گزشتہ دنوں سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی مرکزی جامع مسجد کے سامنے قرآن پاک کی بے حرمتی اور اُسے نذر آتش کرنے کے دلخراش واقعے پر غم وغصے کی لہر نے پاکستان سمیت پورے عالمِ اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ المناک واقعہ عیدالاضحی کے روز اُس وقت پیش آیا جب مسلمان جامع مسجد میں نمازِ عید ادا کررہے تھے، اس دوران ایک عراقی نژاد سوئیڈش بدبخت نے مسجد کے سامنے قرآن پاک کے مقدس اوراق کو پھاڑا اور بے حرمتی کرنے کے بعد اُنہیں نذر آتش کردیا۔ واقعہ کا المناک پہلو یہ ہے کہ ملعون شخص نے 3 ماہ قبل سوئیڈن پولیس سے جامع مسجد کے باہر مسلم مخالف مظاہرہ کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن اجازت نہ ملنے پر وہ اسٹاک ہوم کی عدالت جاپہنچا جس پر عدالت نے سوئیڈن پولیس کے فیصلے کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے اُسے مسلم مخالف مظاہرے کی نہ صرف اجازت دے دی بلکہ پولیس کو اس مذموم عمل کے دوران مذکورہ شخص کی حفاظت کی ذمہ داری کا فریضہ انجام دینے کے احکامات بھی جاری کئے۔ عدالتی فیصلے پر مرکزی جامع مسجد کی انتظامیہ نے پولیس سے درخواست کی کہ وہ ملعون شخص کے مظاہرے کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کردے لیکن پولیس نے مسجد انتظامیہ کی درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا اور نتیجتاً یہ دلخراش واقعہ پیش آیا جس پر دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔
سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ 6 ماہ قبل جنوری میںبھی اسی طرح کے واقعے میں ایک انتہا پسند گروپ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے دوران قرآن پاک کا نسخہ نذر آتش کیا گیا تھا۔اگرچہ حالیہ واقعے کے بعد سوئیڈن حکومت نے یہ کہہ کر اس عمل سے خود کو بری الذمہ قراردیاہے کہ مذکورہ واقعے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں مگر یہ کیسےممکن ہے کہ سوئیڈن کی عدالت میں قرآن پاک نذر آتش کرنے کی پٹیشن دائر ہوتی ہے اور عدالت، مسجد کے سامنے قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دیتی ہے جبکہ پولیس، قرآن پاک کی بے حرمتی کرنیوالے شخص کی حفاظت کیلئے چوکس رہتی ہے ،جس سے انتظامیہ اور ملعون شخص کی ملی بھگت ظاہر ہوتی ہے۔یہ امر بھی قابل افسوس ہے کہ مذہب اسلام کی مقدس ترین کتاب کو نذر آتش کرنے کے دونوں واقعات میں ملوث افراد کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجرموں کو حکومتی پشت پناہی حاصل ہے۔
سوئیڈن واقعہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل چھلنی ہوگئے ہیں اور سانحہ کی پاکستان سمیت درجنوں مسلم ممالک نے شدید مذمت کی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر پورے پاکستان میں نماز جمعہ کے بعد ’’یوم تقدیس قرآن‘‘ منایا گیا۔افسوسناک واقعےپر مراکش اور اردن نے سوئیڈن سے اپنے سفیر احتجاجاً واپس بلالئے ہیں۔ اسی طرح 57 اسلامی ممالک کی آرگنائزیشن او آئی سی نے ہنگامی اجلاس کے اعلامیے میں مستقبل میں قرآن پاک کی بے حرمتی روکنے کیلئے اجتماعی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے شدید غم و غصے اور عالمگیر سطح پر احتجاج کے بعد سوئیڈن حکومت نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے قرآن پاک اور دیگر مقدس کتابوں کی بے حرمتی کو جرم قرار دینے پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔
سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا حالیہ سانحہ آزادی اظہار نہیں بلکہ دہشت گردی اور اسلامو فوبیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ آزادی اظہار رائے اور احتجاج کے نام پر مقدس کتاب کی بے حرمتی، مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے اورانہیں تشدد پر اکسانے کے عمل کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یورپ میں اسلاموفوبیا کے واقعات کا تسلسل کے ساتھ پیش آنا سنگین سوال اٹھاتا ہے جس میں حالیہ دنوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران یورپ میں ایک ہزار سے زائد مسلم مخالف واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ مغرب ہمیشہ مسلم دہشت گردی کی بات کرتا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ مغرب کی اسلام دشمن پالیسیاں ہی دہشت گردی کو جنم دیتی ہیں۔ اگر مسجد کے سامنے پیش آنے والے سانحہ کے موقع پر سوئیڈن کی پولیس ملعون کو تحفظ فراہم نہ کرتی اور کوئی مسلمان اُسے کیفر کردار تک پہنچا دیتا تو کہا جاتا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔مذہبی منافرت کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یورپ میں ہولوکاسٹ سے متعلق قوانین بنے ہوئے ہیں جس کیخلاف ورزی پر سخت سزائیں مقرر ہیں لہٰذا دنیا کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب قرآنِ پاک اور نبی کریمﷺ کی گستاخی پر بھی قوانین بنائے جانے چاہئیں۔
قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کاسرچشمہ ہے اور ہمیں دل و جان سے عزیز ہے جس کی بے حرمتی کوئی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔ سوئیڈن واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ اسلاموفوبیا کا شکار ہے۔ مسلم رہنمائوں کو چاہئے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اسلاموفوبیا اور مغرب کے اسلام مخالف رویے کیخلاف لائحہ عمل تیار کریں تاکہ یہ ممالک ہولوکاسٹ کی طرح ایسے قوانین مرتب کریں جن کی رو سے پیغمبر اسلامﷺ اور قرآن پاک کی توہین کو بین الاقوامی جرم قرار دیا جائے۔