چوہدری اصغر علی گوجر نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ مزاحمت کی سیاست کی یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے روز ٹی ڈی اے چوک میں ہونے والا احتجاج جس میں اسامہ اصغر گجر،حاجی عبدالمجید خان نیازی،چوہدری اطہر مقبول،کرنل ریٹائرڈ شعیب امیر اعوان،نے ایک پر امن احتجاج اس بنا پر کیا کہ حالیہ عام انتخابات میں ہی نہیں بلکہ ضمنی الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے حق پر انتظامی ڈاکہ مارا گیا،حاجی عبدالمجید خان نیازی کی جدوجہد کا ذکر کیا کرنا کیونکہ انہوں نے سرداروں اور جاگیرداروں کے خلاف الیکشن لڑا،اسی طرح ملک شعیب امیر اعوان ایک سردار اور پرانے نامی گرامی سیاست دانوں کے مد مقابل الیکشن جیت کر آئے،چوہدری اطہر مقبول نے ثابت کیا کہ روایتی اور کہنہ سیاست کا باب اب بند ہونے کو ہے،اسامہ اصغر گجر کو اپنے والد کی طرح مزاحمتی سیاست کا نیا باب کھولنا ہوگا یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پرامن احتجاج کی ضمانت آرٹیکل 15, 16, 17 اور 19 میں دی گئی ہے۔ پرامن احتجاج اور اظہار رائے کے ذریعے سے ہی قائداعظم کی قیادت میں پاکستان نے برطانوی سامراج سے اور ہندوؤں کی اکثریت سے آزادی حاصل کی تھی۔‘مگر وفاقی اور پنجاب حکومت نے تشدد اور طاقت کے استعمال کو ایک روایت بنا لیا ہے جس کا مقصد کارکنان میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور اپنے اس بھونڈے مقصد سے ایک طرح سے اظہار رائے، آئین اور جمہوریت کی نفی کرنا ہے۔
آئین براہ راست پاکستانی عوام اور ریاست کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔ آئین پاکستان درحقیقت عوام کی خواہش شہریوں کی آزادی، اظہار رائے، برابری، برداشت اور سماجی انصاف کا حق دیتا ہے۔ُ
۔ تحریک انصاف کا منشور رہا ہے کہ پاکستانی عوام کے مفاد کے مطابق آزاد خارجہ پالیسی اور ملکی سالمیت کے مطابق ہو۔ پورے ملک میں بدعنوانی کا سدباب بھی تحریک انصاف کا منشور ہے۔‘
تحریک انصاف کی حکومت کو ایک مذاق، منصوبہ بندی اور سازش کے تحت لائی گئی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا۔ غیرقانونی طریقے سے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہٹایا گیا اور غیرمنتخب اور نااہل فرد کو وزیراعلیٰ پنجاب کی کرسی پر بٹھایا گیا۔بعد ازاں نگران حکومت اپنی مرضی سے بنا کر محسن نقوی جیسے نااہل شخص کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا جس نے ن لیگ کے ساتھ مل کر 9مئی کا ڈرامہ کیا اور اس کی آڑ میں ایک لیڈر شپ اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد پابند سلاسل ہے،پریس کانفرنسیں کرائی گئیں مگر آٹھ فروری کو عوام نے فیصلہ حکومت کے مقاصد کو ملیا میٹ کرکے دیا باوجود اس کے کہ تحریک انصاف سے اس کا نشان چھین لیا گیا،الیکشن مہم پر پابندی لگا دی گئی،
جب عمران خان کو سازش کے تحت عدم اعتماد کے ذریعے نکالا گیا تو ہزاروں افراد بغیر کسی منظم کال کے سڑکوں پر آئے اور احتجاج کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں پی ٹی آئی کارکنان کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں قومی ترانہ پڑھتے ہوئے پرامن احتجاج کرتے رہے۔ یہ جذباتی مناظر پورے سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہے۔ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے عمران خان اور پی ٹی آئی کا ساتھ دیا اور احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران کسی املاک یا شخص کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔یہی نہیں 25 مئی 2022 کو تحریک انصاف نے مختلف شہروں میں پرامن احتجاج کرتے ہوئے اسلام آبادکی طرف مارچ کیا۔ مارچ کا مقصد حقیقی آزادی تھا۔ اسلام آباد مارچ کا مقصد حکومت کی توجہ دلانا تھا کہ عوام حکومت کے لیے کیا جذبات رکھتے ہیں۔ اس دوران وزارت داخلہ اور پنجاب حکومت کی ہدایت پر پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں کو گھروں سے گرفتار کیا گیا اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ تحریک انصاف کے پانچ کارکنان کی ہلاکت ہوئی۔’حکومت نے نہ صرف کارکنان کو گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ مرکزی قائدین کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا گیا۔ موٹروے سمیت اسلام آباد کی طرف آنے والی تمام مرکزی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا۔ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے پنجاب سمیت پورے ملک میں سیاسی کارکنوں اور قائدین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔’عمران خان نے کشیدگی سے بچنے کے لیے احتجاج ختم کیا‘اب ایک بار پھر عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ہمراہ شاہرات پر نکلنے کیلئے بے تاب ہے اور انتظامیہ کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ عوامی ریلے کے سامنے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوسکتا،پولیس کو بھی جعلی حکومت کے احکامات ماننے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ ناجائز احکامات مان کر ہی عوامی نفرت اس نہج پر پہنچی ہے
344