رفاقت علی گیلانی کا دور اقتدار اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو سارا دور لیہ شہر کے عوام سے عدم رابطہ کا دور نظر آئے گا رفاقت گیلانی نے چند افراد سے اگر تعلق رکھا بھی تو صرف واٹس ایپ پر ورنہ ہر وقت ان کا نمبر بند ملتا تھا اور ڈیرے پر جانے والے ووٹرز جو ووٹ دینے کے بعد سائل بن جاتے ہیں ان کی تذلیل جس طرح ہوتی وہ اپنی جگہ الگ کہانی ہے لیہ شہر میں رفاقت گیلانی کوئی ووٹ بینک نہیں تھا یہ بات حقیقت ہے ان کے چچا سید سبط الحسنین گیلانی ایک بہت بڑی اور روحانی ہستی ہیں اور ان کی وجہ سے رفاقت گیلانی کو ووٹ ملا لیکن ان کی جیت میں بڑا فیکٹ ملک نیاز احمد جکھڑ کا ہے اگر ملک نیاز احمد جکھڑ ان کی سپورٹ نہ کرتے تو ان کی جیت ناممکن تھی اور یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہیں حلقہ پی پی 283لیہ شہر میں ایم پی اے کی نشست پر ملک نیاز احمد جکھڑ کی حمایت ضروری ہے کیونکہ کم از کم 15 پولنگ اسٹیشنز پر ملک نیاز احمد جکھڑ کا اہم رول اور مضبوط ووٹ بینک ہے یہی وجہ ہے بطور آزاد امیدوار سید رفاقت علی گیلانی کی جیت یقینی ہوئی ماضی کی سیاست کو دیکھ لیں لیہ کی سیٹ پر جس ایم پی اے کے سر پر ملک نیاز احمد جکھڑ نے ہاتھ رکھا وہی جیتا 1997کے بعد لیہ شہر میں مسلم لیگ نون کو کوئی امیدوار نہیں مل سکا اقتدار کے بعد سید رفاقت علی گیلانی سے تمام دوستوں نے راہیں جدا کرلیں ۔نظریاتی طور پر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی ورکر آج ان کے ساتھ نہیں ۔اب ایک بار پھر ورکرز سردار افتخار علی بابر خان کھتران کی طرف دیکھ رہے ہیں اور نظریاتی ورکروں کی یہ خواہش ہے کہ حلقہ پی پی 283لیہ شہر میں ٹکٹ افتخار علی بابر خان کو ملے ۔کیونکہ نظریاتی ورکر یہ سمجھتے ہیں کہ سید رفاقت علی گیلانی کا پارٹی کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سید رفاقت علی گیلانی پارٹی ٹکٹ سے پہلے عوام میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ مجھے ٹکٹ نہ ملا تو میں مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر الیکشن لڑوں گا روزنامہ معرکہ میں مورخہ 22 مارچ 23کو خبر چھپی اس کے مطابق سید رفاقت علی گیلانی اور قیصر خان مگسی نون لیگ کے ٹکٹ کے لئے عطا تارڑ سے ملاقات کی جس پر مسلم لیگ نون کے ڈویژنل صدر نے نہ صرف کھل کر مخالفت کی بلکہ طنزیہ فقرے بھی ان پر کسے۔ اس کے علاوہ شہر کی عوام وہ ووٹر جنہوں نے سید رفاقت علی گیلانی کو ووٹ دیئے ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اب واٹس ایپ پر لوگوں سے ووٹ لیں ۔اس کے علاوہ شہر میں ان کی کرپشن کے چرچے عام ہیں اقتدار سے پہلے ان کے اثاثے کیا تھے اور اب ان کا اثاثے کیا ہے ؟درجہ چہارم کی سیٹیں پیسے لے کر بیچی گئیں۔ عمران خان کا وژن یہ نہیں ہے ان کو ٹکٹ ایسے آدمی کو ملے جو کرپشن کرکے اپنے اثاثوں میں اضافہ کرے۔ رفاقت علی گیلانی کا تعلق مفادات سے ہے نظریات سے نہیں اگر نظریہ سے ہوتا تو وہ عمران خان کا وژن لے کر چلتے ۔
622