تھرکول، ریکوڈک: معاشی استحکام کی ضمانت 237

تھرکول، ریکوڈک: معاشی استحکام کی ضمانت

اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا کو زیر زمین قیمتی معدنیات سے نوازا ہے اور بیشتر ممالک نے معدنیات کو زمین سے نکال کر اپنی قسمت بدلی ہے۔ دنیا میں معدنیات بالخصوص آئل اور گیس رکھنے والے 10بڑے ممالک میں پہلے نمبر پر روس ہےجس کے معدنی ذخائر 75کھرب ڈالر ہیں جن میں کوئلہ، تیل، قدرتی گیس، سونا اور لکڑی شامل ہیں ۔ دوسرے نمبر پر امریکہ جس کے معدنی ذخائر 45 کھرب ڈالر ہیں جس میں 90 فیصد کوئلہ اور ٹمبر کے علاوہ تانبا، آئل اور گیس شامل ہیں۔ تیسرے نمبر پر سعودی عرب جسکے معدنی ذخائر 34کھرب ڈالر ہیں جو آئل ایکسپورٹ کرنیوالا بڑا ملک ہے۔ چوتھے نمبر پر کینیڈا جسکے معدنی ذخائر 33کھرب ڈالر ہیں جن میں آئل اور گیس شامل ہے۔ پانچویں نمبر پر ایران جسکے معدنی ذخائر 27 کھرب ڈالر ہیں جس میں آئل اور گیس شامل ہیں۔ چھٹے نمبر پر چین جسکے معدنی ذخائر 23 کھرب ڈالر ہیں جس میں کوئلہ، سونا اور المونیم وغیرہ شامل ہیں۔ ساتویں نمبر پر برازیل جس کے معدنی ذخائر 22 کھرب ڈالر ہیں جس میں سونا، لوہا اور گیس شامل ہیں۔ آٹھویں نمبر پر آسٹریلیا جسکے معدنی ذخائر 20 کھرب ڈالر ہیں جس میں کوئلہ، سونا، تانبا، ٹمبر اور یورینیم شامل ہیں۔ نویں نمبر پر عراق جس کے معدنی ذخائر 16کھرب ڈالر ہیں جس میں تیل اور گیس شامل ہیں۔ دسویں نمبر پر وینزویلا جسکے معدنی ذخائر 14 کھرب ڈالر ہیں جس میں تیل، گیس اور لوہے کے ذخائر شامل ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھی 50 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر عطا کئے ہیں جس میں تھر میں دنیا کے کوئلے کےدوسرے بڑے( 185 ارب ٹن )ذخائر، ریکوڈک میں تانبے کے پانچویں بڑے 6ارب ٹن (22ارب پائونڈز مالیت) ذخائر اور سونے کے چھٹے بڑے42.5ملین اونس (13ملین پائونڈ مالیت) کے ذخائر پائے جاتے ہیں اور صرف ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی مالیت 500ارب ڈالر ہے لیکن ہم بدقسمتی سے ان معدنی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاسکے اور دنیا کے سامنے کشکول لئے پھررہے ہیں۔ میں PDM حکومت اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری کونسل (SIFC) کا چوتھا فلیگ شپ پروجیکٹ ’’ڈسٹ ٹو ڈویلپمنٹ‘‘ لانچ کیا جس کا مقصد ملکی معدنیات کی کان کنی اور ایکسپورٹ سے 6 کھرب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری لانا ہے۔ اس سلسلے میں یکم اگست کو اسلام آباد میں ’’پہلی منرل سمٹ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت 30 ممالک کے سرمایہ کاروں اور کان کنی کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر یو اے ای نے 22 ارب ڈالر اور سعودی عرب نے 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا جس میں پہلے مرحلے میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ ماضی میں کان کنی کے شعبے میں لائسنس اور این او سی لینے میں برسوں لگ جاتے تھے لیکن اب SIFC کے تحت نئی مائننگ پالیسی میں اِسے ون ونڈو آپریشن کردیا گیا ہے اور ریڈ ٹیپ کے بجائے ریڈ کارپیٹ کا سلوگن پیش کیا ہے۔ پالیسی کے تحت بلوچستان اور دیگر صوبوں میں سرمایہ کاروں کو سیکورٹی اور پالیسیوں کے تسلسل کی گارنٹی دی گئی ہے۔ نئی پالیسی ریکوڈک منصوبے پر بھی عملدرآمد ہوگی جس سے پہلے مرحلے میں 2025 تک 4 لاکھ میٹرک ٹن تانبا (3.7 ارب ڈالر) اور 4 لاکھ اونس سونا (718 ملین ڈالر) سالانہ حاصل کیا جائے گا جس سے اُمید کی جاتی ہے کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کی ترقی اور پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ تھر میں کوئلے کے ذخائر سعودی عرب اور ایران کے مجموعی 400 ارب بیرل تیل کے ذخائر کے مساوی ہیں جن سے 200 سال تک سالانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے لیکن ہم 76 سال گزرنے کے باوجود اس کالے سونے کو زمین سے نکال کر بجلی پیدا نہ کرسکے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے مہنگافرنس آئل اور گیس امپورٹ کرتے رہے جس کا سبب ماضی کی طاقتور بیورو کریسی تھی جس نے بین الاقوامی آئل کمپنیوں کے دبائو پر تھرکول سے بجلی پیدا کرنے کی پالیسی نہ بننے دی اور یہ تاثر دیا کہ تھر کے کوئلے میں سلفر اور رطوبت زیادہ ہونے کے باعث بجلی نہیں بنائی جاسکتی لیکن اب تھر کے اسی کوئلے سے نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے 2 منصوبے کامیابی سے 1980 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جو ہماری مجموعی بجلی پیداوار کا تقریباً 18فیصد ہے جس میں 660میگاواٹ کا پہلا پروجیکٹ اینگرو کے ساتھ جولائی 2019میںمکمل ہوااور1320میگاواٹ کا سی پیک کے تحت دوسرا پروجیکٹ شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ فروری 2023 میں مکمل ہوا۔ پاکستان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر عالمی پابندیاں دہرا معیار ہیں کیونکہ جنوبی افریقہ میں 93فیصد، آسٹریلیا میں 78فیصد، پولینڈ میں 87فیصد، چین میں 79فیصد، قازقستان میں 75فیصد، بھارت میں 68فیصد،اسرائیل میں58فیصد،یونان میں 54فیصد، مراکش میں 51فیصد، امریکہ میں 45فیصد اور جرمنی میں 41فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں صرف 13 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جارہی ہے حالانکہ عالمی معیار کے مقابلے میں پاکستان میںکاربن کا اخراج نہایت کم ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری کونسل (SIFC) سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ مفادات کونسل ہے جس کا مقصد ترجیحی سیکٹرز زراعت، آئی ٹی اور معدنیات کے منصوبوں میں سرمایہ کاری لانا اور بیورو کریسی کی حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

بشکریہ ہم سب

'.$config["ad_footer"].'