پیسنجر / بچہ : یہ دنیا کا واحد مسافر ہے جو سر کے بل سفر طے کرتا ہے اور وہ بھی اپنے بل بوتے پہ نہیں بلکہ کچھ بچے دانی کا دھکا اور کچھ ماں کی نیچے کی طرف دھکیلنے کی کوشش۔
اس سفر میں بچے کا جسم اور سر خاص پوزیشن میں رکھنے کی ضرورت ہے اور اگر بچہ ایسا نہ کر سکے یا ایسا نہ ہو سکے تو بچہ نیچے کی طرف نہیں کھسکتا باوجود اس بات کے کہ بچے دانی اور ماں مسلسل پریشر ڈال رہی ہوتی ہیں۔
بچے کی پوزیشن جاننے کے لیے کولہے کی ہڈی میں کچھ لینڈ مارک مقرر کیے گئے ہیں جو یونیورسل طور پہ طے ہیں ( پچھلے مضمون میں بتایا جا چکا ہے ) ۔ بچہ جب بھی ان لینڈ مارکس تک پہنچے، ڈاکٹر ایک چارٹ پہ پوزیشن کا نشان لگاتی ہے۔ بچے کے سر میں بھی مختلف نشان مقرر کیے گئے ہیں جنہیں ڈاکٹر ویجائنا میں میں دو انگلیوں کے ذریعے ٹٹول کر فیصلہ کرتی ہے کہ بات کہاں تک پہنچی؟
اگر بچے کے سر کی بجائے ٹانگیں نیچے ہوں تو اس پوزیشن کو الٹا بچہ یا Breech کہا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں بچہ ویجائنا کے راستے پیدا کرنا محفوظ نہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بچے کا جسم باہر نکل آتا ہے اور سر ماں کے کولہے کی ہڈی میں پھنس جاتا ہے۔ اگر پانچ چھ منٹ تک بچہ پیدا نہ کروایا جا سکے تو بچے کی موت واقع ہو جاتی ہے جو ایک افسوسناک بات تو ہے ہی مگر بچے کو کیسے باہر نکالا جائے، یہ مسئلہ پھر بھی باقی رہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے سندھ کے ایک شہر چھاچھرو کی خبر پڑھی تھی جس میں لیڈی ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا تھا کہ وہ بچہ باہر نہیں نکال سکی۔ جس پہ ہم نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر ہے یا جادوگرنی؟ جو کرے چھو منتر اور بچہ باہر۔ ایسے حالات میں سیزیرین کر کے پھنسا ہوا سر نکالا جاتا ہے۔
بچہ پیٹ میں آڑا Transverse بھی ہو سکتا ہے یعنی ماں کے پیٹ میں ایک بغل کی طرف سر اور دوسری طرف ٹانگیں۔ ایسے بچے کو ویجائنا کے راستے پیدا کروانا ناممکن ہے۔ صرف سیزیرین کے راستے ہی بچہ نکالا جا سکتا ہے اور یہ بھی سن لیجیے کہ یہ سیزیرین بھی آسان نہیں ہوتا اس لیے کہ بچے دانی کھول کر جب ہاتھ اندر ڈالا جائے تو بچہ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہوتا ہے یعنی بچے کا بازو اور کندھا۔ اور بچے کو بازو یا کندھے سے پکڑ کر نہیں کھینچا جا سکتا۔
راستے کی مشکلات میں مسافر کا وزن بہت اہم ہے۔ وزن اگر چار کلو سے اُوپر ہو تو ویجائنل ڈیلیوری مشکل ہو جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں بچہ پیدا تو ہوجاتا ہے لیکن ویجائنا بری طرح کٹ پھٹ جاتی ہے۔ آپ خود سوچیے ویجائنا جیسی نرم و نازک جگہ سے چار کلو کا بچہ برآمد ہونا؟ ہمارے یہاں نہ جانے خواتین موٹے بچے کی خواہش مند کیوں ہوتی ہیں؟
ایک اور مسئلہ بچے کے کندھے ہیں۔ جن ماؤں کو شوگر ہوتی ہے ان بچوں کے کندھے ابنارمل حد تک بڑے ہو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ ایمرجنسی ہوتی ہے کہ سب ڈاکٹروں کے چھکے چھڑوا دیتی ہے۔ بچے کا سر باہر نکل آتا ہے اور کندھے کولہے کی ہڈی میں پھنس جاتے ہیں Shoulder Dystocia۔ عام طور پہ تاثر یہ ہے کہ بہت زیادہ کھینچا تانی سے کندھے نکل آئیں گے لیکن یہاں مسئلہ کھینچا تانی سے حل نہیں ہوتا۔ بچے کو پیدا کروانے کے لیے بہت تجربہ کار ڈاکٹر ہی بچے کے کندھوں کو ویجائنا میں ہاتھ ڈال کر گھما سکتی ہے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ کندھے باوجود سینئیر ڈاکٹر کی موجودگی کے، اپنی جگہ سے ہلنے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سیزیرین کر کے ویجائنا سے لٹکتا ہوا بچہ اوپر کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ لیکن اس دوران بچے کا زندہ رہنا بہت مشکل ہے کیونکہ باہر لٹکے ہوئے سر اور گردن تک آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔
بعض اوقات ان کنڈیشنز میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا مگر پھر بھی بچہ باہر نہیں نکلتا۔ بچے کا سر ویجائنا میں تین گھنٹے سے پھنسا ہوا ہے اور بچہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ ایسی صورت میں سیزیرین کریں یا اوزار لگائیں، دونوں فیصلے مشکل ہیں۔ سیزیرین کریں گے تو ویجائنا میں پھنسا ہوا سر پیٹ میں کھینچنا اور اوزاروں کے ذریعے ویجائنا سے باہر کی طرف کھینچنا۔ مت پوچھئے کہ ڈاکٹر کی کیا حالت ہوتی ہے؟ ایسے سیزیرین کسی سینئیر ڈاکٹر کو کرنے چاہئیں تاکہ ویجائنا کو کم سے کم نقصان پہنچے۔
اگر اوزار لگانے کا فیصلہ کیا جائے تب بچے کی کھوپڑی پر ایک پمپ لگا کر باہر کھینچا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ تین بار کھینچنے کے بعد بھی اگر بچہ نہ نکلے تو اوزاروں کی ناکامی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کیا جانے والا سیزیرین ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اوزاروں سے کھینچا جانے والا سر ویجائنا میں مزید پھنس چکا ہے اور اب جب اسے سیزیرین کر کے نکالنے کی کوشش کی جائے گی تب بھی وہ اپنی جگہ سے یا تو ہلے گا نہیں اور اگر کھسکا بھی تو کچھ نہ کچھ پھاڑ کر ہی اوپر آئے گا۔
مشکل یہ ہے کہ ویجائنا گوشت پوست سے بنی ایک ایسی تنگ سرنگ ہے جس کے اردگرد خون کی شریانوں کا جال ہے۔ بچے کے سر کی ہڈی اور ڈاکٹر کا ہاتھ ویجائنا کے چیتھڑے اُڑا دیتا ہے۔
ویجائنا کے منہ سے تو سب واقف ہی ہیں اسے انگریزی میں انٹروائٹس introitus کہا جاتا ہے۔ حجم کا اندازہ تو ہو گا ہی آپ کو کہ بعض اوقات جماع تک مشکل سے ہوتا ہے وہاں سے زیادہ تر موقعوں پر بچے کو نکالنا اس میں کٹ دیے بنا ممکن نہیں ہوتا۔ تین چار انچ لمبا یہ کٹ ویجائنا کی ایک دیوار میں دیا جاتا ہے اور جلد کے نیچے سب مسلز بھی کاٹے جاتے ہیں۔ جلد کے اوپر نظر آنے والے ٹانکوں کو آپ پانچ گنا تصور کر لیں جو اندر لگائے جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔
کھینچا تانی میں ڈاکٹر کے دیے کٹ کے علاوہ بھی ویجائنا اندر سے پھٹ جاتی ہے جس سے بہت زیادہ خون کا اخراج ہونے لگتا ہے اگر فوراً نہ پکڑا جائے تو خاتون کی حالت غیر ہو سکتی ہے۔ بہت گہرائی میں پھٹنے والی ویجائنا کو آپریشن تھیٹر میں بے ہوشی دے کر دیا جاتا ہے کہ وہاں تک ہاتھ بہت سے اوزار استعمال کیے بنا پہنچ ہی نہیں پاتا۔
ایک اور اہم پیچیدگی پاخانے اور پیشاب کے نظام سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر بچہ بہت دیر ویجائنا میں پھنسا رہے تب مریضہ کے پاخانے اور پیشاب والے اعضا بچے کے سر کی وجہ سے پڑنے والے پریشر کے نتیجے میں گل سڑ کر جھڑ جاتے ہیں اور مریضہ کا پیشاب اور پاخانہ ویجائنا کے راستے خارج ہونے لگتا ہے۔
دوسری صورت میں اگر ویجائنا میں بچے کا سر زیادہ دیر نہ پھنسا رہے مگر introitus سے نکالتے وقت پاخانے کے سوراخ یعنی مقعد پر پریشر پڑ جائے تو مقعد کے پیچ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں خاتون کا پاخانہ نکلے گا تو اپنی اصلی جگہ یعنی مقعد سے ہی مگر اس پہ کوئی کنٹرول نہیں ہو گا۔ ہوا اور پاخانہ کہیں بھی، کسی بھی وقت۔
ہمیں لوگ بھاشن دیتے نہیں تھکتے کہ باہر کے ملکوں میں ویجائنل ڈلیوری زیادہ ہوتی ہے، پاکستان میں کیوں نہیں؟
جناب، دنیا نے زچہ و بچہ کی صحت اور حفاظت کے لیے اکیسویں صدی کے ساتھ قدم سے قدم ملائے ہیں۔ وہ ہماری طرح اس بات پہ یقین نہیں رکھتے کہ بچہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ صدیوں سے عورتیں پیدا کرتی چلی آ رہی ہیں، اب بھی کر لیں گی۔
لیکن کیا صدیوں کی تاریخ بات کرتی ہے ان سب عورتوں کی جنہوں نے زچگی کے عمل میں موت کو گلے لگایا؟ یا پھر وہ جو بچ تو گئیں مگر زندہ درگور ہو گئیں؟