پارلیمنٹ۔رپورٹ کارڈ۔ 173

پارلیمنٹ۔رپورٹ کارڈ۔

 جب گلی، محلے کی سیاست،سولنگ اور سڑک کی تعمیر قابل ترجیح،تھانہ کلچر کے لئے ان کے درپر حاضری لازم ہو ایسے ماحول میں اراکین پارلیمنٹ کی سوچ بھی محدود رہتی ہے، ترقیاتی فنڈز لینے کی خواہش لب جاں بن جاتی ہے جس کا راستہ انکی جیب کی طرف جاتا ہے جہاں بڑا حصہ بحفاظت انکے اکاوئنٹ آجاتا ہو،ووٹرز خوشی اور غم میں انھیں اپنے درمیان پا کر نہال ہوں، سیاسی کلچر کسی بھی سطح پر آباد نہ ہو، وہاں کے نمائندگان کو کیا پڑی ہے کہ وہ تیاری کے ساتھ پارلیمنٹ میں قانون سازی میں شریک ہوں۔ ایسا ''پارلیمانی بوجھ'' اُٹھانے کے لئے تو انھوں نے بھاری بھر سرمایہ لگا کر الیکشن نہیں لڑا تھا، کسی بھی ممبر کی کارکردگی جانچنے کا ہمارے ہاںکوئی پیمانہ نہیں ہے، اس لئے پارلیمانی پارٹیاں بھی قانون سازی جو عوام کے مفاد میں ہو ا سے سنجیدہ نہیں لیتی، البتہ فافن اور پلڈاٹ جیسے ادارے انھیں آئینہ دکھانے سے باز نہیں آتے یہ انکی ضرورت بھی ہے۔
مذکورہ اداروں نے 15ویں قومی اسمبلی کی پانچ سالہ کارکردگی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے،اس اسمبلی نے دو حکومتوں کا مشاہدہ کیا ہے، عدم اعتماد کے نتیجہ میں شہباز شریف نے قریباً16ماہ بطور وزیر اعظم فرائض انجام دیئے اس مدت میں انکی پارلیمنٹ میں شرکت کی شرح17فیصد رہی، ان کے پیشرو نے ساڑھے تین سال تک یہ عہدہ رکھا مگر انکی پارلیمنٹ میں حاضری کی شرح 9فیصد رہی، پی ڈی ایم کی سرکار نے54جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے تین سال میں 46فیصد قانون سازی کی ہے،پانچ سالوں میں کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے96مرتبہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا،پی ٹی آئی کے اراکین نے فرط جذبات میں اسمبلی سے مستعفی ہونے کا جو غیر دانشمندانہ فیصلہ کیا اس کے نتیجہ میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر بنے انکی اسمبلی میں شرکت کی شرح40 فیصد رہی ہے۔
ناقدین کہتے ہیں اراکین پارلیمنٹ میں موجود بھی ہوں تو بھی اپنی خدمات کو سہولت فراہم کرنے میں ساری صلاحتیں صرف کرتے ہیں۔انکی عدم دلچسپی سرکار کو ایسی قانون سازی پر '' فری ہینڈ'' دیتی ہے جس کا علمی مظاہرہ پارلیمانی مدت پوری کرنے والی حالیہ اسمبلی میں ہوا ہے،دو روز53 قوانین کی منظوری ہی کا فیض ہے کہ صدر مملکت نے13بل بغیر دستخط کے وآپس بھیج دیئے ہیں۔پی ٹی آئی سرکار میں بھی قانون سازی کا قابل رشک کام نہیں ہوا، پارلیمنٹ کی موجودگی میں بھی آرڈیننس سے کام چلایا جاتا رہا ہے۔
ممبرزکا پارلیمنٹ میںمتحرک رول ادا کرنے کا سادہ پیمانہ یہ ہے کہ اس نے کتنی تحاریک پیش کیں، کتنے سوالات کئے اور اجلاسوں میں کتنی شرکت کی اور کتنا وقت اس نے گفتگو کی یا بحث میں حصہ لیا ہے۔
15ویں پارلیمنٹ میں سب زیادہ  توانا آواز اور موثر کردار جماعت اسلامی کے سنیٹیر مشتاق احمد خان کا رہا ہے، پلڈاٹ نے درجہ بندی میں انھیں اول قرار دیا ہے،اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس جماعت سے ان کا تعلق ہے اس میں باضابطہ جمہوریت ہے،پارلیمانی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جماعت اسلامی سے متعلق اراکین پارلیمنٹ میں آئے ہیں انھوں نے ہمیشہ قانون سازی میں مثبت کردار ادا کیا ہے وہ تیاری

کے ساتھ پارلیمنٹ آتے رہے،  پنجاب اسمبلی میں بھی ڈاکٹر وسیم اختر مرحوم جماعت اسلامی کے واحد ممبر تھے پلڈاٹ نے انھیں اسمبلی کا   بہترین ممبر قرار دیا تھا۔ موجودہ پارلیمنٹ میں ڈاکٹر شہزاد وسیم، فیصل جاوید، شیری رحمان اور رضا ربانی،خواجہ آصف کی کارکردگی بھی بہت اچھی رہی ہے۔
پلڈاٹ کے ذمہ داران کا کہنا کہ پارلیمانی پارٹیوں میں مشاورت کا عنصر مفقود ہے اس لئے اکثر اراکین اسمبلی کو یہ علم ہی ہوتا کہ کسی قانون پر انکی پارٹی کا کیا موقف ہے۔ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی راہ میں ایک رکاوٹ پارلیمان کا عملہ بھی ہے جو انھیں انتظامی معاونت اور تحقیق فراہم نہیں کرتا۔
عجلت میں منظور کئے گئے بلوں میں عوامی مفاد کا کوئی بل سامنے نہیں آیا،توقع کی جارہی تھی کہ کرپشن بدعنوانی،صوابدیدی اختیارات،آئین کی بالا دستی کے متعلق پارلیمنٹ قانون سازی کرے گی، مگر یہ سب سراب ثابت ہوا، عمومی تاثر یہ ہے کہ ہر سرکار کی قانون سازی کا راستہ نجانے سیاسی انتقام کی طرف ہی کیوں جاتا ہے۔سینئر پارلیمنٹرین کی تجویز ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک اخلاقی کمیٹی بنائی جائے جس بھی رکن پر کرپشن یا کوئی الزام لگے،اس کے خلاف فوری کاروائی کی جائے،ثابت ہونے پر اسے نکال باہر کیا جائے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر مودی کے رپورٹ ریکارڈ کی بات گشت سنائی دے رہی ہے، جس میں ایک شہری نے انکی آٹھ سالہ کارکردگی کی جانچ پڑتال عالمی درجہ بندی کے تناظر میں کی ہے،مختلف موضوعات کو اس نے معیار بنایا ہے،انسانی آزادی،بھوک،آزاد جمہوریت،مسرت کا اشاریہ وغیرہ  اس نے رائے قائم کی ہے کہ مودی بہت آمرانہ مزاج رکھتے ہیں، انھیں چاہئے کہ آئین کا احترم اور اقدار کی پاسداری کریں۔
کاش! ہمارے ہاں بھی سکول کے بچوں کے رزلٹ کارڈ کی طرح ہر ممبر کا رپورٹ کارڈ مرتب ہو،چونکہ ہمارے ہاں پارٹی پالی ٹیکس  میںجمہوری کلچر تاحال پنپ نہیں سکا ہے ووٹرز اپنے لیڈر کی کارکردگی اعدادو شمار کی بجائے دل سے جذباتی انداز میں پرکھتے ہیں، ووٹرزکے لا شعور میں اس کی کارکردگی چارٹ بنا ہوتا ہے۔اس کو ہی وہ درست مانتا ہے۔
 جب کپتان نے اپنے اراکین سمیت پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے اور دو صوبائی حکومتیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو ہمارا گمان تھا کہ پارٹی ہی میں سے اس فیصلہ کو وآپس لینے کے لئے کہا جائے گا، مگر کارکنان سمیت سب اس عمل کا دفاع کرتے نظر آئے اگرچہ ہرسیاسی پارٹی یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، مگر اسکی ورکنگ اس کے عمل کو ثابت کرنے میں ناکام نظر آتی ہے،عوام اپنے نمائندگان کو منتخب کرکے اسی لئے بھیجتے ہیں کہ وہ اس ادارہ کی توقیر میں اضافہ کا باعث بنے گے، مگر پانچ سال کے بعد قانون سازی، عوامی حقوق کے تحفظ کا جو میزانیہ بنتا ہے وہ مایوس کن ہوتا ہے۔پلڈاٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔
 بہت سے ایسے اراکین بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں، جو پورے پارلیمانی عہد میں لب کشائی کرنے کی''سعادت'' ہی حاصل نہیں کرتے مگر وہ اپنی مراعات برابر لیتے ہیں، ہمارے ووٹرز کو بھی انڈین شہری کی طرح ہرممبر کا رپورٹ کارڈ بنانا چاہئے جب وہ حلقہ میں ووٹ مانگنے آئیں تو
 پختہ نالی، سڑک ،تھانہ، کچہری کی سیاست سے بالا تر ہو کر انکی کارکردگی پر ان کا احتساب کیا جائے تاکہ پارلیمنٹ میں عوامی مفادات ہمیشہ
 مقدم اور پارلیمنٹ سپریم رہے۔

بشکریہ اردو کالمز