیصلہ دیا تھا کہ اس کی ساخت ”فرضی“ ہو گئی تھی۔ وجیہہ ہی کے الفاظ میں :

”اس نظم کی تکنیک سے ہی اس کی فرضی ساخت وجود میں آئی ہے اور معنی اس کی مظہریت سے کسی قدر آزاد ہو کر فریب ہستی کے استعارہ میں ڈھل گیا ہے۔“

لیجیے مجھے یوں لگتا ہے کہ جس طرح، وجیہہ نے اپنے تنقیدی چلن کو ہی برقرار رکھا مجھے بھی اپنی باتیں لگ بھگ دہرا دینا ہوں گی۔ مجھے یاد ہے اس گفتگو کے دوران عارفہ شہزاد نے بہت کچھ اپنے تند تنقیدی بیانات میں تفصیل سے بیان کر دیا تھا جب کہ میرا کہنا تھا کہ تند اور پر جوش تنقید یا بہ قول محمد عمر میمن ”غلبہ آور“ جملے ( یہ اصطلاح میمن نے وارث علوی کی تنقید کی بابت وضع کی تھی) منہا کر لیں تو بھی ایک موقف باقی بچ رہتا ہے جو توجہ کے لائق ہے۔

قبل ازیں میں ایسی ہی لائق توجہ باتیں، اسی نوح کے تند جملوں کے باوجود معید رشیدی اور تصنیف حیدر کے ہاں میں دیکھ کر ان کا اعتراف سرعام کر آیا تھا۔ علی محمد فرشی کی بات کو سنجیدہ قرار دیا جا رہا تھا اور میرا کہنا تھا کہ اس پر ہی غور کر لیا ہوتا تو وہاں ان سوالات کے جوابات موجود تھے، اور بات وہاں سے آگے بڑھائی جا سکتی تھی مگر افسوس ہم اس نوٹ کے بعد بھی ایسی فضا نہ بنا نہ پائے تھے کہ نظم پر ڈھنگ سے مکالمہ قائم ہو سکتا۔

جب احباب کی جانب سے بار بار یہ کہا جاتا رہا کہ ”سیربین“ ابرار احمد کی قابل ذکر نظموں میں سے نہیں تھی، یا یہ کہ یہ اس کے تخلیقی چلن سے ہٹی ہوئی نظم تھی۔ میں نے ابرار کو جم کر پڑھا تھا اور اسی مطالعہ کی بنا پر پورے وثوق سے اپنا وہ موقف بھی بیان کر دیا۔ میں نے اس باب میں کچھ مثالیں بھی دیں۔ اب رہ گئی کوئی ایک نمائندہ نظم والی بات تو، صاحب میرا کہنا تھا کہ کیا کسی ایک نظم سے کسی تخلیق کار کے پورے تخلیق مزاج کو آنکا جا سکتا تھا؟

خیر، وہیں ایک بات کا اضافہ میں نے وثوق سے کیا تھا کہ وہ شمس الرحمن فاروقی ہوں یا حاشیہ، دونوں نے ”سیربین“ کو ابرار احمد کی ایک خاص زمانی عرصہ میں سامنے آنے والی منتخب نظم گردانا تھا تو یہ فیصلہ اس کی ادبی وقعت اور مرتبے کی وجہ سے تھا۔ میں ذاتی طور پر ابرار احمد کی انیس سو ستانوے میں چھپنے والی نظموں کی کتاب ”آخری دن سے پہلے“ سے نظم چننا چاہوں تو ”تم کہاں تک گئے“ جیسی کومپیکٹ اور ذرا گہری نظموں کو چنوں گا مگر کوئی اب بھی مجھ سے پوچھے گزشتہ دس برس کی ابرار احمد کی لائق توجہ نظموں میں سب سے نمایاں کون سی ہے تو میرا جواب ہو گا ”سیر بین“ ۔

نظم ہوتی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب اب وہ نہیں رہا جو راشد، میرا جی اور مجید امجد کی نظم سے پہلے تھا۔ اس میں موجود کہانی پر برہم ہونے کا مطلب اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ ہم نظم کی نئی تخلیقی منطق سے ابھی تک ایک فاصلہ قائم رکھے ہوئے ہیں، خیر مکالمے میں لگ بھگ یہ تو طے ہو چکا تھا کہ اس نظم کی جمالیات کو اس نظم کے متکلم کردار جسے ابتدائیہ میں کاٹھ کے ڈبے والا کہا گیا تھا، کے حوالے کے بغیر نہیں سمجھ سکتے تھے۔ اور میں اوپر کہیں یہ عرض بھی کر آیا ہوں کہ ایک ساخت یہ کاٹھ والے ڈبے کے بیانیہ سے بن رہی ہے اور دوسری اس فضا سے، جسے نظم نگار نے تخلیق کیا، شاعر کا کمال یہ ہے کہ کاٹھ والے کی لسانی منطق بھی برقرار رہتی ہے اور اس عمومی بیانیہ سے ایک فضا بھی۔

اس نظم پر ایک اعتراض یہ ہوا کہ اس میں ”تناسب والا مسئلہ“ پیدا ہو گیا ہے یا ”لفظی تکرار کے علاوہ مضامین کی تکرار نے بھی نظم کی گوندھ کو متاثر کیا ہے“ ۔ اس باب میں ”دل کی حد کے اندر کیا ہے“ اور ”اور سینے کے اندر کیا ہے“ ، ”ماہ و سال کلینڈر کیا ہے“ اور ”شام و سحر کا چکر کیا ہے“ وغیرہ جیسی مثالیں دی گئی ہیں۔ اس باب میں میرا موقف وہی تھا جو ”ہزارے کا مہمان کیا بولتا“ کی بعض لفظیات کے دفاع کے وقت تھا یہی کہ اگر اس سب کو اس فضا سے الگ کر کے دیکھیں گے، اس کردار کو بھلا کر جانچیں گے، جو اس نظم کی لسانی منطق ڈھال رہا ہے تو ہمیں یہ نظم ”اپنی تخلیقی جستوں کے باوجود اپنے مناسب حجم سے ہٹی ہوئی“ محسوس ہو گی۔

تاہم اس نظم کی مانوس فضا میں رہ کر اور اسے ایک طویل نظم کے طور پر پڑھیں گے تو ہمارا تنقیدی فیصلہ مختلف ہو گا۔ بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ”سیربین“ اس لیے طویل نظم نہیں ہے کہ مصرعوں کی تعداد اسے طول دیتی ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کا موضوعاتی پھیلاؤ اسے طویل نظم کے دائرے میں لے آتا ہے اور پھیلاؤ ایک نظم کی کل میں کہیں زیادہ بامعنی ہو جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی تصویریں بائیسکوپ کے اندر متحرک ہو کر ایک بڑی تصویر بناتی ہیں۔

ایک مصرعے سے دوسرے مصرعے تک پہنچے اور جست لگا کر پہنچنے کا اہتمام نظم میں موجود ہے جس کے سبب پڑھنے والی کی دلچسپی آخر تک قائم رہتی ہے۔ میرا اصرار تھا اور اب بھی ہے کہ اس نظم کا مرکزی کردار جو ’الٹے سیدھے قدموں میں، کبھی یہاں وہاں رکتا ہے اور کبھی چل پڑتا ہے۔ بے خبری کی نیندوں کے آرام سے باہر، سونی دوپہروں کی خالی خاموشی میں، شام کے پھیکے بازاروں میں مگر اک بے مول محبت کی خوشبو سے پریشاں اور اپنے سینے میں سہمے رازوں سے ہراساں، اس کی بیٹھی ہوئی آواز اس بات کی چغلی کھا رہی ہے کہ وہ مسلسل صدائیں دیتا آ رہا ہے اور اسے سننے والا کوئی نہیں۔

میرا سوال تھا کہ کیا اس مرکزی شخص کی لسانی منطق کو اس پوری نظم میں کہیں پس پشت ڈالا گیا تھا؟ اور میں نے یقین کے ساتھ اضافہ کیا تھا کہ بالکل نہیں۔ ایسا میں یقین سے یوں کہہ رہا تھا کہ اسی منطق کے اندر سے وہ تکرار پھوٹی تھی جس کی طرف اوپر اشارے ہوئے۔ اور اسی سے وہ بیانیہ متشکل ہوا جس پر اعتراضات ابتدائیہ نگار کی طرف سے ہوئے۔ اور ہاں جناب اب رہ گئی، تخلیقی عمل سے پچھڑی ہوئی اور کٹی ہوئی، کتابی تنقید اور وہ غلبہ آور تنقید جس کا مظاہرہ ہم دیکھا تھا، اس تنقیدی وتیرے سے تو بیسویں صدی کی عظیم نظم ”دی ویسٹ لینڈ“ تک کو لسانی منطق سے باہر پڑی ہوئی اور سدھائی ہوئی جمالیات کی پاس داری نہ کرنے والی نظم ثابت کیا جا سکتا تھا۔

جی ہاں، یہ بات میں نے ازراہ تفنن نہیں کہہ دی تھی، اس طریقہ تنقید کے ”کاری“ ہونے کو نشان زد کر رہا تھا۔ اور تجربہ کرنے کے لیے کہا تھا کہ یوں کیجئے ”گوگل“ کر کے ”دی ویسٹ لینڈ“ کی کاپی حاصل کیجئے، ایک سے دس تک اوپر والے اعتراضات اس کے نیچے چپکا لیجیے، پہلے نظم پڑھیے اور پھر توجہ سے ان نقاط کو؛ نظم کہیں نہیں ٹھہرے گی۔ تب میں نے اضافہ کیا تھا کہ ان دس میں سے آٹھ نقاط ایسے ہیں کہ بیشتر جدید نظموں کو اس فارمولا تنقید کے حوالے کر کے رد کیا جا سکتا تھا۔

خیر، اس یاد گار اجلاس میں اٹھائے گئے سوالوں کا میں نے مقدور بھر جواب دیا اور گزارش کی تھی کہ درست چلن یہی ہے کہ نظم کی فضا سے مانوس ہوئے بغیر تنقیدی فیصلے نہ دیے جائیں کہ اس طرح ”تخلیق کش“ اور ”خود کش تنقید“ کی راہ ہم وار ہوتی ہے جو ادب کی تفہیم کے لیے ہر صورت میں نقصان دہ رہتی ہے۔

۔ 4 ۔
ابرار احمد کی نظم ”سیربین“ پر گفتگو کے اس سیشن میں ابتدائیہ نگار کا موقف تھا کہ :

1۔ ”نظم کی بنت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک خاص تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں ایک نوع کی روانی بھی ہے۔“

میرا موقف تھا کہ یقیناً اسے نظم کی خوبی کہا جائے گا کہ اس میں ”ایک نوع کی روانی“ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ فن پارے میں روانی محض تیکنیک سے نہیں آتی، اس کے لیے لفظوں کو اپنی نشست پر بیٹھا ہوا ہونا چاہیے، صوتی آہنگ ایک خاص ادا سے چلے ورنہ رخنے ڈالے گا، سطروں سے پیوست معنوی نظام اور ڈیپ اسٹرکچر سے اچھلتا معنی کا دھارا اس روانی کے تاثر سے ہم آہنگ ہو جائے جس ماحول سے نظم اٹھائی گئی ہے اور جن کرداروں سے بیان ہو رہی ہے لسانی قرینہ اس کے مطابق ہو۔

2۔ ”اس نظم کی تکنیک میں ناستلجیائی کیف ان معنوں میں ہے کہ ہم ماضی میں اپنے اپنے گاؤں اور گلی محلہ کے ان ’کرداروں‘ کے ساتھ کھڑے ہیں جن کی حیرانی ابھی زندہ ہے۔“

ناسٹلجیائی کیف کو فاضل ناقد نے درست درست نشان زد کیا تھا تاہم میں نے اس باب میں اضافہ کیا کہ وقت کا لمحہ موجود بہت سیال ہوتا ہے ابھی نہیں تھا، ابھی نہیں ہے۔ وقت رواں رہتا ہے اور ماضی اور مستقبل کے بیچ حال عنقا ہوتا رہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ادب اپنا بیشتر مواد ماضی سے اٹھاتا اور اسے مستقبل میں اچھالتا ہے۔ یہ حیرانی بھی ایسا ہی تخلیقی عنصر ہے جسے نظم نگار نے مستقبل میں اچھالا ہے، یوں یہ نظم محض ناسٹلجیائی بھی نہیں رہتی۔

3۔ ”ماضی کے اس کردار کی سائیکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی؟ اس سوال میں اس نظم کی پوری ساخت پوشیدہ ہے۔“

اور میرا کہنا تھا کہ ہاں یہ سوال اہم ہے کہ ماضی کی سائیکی ہمارے ساتھ اتنی دور کیوں چلی آئی شاید اس لیے کہ آنے والا ہر لمحہ آدمی کے اندر ایک نئی طرح کا بکھراؤ اور شدید اضطراب انڈیل رہا ہے، نظم میں اس کا جواب بدلتے مناظر سے فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

4۔ نظم کی ساخت اپنی جمالیات کو چھپا لینے میں کامیاب بھی ہے۔ ”

میرا سوال تھا، کون سی جمالیات؟ بدصورتی اور بکھراؤ کی بھی اپنی جمالیات ہوتی ہے، جسے نظم نے اپنے اندر گم نہیں ہونے دیا گیا، اپنے مزاج سے ابھارا گیا ہے۔

5۔ ”لہجہ کیوں تبدیل ہوا ہے اس کی تلخی میں جمالیات کا کون سا دائرہ ہے؟“ ۔ ”اس نظم کی مکمل تکنیک میں سلائیڈ شو ایک پوری کیفیت ہے۔ پہلے بند میں تشکیل کار کی بینائی ہمیں محسوس ہوتی ہے لیکن اس کے اسلوب میں وقت کو کردار بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں ایک نوع کی بے تعلقی بھی در آئی ہے۔ اس بے تعلقی میں معنی کے نشانات کہاں واقع ہیں ان کو گرفت میں لینا ضروری ہے۔“

کردار کے مزاج کی تلخی تو آغاز ہی سے نظم کا حصہ رہی تھی، جس کی آواز چیختے چیختے بیٹھ گئی ہو اور اسے کسی جانب سے زندہ انسانوں کا سا ردعمل نہ موصول ہوا ہو تو اس کا کہنا کہ ہے کوئی زندہ، اسی تلخی کو ظاہر کرتا ہے، فاضل ناقد نے کردار کو وقت کے روپ میں بہ جا طور پر دیکھا تھا۔ تاہم یہ وقت کی طرح چپکے سے ماضی کی کھائی میں نہیں گرتا کہ اسے تو صدا دیے چلا جانا ہے، کہ یہی اس کی زندگی کا وظیفہ ہے لہٰذا یہ تلخی اسے اس عمل ِمسلسل سے الگ نہیں ہونے دیتی اور یوں کئی مقامات پر تلخ جھنجھلاہٹ پسپا ہوتی رہتی ہے۔ اس کا یہ عمل مسلسل بے تعلقی کے تاثر کو بھی رفع کرتا ہے جس کی جانب فاضل ناقد نے اشارہ کیا تھا۔

6۔ ”میں نے اس کردار کو توتمی علامت کا مظہر یوں قرار دیا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی حیثیت اس مخفی روح کی سی ہے جس سے ہمیں قوت حاصل ہو رہی ہے۔ اس طور پر یہ کردار ہمارے وقت کے آشوب کو اپنے تشخص میں سلب کرنا چاہتا ہے۔ نظم اپنے ابتدائیہ میں ہی بعض ایسے نشانات کو روشن کرتی ہے کہ ہم کھوئی ہوئی آنکھ کے مرثیہ میں آشوب کے مسلسل صیغہ کو محسوس کر لیتے ہیں۔ ہماری آنکھوں سے کوئی نقشہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس لیے یہ کردار راوی کے بہ طور کتھارسس کی منطق میں اپنے بیانیہ کے آہنگ کو ارضی بنا کر پیش کر رہا ہے۔“

ہاں یہ کردار ایک حد تک ٹوٹم ہو گیا ہے کہ اس سے قوت کشید کی جا سکتی ہے مگر اسے مکمل طور پر ٹوٹمی علامت کہا نہیں جا سکتا کہ یہ ہمارے عہد کے آشوب کو سلب نہیں کرتا نمایاں کرتا ہے، اسے دباتا نہیں اچھالتا ہے، سو یوں ہے کہ اس طرح ہمارا کتھارسس نہیں ہوتا، ایک بے چینی سی وجود میں بھر جاتی ہے، بہ جا کہ نظم زمین سے جڑی ہوئی ہے اور نظر پھیلے ہوئے ارضی آشوب کو اپنے بیانیہ کا حصہ بنا رہی ہے تاہم باہر کا آشوب، اپنے ماحول کے وسیلے سے آدمی کے لہو میں اترتا رہتا ہے۔

ابرار احمد چلے گئے مگر اپنی جو یادیں ہمارے پاس چھوڑ گئے ہیں ان میں سے ایک نظم ”سیربین“ پر یہ مکالمہ بھی ہے۔ ایسا مکالمہ جس میں ہم نے ابرار احمد کی نظم پر بے لاگ بحث کی تھی۔

بشکریہ روزنامہ آج