کشادہ گرائونڈ میں بچیاں ٹیبلو پیش کر رہی تھیں۔پرفارمنس ایکٹ پورا ہوتے ہی سب ایک ترتیب سے واپس پلٹ گئیں۔ گرائونڈ میں سیاہ ملبوس اور رنگ برنگے پروں والی تتلیاں اتر آئیں۔ تتلیاں صرف اڑتے دیکھنا کافی نہیں۔پھول کے گرد یہ دیوانہ وار چکر لگاتی ہیں ،اوپر جاتی ہیں‘ پنکھ کبھی پورے کھولتی اور کبھی آدھی حرکت سے ہلاتی ہیں۔ چودھری رحمت علی میموریل گرلز ہائی سکول ٹائون شپ کا سپورٹس ڈے تھا۔برادرم خالد رسول نے مدعو کیا۔سٹیج پر پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان شہباز احمد سینئر، ٹیبل ٹینس کے سابق قومی کھلاڑی عرفان خان اور پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی خوب رو آل رائونڈر عالیہ ریاض مہمان تھے۔ چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر عثمان واسطی‘ پرنسپل اور بورڈ کے دیگر اراکین چاہتے ہیں کہ ادارہ ہی نہیں یہاں زیر تعلیم طلباء و طالبات بھی کامیاب کہلائیں۔ ہم سٹیج پر تھے اور ہمارے سامنے وقفے وقفے سے بچیوں کی پرفارمنس نئے رنگ میں آ رہی تھی۔جمناسٹک ایک مشکل کھیل ہے۔ جسم مطلوبہ حرکات کے لئے لچک ہی کا مطالبہ نہیں کرتا طاقت بھی درکار ہوتی ہے‘ تیرہ چودہ برس کی بچیاں اگر کندھے پر دوسری بچی کو اٹھا لیں‘ ایک کے اوپر دوسری‘ دوسری کے اوپر تیسری اور پھر چوتھی بچی پرچم لے کر پیرامڈ کے اوپر کھڑی ہو سکے تو یہ قابل داد ہے۔بچیوں نے علاقائی ملبوسات میں ثقافتی رقص پیش کیا۔ کچھ چھوٹی بچیاں تو اس قدر والہانہ انداز میں شریک تھیں کہ ان پر ٹوٹ کر پیار آ رہا تھا۔دوڑ کے مقابلے ہوئے دماغی طور پر کمزور سپیشل بچوں کے لئے ایک دوڑ رکھی گئی۔ایک بچہ جو سب سے پیچھے رہ گیا تھا وہ کمزور ٹانگوں پر بمشکل بھاگ رہا تھا۔میں نے اسے سب سے زیادہ خوش دیکھا۔ میں نے شہباز سینئر سے پوچھا ہاکی زوال کا شکار کیوں ہے؟ بولے : کارپوریٹ سیکٹر کی سرپرستی میسر نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اب ہاکی کھیلنے کو تیار نہیں۔میں نے پوچھا ہاکی کے سینئر کھلاڑی اپنے طور پر بچوں کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتے۔انہوں نے جواب دیا: حسد اس کھیل کو کھا گیا ہے۔کوئی دوسرے کے ٹیلنٹ اور کامیابی کو برداشت نہیں کرتا۔شہباز احمد سینئر بتا رہے تھے کہ گوجرہ میں لڑکیاں ہاکی کھیلنے آتی ہیں لیکن چونکہ گرائونڈ کے ساتھ ہاسٹل کا انتظام نہیں اس لئے انہیں شام کو اپنے گھر جانا پڑتا ہے۔اس وجہ سے گرائونڈ کی دستیاب سہولت سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا جو لیا جا سکتا ہے۔میں نے پوچھا بچوں کو ہاکی سکھائی؟ سابق کپتان اور ورلڈ چمپئن نے کہا: بالکل نہیں ، بیٹی کی شادی ہو گئی ہے۔ بیٹا انجینئر بن کر بیرون ملک کام کر رہا ہے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے عرفان خان نے بتایا کہ عالیہ ریاض کی قامت اور صلاحیت بے مثال ہے۔ عالیہ ایک محنت کرنے والے متوسط خاندان سے ہے۔