فلسفہ ِ خودی اور حقیقی آزادی 119

فلسفہ ِ خودی اور حقیقی آزادی

دو تین دن ہوئے ہیں جب وزیر اعلیٰ پنجاب نے مجھ سے مجلسِ ترقی ادب کا انتظام و انصرام واپس لے کر’’ بزم اقبال ‘‘کی ذمہ داری سونپ دی ہے ۔میں نے تھوڑا سا احتجاج کیا تو ایک دوست نے کہا ’’تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ یہ جس اقبال کا پاکستان ہے تمہیں ا س اقبال کے ادارے کا سربراہ بنادیا گیا ہے۔‘‘ میں دیر تک سوچتا رہا کہ کیا واقعی یہ اقبال کا پاکستان ہے۔ہر مرتبہ ذہن نے یہی کہا ،نہیں نہیں یہ اقبال کا پاکستان نہیں ہو سکتا ۔اقبال کا پاکستان تو اُس شاہین کی سرزمین تھی جس کی فطرت میں ذخیرہ اندوزی ممکن نہیں۔جس کا نشیمن اسلام آباد میں وزیر اعظم سیکرٹریٹ کے گنبد نہیں، سیاچن کے برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں ہیں ۔وہ آخری سانس تک عالمی بینکوںکےمردار بدن سے زندگی کی خیرات نہیں مانگ سکتا۔اس کے لئے پلٹنا،جھپٹنا،جھپٹ کر پلٹنا ، لہو گرم رکھنے کا بس اک بہانہ ہے ۔اس نے کسی امریکہ سے کبھی اپنی غیرت کا سودا نہیں کیا۔وہ پرواز سے تھک کرکبھی نہیں گرا۔اس کی درویشی میں کوئی عیاری پوشیدہ نہیں۔ اس کی خودداری میڈیا کی شہ سرخیوں سے ماورا ہے۔ اس کی بے نیازی چور دروازوں سے اقتدار کے ایوانوں میں کبھی داخل نہیں ہوتی۔ افسوس صد افسوس کہ ہم راہِ و رسم شاہبازی بھول گئے ہیں ۔یہ شاہینوں کی سرزمین کرگسوں کی دھرتی بن چکی ہے ۔یہ خدا کی بستی نہیں طلبِ زر کی قربان گاہ سے ملحقہ قبرستان ہے۔اب یہ اقبال کے نغموں اورزمزموں کی نہیں آہوں ، کراہوں اور چیخوں کی آبادی ہے ۔یہاں صبحِ عید بھی شامِ محرم لگتی ہے۔ یہ پاکستان ارشد شریف کا ماتم کدہ ہے۔عمران خان کی طرف بڑھتی ہوئی گولیوں کی سنسناہٹ ہے۔ یہاں زندگی کی شامِ غریباں بپا ہے ۔سسکیوں کاشور ہے۔بین کرنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔وہ انقلاب وہ تبدیلی جس کے علمبردار حضرت اقبال تھے ۔وہ ابھی تک راستے میں ہے ۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

فرشتوں کا یہ گیت ابھی تک ادھورا ہے ۔ مجھے اس کا سازینہ ہوائوں میں ہلکا ہلکا سنائی دینے لگاہے ۔ مزدوروں ، مجبوروں،دہقانوں اوربے روزگاروں کا لہو سوزِ یقین سے گرمانے کا وقت آنے والاہے ۔وہ جن کے اوقات بہت تلخ ہیں ،سرمایہ داری اور جاگیرداری کے نقشِ کہن کو مٹانے والے ہیں۔جمہور کی سلطانی کا دورِمنور زیادہ دیر روکا نہیں جا سکتا ۔ سرمایہ پرستی کا سفینہ آخر کار ڈوب جائے گا ۔سونے کے قفس کی کڑیوں کو مجبورتوڑ دیں گے ۔

اقبال کا فلسفۂ خودی جسے آج کے دور میں ہم حقیقی آزادی سے تعبیر کررہے ہیں ،وہ نعروں کی شکل میں سڑکوں پر گونج رہا ہے ۔عوام جن کے سروں سے چھتیں اتارلی گئی ہیں،جن کے جسم کے لباس لوٹ لئے گئے ہیں ۔جن کی گاڑیوں سے پٹرول نکال لیا گیا ہے ۔حتیٰ کہ جن کی رائے تک چرالی گئی ہے۔وہ چپ نہیں ہیں ۔ ان کی خاموشی میں بہت شور ہے ۔

فکرِ اقبال کے انقلاب کی روشنی مسلسل بڑھ رہی ہے۔اب اجالوں کے جلوس نہیں روکے جا سکتے۔سڑکوں پر اندھیروں کے جتنے بھی کنٹینر کھڑے کر دئیے جائیں شعاعیں اپنے راستے تراش لیتی ہیں۔تبدیلی وقت کے ماتھے پر لکھی ہوتی ہے۔ رات جتنی بھی طویل ہو جائے اختتام پذیر ضرور ہوتی ہے۔ لوگ گھروں سے نکلنے والے ہیں۔ منظر بدلنے والا ہے ۔بقول اقبالؔ

دلوں میں ولولۂ انقلاب ہے پیدا

قریب آگئی شاید جہانِ پیر کی موت

مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تبدیلی کے بعد پاکستان میں جونظام نافذ کیا جائے اس سے اقبال کے خواب کو حقیقی تعبیر ملے۔دنیا کے دو معروف نظام اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔نظامِ اشتراکیت ناکام ہوکرسائبیریا کے برف زاروں میں دفن ہوچکا ہےاور سرمایہ داری کے عفریت نے انسانیت کا بند بند مضمحل کررکھاہے،کیا دنیا کو کوئی نظام نہیں دیا جا سکتا جو اسے پھولوں بھری وادی میں لے جائے ، ہمیں اس بات کاشور مسجد وںکے میناروں سے لے کر قومی اسمبلی کی دیواروں تک ہر طرف سنائی دیتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ء حیات ہے،مگر کیسے؟یہ آج تک کسی نےنہیں بتایاکہ اسلام کا طرزِ حکمرانی کیا ہے، اسلام کیسی جمہوریت کا علمبردار ہے اور موجودہ عہد میں اس کی شکل و صورت کیاہو سکتی ہے ؟اسلام کا معاشی نظام کیا ہے اور آج کی جدید تر دنیا میں کیسے قابلِ عمل ہو گااور بین الاقوامی معاشی نظام سے کس طرح مربوط ہو سکے گا،اسلامی تعزیرات کو لمحۂ موجود میں کیسے نافذ کیا جاسکتا ہے۔ عدلیہ کیسے کام کرتی ہے۔اسلام میں زراعت کا نظام، صحت عامہ کا نظام ،تعلیم کا نظام ، آبپاشی کا نظام کیاہے،اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پاتا ہے؟ میرے خیال میں علامہ اقبال کے پاس ان تمام سوالات کے جواب موجود ہیں ۔سوچ رہا ہوں کہ بزم ِ اقبال کے تحت اہل ِ علم و دانش کو جمع کرکے کچھ ایسا کیا جائےجو ہمیں واضح طور پر بتائے کہ اقبال کا پاکستان کیسا ہونا چاہئے۔اس میں اقبال کے خطبات ،خاص طور پر ’’اسلامی تشکیلات ِ الٰہیہ‘‘اور ان کی فارسی شاعری بھرپور رہنمائی فراہم کر سکتی ہے ۔ہم نے ستم تو یہ کیا ہے کہ فارسی زبان ہی اپنی زندگیوں سے نکال دی ہے کہ کہیں آنے والی نسلیں اقبال کی اصل فکر تک نہ پہنچ جائیں اور اقبال کے انگلش خطبات کو ترجمہ میں اتنا مشکل بنا دیا ہے کہ اچھا بھلا پڑھا لکھا آدمی بھی ان سے درست مفاہیم نہیں نکال سکتا۔کہنے کامطلب یہ ہے کہ اگرچہ اقبال کو بھرپور سرکاری سرپرستی حاصل ہے مگرفکر ِ اقبال سے قوم ِ اقبال واقف نہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز