قارئین کرام! شاید آپ میں سے کچھ کو یاد ہو کہ میں نے کوئی تین چار سال قبل ایک آئین نو ’’پاور آف کوئسچن‘‘ کے عنوان سے انسانی معاشرتی زندگی میں ’’سوال‘‘ کی اہمیت اور سوال اٹھانے کے کمال حصولات پر تحریر کیا تھا ۔’’یہ آپ میں سے کچھ کو یاد ہونے کی‘‘ مجھے غلط فہمی نہیں لیکن کبھی کبھی کوئی خصوصاً میرے شاگرد رہے قاری مجھے کسی میرے کالمز آرکائیو میں محفوظ کسی ایسے عنوان (ہیڈ لائن) کا حوالہ دے کر بات کرتا/کرتی ہے جو میرے اپنے ذہن سے بھی محو ہو چکا ہوتا ہے اور نشاندہی کرنے والا/ والی حوالہ مکمل کرتا ہے تو سب کچھ یاد آ جاتا ہے۔ لیکن ’’پاور کوئسچن‘‘ کے عنوان سے مکمل کالم کے علاوہ بھی خاکسار سوال اٹھانے کی اہمیت کی یاد دہانی وقتاً فوقتاً ’’آئین نو‘‘ میں کرتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کی تیز تر ترقی کی وجہ اب کوئی راز نہیں رہی، اب یہ کھلا راز اصل میں ’’آر اینڈ ڈی‘‘ (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ) ہے۔ اتنا ضرور ذہن نشین کرلیں کہ ہر ریسرچ (تحقیق) کا آغاز مخصوص سوال اور اس سے جڑے (سوالات) سے ہوتا ہے، علم و عمل کے زور پر جوابات کی تلاش ڈویلپمنٹ پراسس مانا جاتاہے اور جواب یا جوابات (CONELUSION)نیا نالج تسلیم کیا جاتا ہے جو اگر اطلاقی نوعیت کا (APPLIED) ہو تو ریسرچر ترقی کی دہلیز پر پہنچ جاتا ہے، جو بھی اس نئے (ایمرجڈ) نالج کا اطلاق جتنی جلدی اور بمطابق ضرورت کرے گا وہ متعلقہ شعبے میں اتنی اور تیزی سے ترقی کرے گا۔ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ نے غور و خوض (فکر) کو افضل عبادت قرار دیا ہے جو سوال و جواب کے سلسلے میں حکم دیتا ہے۔ یہ ہی دنیا میں رب کریم کی بیش بہا رحمتوں تک اور بعد از مرگ بھی کامیابی کا صراط مستقیم ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم احکامات الٰہی کی تکمیل کی کتاب مقدس کا اور سنت رسولﷺ اس کے مطلوب زندگی گزارنے کا مکمل عملی نمونہ ہے، احادیث کے مقدس ذخیرے کا بڑا حصہ نبی کریمؐ سے صحابہ کرامؓ کے سوالات کے جوابات ہی سے تیار ہوا۔ آپؐ نے ہر مرحلے پر سوال کی مکمل حوصلہ افزائی فرمائی۔ انسانی تہذیب کے ارتقا میں حکومتوں اور حکمرانوں سے سوال و جواب کی حوصلہ افزائی اور قبولیت عامہ کا آغاز ظہور اسلام سے ہی ہوا۔ اس ضمن میں خلیفہ وقت حضر ت عمرؓ سے بدو کا سوال شہرہ آفاق بن گیا کہ آپ نے اتنالمبا کرتا کیسے بنایا؟ جبکہ مال غنیمت کی تقسیم میں تو سب کو ایک ایک چادر ملی تھی ، خلیفہ کے ماتھے پر شکنوں کے بغیر جواب کہ میرے کرتے میں میرے بیٹے کے حصے کی چادر بھی شامل ہے، ’’عوام کے ہاتھوں حاکم کے احتساب‘‘ کی ایسی مثال بنا کہ آج جو یہ دنیا میں احتسابی نظام اور اداروں کے بغیر گڈگورننس کا کوئی تصور نہیں جو کاروبار حکومت کیلئے ’’گورنمنٹ اینڈ پالیٹکس‘‘ کے ماڈرن ڈسپلن کے نالج کا لازمہ ہے، الگ ہے کہ ’’اسلامیہ جمہوریہ پاکستان‘‘ کے موجود ’’منتخب ایوان‘‘ نے ’’آمدنی سے زائد وسائل‘‘ کی پوچھ گچھ و پڑتال کا قانون ’ٹیلر میڈ ‘قانون سازی کرکے خارج کردیا۔
آئین پاکستان کی روح کے برعکس موجود پاکستانی اولیگارکی (حکومت پر قابض مافیہ) نے ہارس ٹریڈنگ کی مدد سے راج ہتھیاتے ہی اولین اقدامات میں بھی آغاز اپنے خلاف جاری احتسابی عمل کی فوری بیخ کنی سے کیا۔ ایام جوانی میں نیوز رپورٹنگ سے لے کر میڈیا ایجنڈا سیٹنگ، پلاننگ، کنسلٹینسی اور جرنلزم کی جملہ اصناف کی پریکٹس کے شعروں کے تجربے میں ملکی سیاسی جماعتوں اور آمرانہ حکومتوں کے مجموعی اور انفرادی رویے کے میڈیا جانب رویے کا جو طویل مشاہدہ اور عملی مطالعہ ناچیز کو ہوا اس میں بڑے افسوس کے ساتھ نشاندہی کرنی پڑ رہی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں سب سے سوال بیزار جماعت ن لیگ ہے۔ یہ میرا (اپنے تئیں) مضبوط تحقیقی مفروضہ اور ریسرچ کوئسچن ہے جس پر کوئی پی ایچ ڈی، ایم فل اسکالر تحقیق کرے تو یقیناً میرا یہ ریسرچ کوئسچن درست ثابت ہو کر جواب (ملکی صحافی نالج) بن کر اس میںکئی اور دلچسپ حقائق کے ساتھ اضافہ کرے گا۔ جس سے ن لیگ کی رہنمائی بھی ہوگی۔
خاکسار نے زیر بحث نوعیت کے صحافی سوال کی تازہ ترین گستاخی چند ماہ پہلے بڑے درد دل سے کی۔مقصد سیاسی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر معاشی بحران کے حل کی تلاش میں بظاہر سخت مصروفِ عمل وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب سے تعاون تھا۔ اپنی یادداشت میں نواز شریف تیسرے دور کے محفوظ ایک اہم حوالے کو دوبارہ اپنے کالم میں دوہرا کر اور پھر اس کے بھی فالو اپ سے صدر مملکت جناب عارف علوی اور ڈار صاحب کو متوجہ کرنے کی جرأت کی۔ دونوںہی کا حوالہ معاشی بحران کو حل کرنے کی جاری کوششوں میں بہت ریلیونٹ تھا۔ یہ کہ ڈار صاحب نے ایم این اے عارف علوی کے سوال پر اسمبلی اجلاس کے وقفہ سوالات میں تصدیق کی تھی کہ یہ درست ہے کہ پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں۔ ڈار صاحب نے بہت مفصل جواب نیم تحقیقی رپورٹ کی شکل میں پیش کیا، یہ ہی وجہ تھی کہ یہ میرے ذہن میں محفوظ ہوگیا۔ رپورٹ دیتے وزیر خزانہ نے قوم کو خوشخبری سنائی تھی کہ ہم نے سوئس بینکوں میں ناجائز رقومات تک پہنچ کیلئے قانون میں گنجائش کا فائدہ اٹھاتے سوئس حکام سے رابطہ کیا ہے اور پیش رفت ہے کہ سوئس حکام اگست میں پاکستان آئیں گے تو ابتدائی بات چیت ہوگی۔ ناچیز نے اس سارے معاملے کے تادم گول رہنے پر اپنے دو کالموں میں سوال اٹھائے اور ہر دو بالائی ریاستی عہدوں کو مخاطب کرتے استفسار کیا کہ ان 200 بلین ڈالر کی واپسی کی کوششوں کو پاکستانی معاشی بحران کم کرنے کی کوششوں میں کیوں نہیں شامل کیا جارہا؟ کوئی جواب نہ ملا نہ کچھ ہوا۔ کالم میں اٹھائے گئے سوال سے زیادہ کھلا اور سرعام کوشش اور بندہ ناچیز کیا ہو سکتی تھی، وہ بھی ٹھوس اور PUBLISHED اور اسمبلی میں بیان کئے گئے حقائق کی بنیاد پر۔ حیرت ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی ساڑھے تین سال میں اس پر کوئی کام نہ کیا جبکہ اسد عمر نے عہدہ سنبھالنے پر اس پر ٹاسک فورس بنانے کابھی کوئی بیان دیا تھا۔ ناچیز کا سوال جوتی کی نوک پر لکھا گیا۔ کوئی بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔
قارئین کرام اور صحافی بھائیو! خاکسار نے یہ سب کچھ وزیر خزانہ کے گزشتہ روز ایک رپورٹر کے آئی ایم ایف سے مذاکرات سےمتعلق ایک سال پر برہم ہی نہیں تھپڑ رسید کرنے جیسے ’’حسن سلوک‘‘ کے تناظر میں لکھا ہے۔ سب مل کر سوچو کہ پھیلتے اندھیرے میں سوال کی گنجائش کیسے بنائی جائے؟ آخر سوئس حکام نےبھی تو قانون میں لچک پیدا کر کے منی لانڈرنگ سے ان کے بینکوں میںپڑے پیسے کو غریب ملکوں کوواپس کرنے کا راستہ نکالا ہے۔ یہ تھپڑ وزیر خزانہ کی حتمی ناکامی کا اعلان ہے، جو رپورٹر شاہد کے سوال سے ہوا۔