بھر پور محنت کے طفیل وہ قومی کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ عثمان بزدار جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو میں نے ان کی توجہ چھوٹی عمر کی بچیوں کے لئے کھیل کی ناکافی سہولتوں کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی تھی۔عمران خان کے لئے قدرے نرم گوشہ رکھنے کے باوجود بطور کھلاڑی میری رائے میں تحریک انصاف کی حکومت نے کھیلوں کو بری طرح نظرانداز کیا۔میں نے تجویز دی تھی کہ لڑکیوں کے سرکاری سکولوں و کالجوں میں گرائونڈ کی سہولت لگ بھگ ہر جگہ ہے۔اگر شام کے اوقات میں وہاں ایک کوچ کا انتظام کر کے اردگرد کی آبادی کی بچیوں کو کھیلوں کی تربیت دی جائے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان کھیلوں میں نام پیدا کر سکتا ہے۔ برادرم خالد رسول چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے سیکرٹری ہیں۔اس ٹرسٹ کے زیر اہتمام وسیع رقبے پر ہسپتال‘ جامع مسجد ‘ مدرسہ‘ چھوٹے بچوں کا سکول‘ لڑکوں کا ہائی سکول اور لڑکیوں کا ہائی سکو ل چل رہے ہیں۔ادارے کے پاس اس قدر کھلے میدان ہیں کہ ٹائون شپ اور گرین ٹائون کی بچیاں یہاں دوڑ‘ ہاکی ولانگ جمپ‘ کراٹے‘ کرکٹ‘ ٹینس ‘ ٹیبل ٹینس اور بیڈ منٹن کی تربیت لے سکیں۔خالد رسول اور ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر عثمان واسطی سے گزارش کی ہے کہ اگر وہ اپنے ادارے میں آئوٹ سائیڈز بچیوں کے لئے کھیل کی سہولت فراہم کر دیں تو میں مناہل کو یہاں ضرور بھیجوں گا۔ کھیل جسمانی ،ذہنی اورجذباتی توازن پیدا کرتے ہیں ۔کھلاڑیوں کے درمیان ایک تعلق استوار ہوتا ہے،وہ زندگی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا سیکھتے ہیں۔صحت مند مقابلوں کا رجحان فروغ پاتا ہے ۔بچے کو سکول ،گھر اور سماج کے ساتھ معاملات کرنے کا ہنر آ جاتا ہے۔ کھیل بچوں میں قائدانہ صلاحیت پیدا کرتے ہیں،زندگی کی اونچ نیچ جو جذباتی دھچکے پہنچاتی ہے کھیل ان سے بہادری سے مقابلہ کی ہمت دیتے ہیں۔ کھیلیں بچوں کو منظم سرگرمی انجام دینا سکھاتے ہیں۔ٹیم بنانا اور سماجی اقدار کا احترام سکھاتے ہیں۔پاکستان میں پچھلے تیس پنتیس برسوں کے دوران کھیل کے میدان تقریبا ختم ہو گئے ہیں۔جو ہیں وہ سرکار کی سرپرستی سے محروم ہیں ۔عرفان خان صاحب نے اچھی تجویز دی ہے کہ بچیوں کو ان کھیلوں کی تربیت دی جائے جو عالمی سطح پر مالی فوائد دیتی ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ پروفیشنل کھیلوں کے لئے غریب اور متوسط گھرانوں کے بچے شاندار ٹیلنٹ رکھتے ہیں۔ہمارے پاس جم میں اکثر ایسے لڑکے بہترین باڈی بلڈر بنتے جن کے پاس خوراک کے لئے پیسے نہ ہوتے ۔ایسے بچے اور بچیاں ہر جگہ موجود ہیں جنہیں کھیل کا میدان اور تھوڑی سی سرپرستی درکار ہے ۔چودھری رحمت علی میموریل سکول اپنی گنجائش کے مطابق یہ خدمت انجام دے رہا ہے لیکن اس کے سامنے سڑک پار گورنمنٹ گرلز ہائی سکول اور گورنمنٹ گرلز کالج ٹاون شپ کے وسیع میدان سارا دن ویران پڑے رہتے ہیں ۔ایسا ہر شہر میں ہو رہا ہے ۔بد قسمت بچے بچیوں کا ٹیلنٹ ضائع کر دیا جاتا ہے۔