اس بار ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لیہ کے یونین کے انتخابات میں بہت سے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں،بلکہ اگر یہ کہاجائے کہ اس الیکشن میں بہت سے چہروں کا نقاب اُتر گیا ہے تو بے جا نہ ہوگا،فرینڈز یونائیٹڈ گروپ ایک لمبے عرصے بعد شکست سے دوچار ہوا ہے،آپ دیکھیں کہ قیصر عباس مگسی جو ایم پی اے رہا اور اقتدار کے خوب مزے لوٹے،ضلعی نظامت میں قیصر خان مگسی نے بطور تحصیل ناظم چوبارہ اقتدار کو خو ب انجوائے کیا قیصر خان مگسی جس نے اپنی ریاست میں سرداری نظام قائم کر رکھا ہے اپنی آبائی یونین کونسل نواں کوٹ سے ہار گئے اور اگر سردار شہاب الدین خان سیہڑ قیصر خان مگسی کا ہاتھ نہ تھامتے تو ان کا سورج غروب ہوگیا تھا شہاب الدین نے دوستی کی لاج رکھتے ہوئے یونین کونسل سے ہارے ہوئے سردار کو تحصیل چوبارہ کا تحصیل ناظم بنوا دیا،اقتدار کا کھیل کھیلتے ہوئے وہ سردار اب ہر طرف پاؤں پھیلا رہا ہے ہیلتھ سپورٹ سٹاف ایسوسی ایشن کے الیکشن میں فرینڈز یونائٹڈ گروپ جو دراصل شفیق گجرگروپ ہے کے سر پر نواں کوٹ کے سردار کا ہاتھ تھا،باقاعدہ بینرز پر تصاویر لگا کر سردار سے تعلق کا ڈھنڈھورا پیٹا گیا،لیہ کے ہیلتھ سپورٹ سٹاف نے سردار کے ایلچی کو شکست فاش سے دوچار کیا،گزشتہ روز ہسپتال کی کنٹین پر بیٹھے ہوئے کچھ دوستوں نے کہا کہ یہ شکست شفیق گجر گروپ کی نہیں یہ سردار قیصر خان کی شکست ہے،ہمارے معاشرے میں بد قسمتی سے ٹاؤٹ ازم بہت چلتا ہے کوئی تھانہ کا ٹاؤٹ ہے تو کوئی انتظامیہ کا ٹاؤٹ ہے،کوئی ہسپتال کی کلیدی نشست پر بیٹھے ایم ایس کا ٹاؤٹ ہے،بدقسمتی سے اس میں نووارد صحافی بھی شامل ہوگئے ہیں،ہردیگی چمچہ کا نام تو آپ نے سنا ہوگا ہمارے کچھ مہربان ایسے چمچے کا کردار ادا کرتے ہیں اور سیاست دان جب اقتدار میں ہوتا ہے تو ہر سیاست دان کے ساتھ یہ ہر دیگی چمچہ ہوتا ہے جو اقتدار کے خوب مزے لوٹتا ہے جب اس سیاستدان کا سورج غروب ہوجاتا ہے تو سے کسی نئے آقا کی تلاش ہوتی ہے،میں کہیں اور نکل گیا اصل موضوع یہی ہے کہ شفیق گجر گروپ کو شکست کیسے ہوئی اس گروپ کا جو صدارتی امیدوار تھا وہ کار لفٹر گینگ کا حصہ رہا ہے اور لیہ پولیس کی سرپرستی بھی اسے حاصل ہے کیونکہ کار لفٹنگ کے سلسلہ میں جب دیگر اضلاع کی پولیس ان کار لفٹرز کو پکڑنے آتی تو لیہ کے حلقوں تب ہلچل مچی کہ یہ کار لفٹر گینگ ہے،فیض چوک پر سرگودھا کی پولیس نے اس سلسلہ میں چھاپہ مارا اور تو اور موصوف زاہد ڈلو کو ہسپتال سے پولیس گرفتار کرکے لے گئی جس پر ہسپتال کی انتظامیہ کے وہ ٹاؤٹ جو اس سرغنہ کے ساتھ ملے ہوئے تھے اس کو بچانے کیلئے میدان میں آگئے،اہلکاروں کے ذہن میں اس گرفتاری کا منفی تاثر اُبھرا،چونکہ لیہ کی پولیس زاہد ڈلو کو شیلٹر فراہم کرتی ہے اس لئے الیکشن میں ”سپیشل برانچ“میں کلیدی نشست پر بیٹھے ایک شخص نے باقاعدہ کالیں کرکے ہسپتال کے ڈاکٹرز، اہلکاروں کو زاہد ڈلو کے حق میں نہ صرف مہم چلائی بلکہ ووٹوں کیلئے دباؤ بھی ڈالا،حاجی ارشاد گروپ کے محمد عباس ہاشمی نے اتنے بڑے مارجن سے ایک کار لفٹر کو شکست دی کہ لیہ کے عوامی حلقے دنگ رہ گئے،عباس ہاشمی ایک محنتی اور عام طبقے کا فرد ہے ان کے والد کو ہم نے تمام عمر محنت کرتے دیکھا،اور اس محنت کا صلہ انہیں تربیت یافتہ اولاد کی شکل میں ملا یہ ایک طرح کی جنگ تھی جسے عباس ہاشمی اور اس کے ساتھیوں نے دن رات ایک کرکے لڑا جب ہم مارجن دیکھتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ کل 267ووٹوں میں سے عباس ہاشمی اور پنجتن شاہ 172ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مد مقابل کو صرف 78ووٹ ملے،در اصل یہ شکست ایک مافیا کی شکست ہے جو اپنے فرائض سے زیادہ پولیس اور سیاست دانوں کا ٹاؤٹ تھا،حاجی ارشاد گروپ نے اس بار ثابت کیا ہے کہ مفادات اور جنون کی جنگ میں جیت ہمیشہ جنون کی ہوتی ہے،یہ جیت یقینا ہیلتھ سپورٹ سٹاف کے ہر اس فرد کی جیت ہے جس نے دباؤ اور پریشر کے باوجود اپنے ضمیر کی آوز کو سنا،اب یہ ان پر فرض ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں آنے ہر مریض کی مشکل کاازالہ یقینی بنائیں،کیونکہ بہت سے مریض جن کے پاس سفارش نہیں ہوتے سارا دن لائنوں میں لگ کر بھی متعلقہ ڈاکٹر تک نہیں پہنچ پاتے ایک ذمہ داری ایم ایس پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاست اور بااثر افراد کے عمل دخل کو روکیں تاکہ عام مریض کے لواحقین کو ان کے حسب ضرورت سہولیات مل پائیں
193