سقوطِ ڈھاکہ: ایک قومی سانحہ اور ہمارے لیے سبق 337

سقوطِ ڈھاکہ: ایک قومی سانحہ اور ہمارے لیے سبق

سولہ دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جو محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو برسوں بعد بھی رستا محسوس ہوتا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ ایک جغرافیائی سانحہ ضرور تھا، مگر اس سے کہیں بڑھ کر یہ ایک فکری، سیاسی اور انتظامی ناکامی کی علامت تھا۔ اس دن کا سورج ہر سال طلوع ہوتا ہے تو ہمارے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑتا ہے کہ ہم نے کہاں غلطی کی، کہاں ایک دوسرے کو نہ سمجھ سکے، اور کہاں قومی وحدت کے تقاضے نظر انداز ہو گئے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہم اس سانحے سے وہ سبق نہیں سیکھ سکے جو ایک سنجیدہ قوم کو سیکھ لینا چاہیے تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب کو محض بیرونی مداخلت یا بین الاقوامی سازشوں تک محدود کر دینا ایک آسان مگر ادھورا بیانیہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی قوتیں ہمیشہ اندرونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ اگر کسی معاشرے کے اندر سیاسی توازن، انتظامی انصاف اور سماجی ہم آہنگی موجود ہو تو بیرونی دباؤ اس کے لیے فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کمزوریاں کیا تھیں جنہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔ اس کہانی کی ایک اہم کڑی زبان کا مسئلہ تھا۔ پاکستان کے قیام کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دینے کا فیصلہ نیک نیتی پر مبنی تھا، مگر اس کے سماجی اثرات کو پوری طرح نہیں سمجھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی اکثریتی آبادی بنگالی زبان بولتی تھی اور زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ شناخت، ثقافت اور وقار کی علامت بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ 1956ء کے آئین میں اردو اور بنگالی دونوں کو ریاستی زبانوں کا درجہ دیا گیا، مگر عملی سطح پر اردو کو واحد قومی زبان کے طور پر نافذ کرنے کا تاثر پیدا ہوا، جس نے احساسِ محرومی کو جنم دیا۔ یہ ایک انتظامی غلط فہمی تھی، جسے بروقت دور کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد دارالحکومت کے تعین کا معاملہ سامنے آیا۔ کراچی کے بعد اسلام آباد کو دارالحکومت بنانا ریاستی نظم و نسق کے حوالے سے ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا، مگر مشرقی پاکستان کے تناظر میں اسے محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ اختیارات کے ارتکاز کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ طاقت، فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے مراکز مغربی پاکستان میں ہونے کا تاثر مضبوط ہوا، جس سے وہاں یہ احساس بڑھا کہ ان کی عددی اکثریت کے باوجود ان کی آواز مؤثر طور پر سنی نہیں جا رہی۔ اعداد و شمار اس احساس کو تقویت دیتے تھے۔ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں تھا، مگر ریاستی اداروں، بیوروکریسی اور پالیسی سازی میں اس کی نمائندگی متناسب نہیں تھی۔ اگرچہ نیت پر شک کرنا آسان ہے، مگر زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ اس دور میں انتظامی ڈھانچے کو قومی سطح پر ہم آہنگ کرنے میں سنجیدہ غلطیاں ہوئیں۔ یہ غلطیاں کسی ایک ادارے یا طبقے تک محدود نہیں تھیں بلکہ مجموعی قومی حکمتِ عملی کا حصہ تھیں۔ سماجی اور ثقافتی میدانوں میں بھی یہ خلا نمایاں تھا۔ کھیل، خاص طور پر کرکٹ، جو برصغیر میں محض کھیل نہیں بلکہ قومی شناخت کا استعارہ ہے، اس کی مثال سامنے آتی ہے۔ متحدہ پاکستان کے دور میں اعلیٰ سطح پر کھیلوں کے مواقع زیادہ تر مغربی پاکستان تک محدود رہے۔ یہ دانستہ امتیاز نہ بھی ہو، مگر اس کا نتیجہ یہی نکلا کہ مشرقی پاکستان کے نوجوان خود کو قومی دھارے سے کٹا ہوا محسوس کرنے لگے۔ آج بنگلہ دیش کی کرکٹ کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ صلاحیت کی کمی نہیں تھی، مواقع کی کمی تھی۔ 1970ء کے عام انتخابات اس پوری کہانی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئے۔ یہ انتخابات شفافیت کے اعتبار سے ایک مثال سمجھے جاتے ہیں، مگر انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی پیچیدگیاں سنبھالی نہ جا سکیں۔ اکثریتی جماعت کے مینڈیٹ کو بروقت اور مؤثر انداز میں تسلیم نہ کرنے سے سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جمہوری عمل میں اصل امتحان الیکشن کے انعقاد سے زیادہ، نتائج کو قبول کرنے میں ہوتا ہے۔ جب عوام کے فیصلے کو عملی شکل نہ ملے تو اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ بعد ازاں حالات اس نہج پر پہنچے جہاں تصادم نے مکالمے کی جگہ لے لی۔ اس مرحلے پر جذبات، بداعتمادی اور خوف نے مل کر ایسے فیصلوں کو جنم دیا جو قومی وحدت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ نتیجہ وہی نکلا جس کا اندیشہ تھا کہ ایک المناک سانحہ اور ایک نیا ملک وجود میں آ گیا۔ یہ سب کچھ چند دنوں یا چند مہینوں میں نہیں ہوا، بلکہ برسوں کی غلطیوں، غلط فہمیوں اور نظر انداز کیے گئے مسائل کا حاصل تھا۔ آج جب ہم اس سانحے کو یاد کرتے ہیں تو اصل مقصد کسی پر الزام دھرا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ دیکھنا ہونا چاہیے کہ ہم نے اس سے کیا سیکھا۔ سبق یہ ہے کہ کسی بھی ریاست میں طاقت، اختیار اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہوتی ہے۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام، مختلف اکائیوں کی شناخت کو تسلیم کرنا اور مکالمے کے دروازے کھلے رکھنا ہی قومی یکجہتی کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ وقت بدل چکا ہے۔ آج کا شہری زیادہ باشعور ہے، زیادہ سوال کرتا ہے اور محض سرکاری بیانیے پر اکتفا نہیں کرتا۔ ایسے میں ریاست اور سیاست دونوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعتماد، شفافیت اور شمولیت کو اپنی پالیسی کا مرکز بنائیں۔ تاریخ کا پہیہ پیچھے نہیں موڑا جا سکتا، مگر اس سے رہنمائی ضرور لی جا سکتی ہے۔ قصہ مختصر، سقوطِ ڈھاکہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومیں طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شراکت اور احترام سے جڑی رہتی ہیں۔ اگر ہم واقعی اس سانحے کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دیں۔ یہی اس المیے کے شہداء کے ساتھ حقیقی وفاداری ہوگی اور یہی پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے مضبوط بنیاد۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم