9جون کو قومی اسمبلی میں سا لا نہ میزانیہ برائے2023-24 پیش کرتے ہو ئے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار نے قوم کو یقین دلا یا کہ مو جودہ بجٹ اقتصادی صور تحال میں مثبت بدیلی کا شاخسانہ بنے گا، یہی نہیں بجٹ سے معاشی اور کا روباری سرگرمیوں کو سپو رٹ بھی ملے گی جس کا اثر براہ راست سماجی،عوامی، کاروباری اور معاشرتی زندگی پر پڑے گا ۔وفاقی بجٹ کو حکمران اتحاد عوام دوست اور بزنس فرینڈلی قراردے رہے ہیں ۔حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بجٹ اعدادوشمار کی جادوگری کے سوا کچھ نہیں!!وفاقی بجٹ میں ترقیاتی امور کیلئے 1100ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔اس بڑی اور خطیر رقم سے تعمیراتی ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے روزگار کے نئے دروازے کھلنے کی نوید سنائی گئی ہے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 144 کھرب 60 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 35 فیصد تک ایڈہاک اضافے کی نوید سنائی گئی۔ بجٹ میں نئے ٹیکسز لگانے سے گریز کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے 11 کھرب 50 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص کی گئی ہے اور دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق اگلے سال ایف بی آر محاصل کا تخمینہ 92 کھرب روپے ہے جس میں صوبوں کا حصہ 52 کھرب 76 ارب روپے روپے ہوگا۔ وفاقی نان ٹیکس محصولات 29 کھرب 63 ارب روپے ہوں گے۔ وفاقی حکومت کی کل آمدن68 کھرب 87 ارب روپے ہوگی۔ دفاع کے لیے 18 کھرب 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، گزشتہ مالی سال دفاعی بجٹ 15 کھرب 23 ارب روپے تھا جس میں اس سال اضافہ کیا گیا ۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 7 کھرب 14 ارب روپے مہیا کیے جائیں گے۔ پنشن کی مد میں 7 کھرب 61 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجلی، گیس اور دیگر شعبہ جات کے لیے 10 کھرب 74 ارب روپے کی رقم بطور سبسڈی رکھی گئی ہے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع، بے نظیر پروگرام، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، ریلویز اور دیگر محکموں کیلئے 14 کھرب 64 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔ اگلے مالی سال کے لیے معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ بتایا گیا ہے جبکہ افراط زر کی شرح اندازاً 21 فیصد تک ہوگی۔ بجٹ خسارہ 6.54 فیصد اور Primary Surplus جی ڈی پی کا 0.4 فیصد ہوگا۔ اگلے مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 30 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر کا ہدف 33 ارب ڈالر ہے۔بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ قانونی طریقے سے زرمبادلہ کو فروغ کے لیے کئی مراعات دی گئیں۔ بجٹ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نان فائلر افراد کی جانب سے بینک سے رقم نکالنے کو دستاویزی اور ان کی ٹرانزیکشن کے اخراجات بڑھانے کیلئے 50 ہزار روپے سے زائد کی رقم نکالنے پر 300 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد کی حدود میں آئی ٹی سروسز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کی جارہی ہے، اس کے علاوہ آئی ٹی کے شعبے میں قرضہ جات کی فراہمی کو ترغیب کے لیے بینکوں کو اس شعبے میں 20 فیصد کے رعایتی ٹیکس کا استفادہ حاصل ہوگا، اگلے مالی سال میں 50 ہزار آئی ٹی گریجویٹس کو فنی تربیت دی جائے گی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی قرضوں کی حد کو رواں مالی سال میں 1800ارب سے بڑھا کر 2250 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی اور ڈیزل کے بل کسان کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہیں لہٰذا اگلے مالی سال میں 50,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معیاری بیج ہی اچھی فصل کی بنیاد ہے ملک میں معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کرنے کی بات بھی کی گئی ۔
محبان پا کستان سوال کرتے ہیں کہ حکمرانوں نے ترقیاتی امور میں بہت دلچسپی ظاہر کی جو شعبہ قومی زندگی کو آکسیجن مہیا کر ے گا اس کی طرف سرسری نگاہ ڈالی گئی۔حکومت تعلیم اور صحت کی سالانہ گرانٹ میں اضافہ کر دیتی ہے تو اس سے دونوں شعبوں کو درپیش مسائل سے نکالنے میں مدد ملتی ہے یہ درست ہے کہ قیام پا کستان کے بعد اب تک ایوان اقتدار میں آنے والوں نے دونو ں شعبو ں کو اپنی تر جیح میں شامل نہیں کیا ،تعلیم اور صحت حکمرانوں کی ترجیح اول ہو تا تو آج پا کستان میں ہسپتالوں اور طبی مراکز کی یہ صورتحا ل نہ ہو تی ،اسلام آبادکی آبادی 25لاکھ سے متجاوز ہے ۔وفاقی دارلحکومت کے بے مثال شہریوں کیلئے صرف دو ہسپتال (پمس اور پو لی کلینک) ہیں ۔کیا 25لاکھ آبادی کے حامل شہر کو دو ہسپتال طبی سہولت دے سکتے ہیں ۔راولپنڈی کی آبادی اسلام آباد سے کئی گنا زیادہ ہے ۔یہاں10 ہسپتالو ں کی ضرورت ہے کیا چار پا نچ ہسپتال شہریوں کی ضرورت اورخدمت کیلئے کا فی ہیں؟ہمارے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار سے درخواست ہے کہ وہ بجٹ منظوری اور اس کے نفاذ سے قبل تعلیم اور صحت کی گرانٹ میں دونوں کی ضرورتوں کے مطابق اضافہ کرادیں ،ایسا ہو گا تو انسانی ترقی کا خواب پو را ہو گا ۔میں یہاں وزیر اعظم سے التجاء کروں گا کہ رواں ماہ کے آغاز میں پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہو ئیں ۔یہ کمی دوسری بار ہو ئی ہے ۔دوبار نرخ کم کرکے اس کے ثمرات عوام تک پہنچے نہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہو ئیں ۔حتی کہ ٹرانسپو رٹ کے کرائے بھی جو ں کے تو ں ہیں ۔جب عوامی حلقوں کا پر یشر بڑ ھا تو وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو اس کا نو ٹس لینا پڑا ۔سوال یہ ہے کہ کیا ہر کا م کا نوٹس لینا صرف وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے ،سرکاری مشینری اپنی ذمہ داری کب پو ری کریگی ؟
280