شہر شیخوپورہ کی نوجوان سیاسی قیادت 398

شہر شیخوپورہ کی نوجوان سیاسی قیادت

شہر شیخوپورہ کا شمار صوبہ پنجاب کے قدیمی شہروں میں کیا جاتا ہے۔ اس شہر کی بنیاد 1607 میں بادشاہ اکبر کے چشم چراغ شہزادہ جہانگیر نے رکھی۔ شہنشاہ جہانگیر کے عرفی نام "شیخو" سے ماخوذپنجاب کے اس بڑے ضلع جسکی سرحدیں ننکانہ صاحب، فیصل آباد، اوکاڑہ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، نارووال، لاہور یہاں تک کہ بھارت کی سرحد کے ساتھ بھی ملتی ہیں۔شیخوپورہ کا پرانا نام ورک گڑھ تھا کیونکہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں ورک جاٹ آباد تھے۔ سیاسی اور معاشی طور پر اس علاقے میں ورک برادری آج بھی بہت مضبوط ہے۔شیخوپورہ میں تقریباً 132 گاؤں ایسے ہیں جن کا تعلق ورک براردی سے ہے۔ہرن مینار ضلع شیخوپورہ کی پہچان ہے۔ ضلع شیخوپورہ کا شمار بیک وقت زرعی اور صنعتی علاقے کے طور پر کیا جاتا ہے۔ 1920 میں اس شہر کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ ضلع شیخوپورہ نےہر شعبہ ہائے زندگی کی بہت سی نامی گرامی شخصیات کو جنم دیا۔ جن میں پیر وارث شاہ، سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک، سر گنگا رام، حمید نظامی، مجید نظامی، محمد حسین چٹھہ جیسی عظیم شخصیات سرفہرست ہیں۔ پاکستانی سیاست میں شیخوپورہ کے سیاستدان ہمیشہ سے ہر اول دستہ کے طور پر منظر عام پر آتے رہے ہیں۔ نعیم حسین چٹھہ، توکل اللہ ورک، خان محمود اکبر خان،رانا تنویر حسین، جاوید لطیف، میاں خالد محمودجیسے منجے ہوئے سیاستدان دہائیوں تک شیخوپورہ کی سیاست میں راج کرتے رہے ہیں ۔ ماضی قریب میں دیکھا جائے تو گزشتہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں میاں جاوید لطیف نے اس شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے بہت زیادہ کاوشیں کیں، جیسا کہ شہر شیخوپورہ میں سڑکوں کے جال بچھانا، انڈرپاسز کا قیام، نئے سکولز کالجز کا قیام، ہسپتال میں نئی وارڈزاور پاسپورٹ آفس کا قیام۔ ان کاوشوں کی بناء پر شہر شیخوپورہ میں ترقی کے نئے دریچے کھل گئے۔ سرمایہ کاروں نے شیخوپورہ میں بہت سے شعبوں میں سرمایہ کاری کا آغاز کردیا۔ آج دیگر شہروں سے آنے والے افراد شہر شیخوپورہ کے بنیادی ڈھانچے میں پائی جانے والی تبدیلیوں کو بہت ہی احسن انداز میں محسوس کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔اس تحریر میں شیخوپورہ کے نوجوان سیاستدانوں کی بات کی جائے گی۔

خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ
ورک براردی کے چشم و چراغ خرم شہزاد ورک نے ایل ایل بی کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور ایم اے فلاسفی گورنمنٹ کالج سے کیا۔پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ شہر شیخوپورہ کے منجے ہوئے وکیل کے طور پراپنی پہچان رکھتے ہیں۔ سال 2022 میں ڈسٹرکٹ بار ایسوی ایشن شیخوپورہ کے صدر منتخب ہوئے۔ سال 2009 میں باقاعدہ سیاسی سفر کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ انصاف لائرز فورم کےضلعی صدر رہ چکے ہیں۔انٹرا پارٹی الیکشن میںریکارڈ ووٹ لیکر سیکرٹری لیگل افیرز منتخب ہوئے۔سال 2022 میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پارٹی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے ٹکٹ دیا اور بھاری اکثریت سے اپنے حریف منجے ہوئے سیاستدان میاں خالد محمود کو شکست دیکر صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور بطور صوبائی وزیر قانون اپنی ذمہ داریاں احسن انداز سے نبھائیں۔رواں برس عام انتخابات میں خرم شہزاد ورک ایڈووکیٹ پارٹی ہدایات کے مطابق سٹی شیخوپورہ کی قومی یا صوبائی اسمبلی سیٹ کے لئے انتخابی میدان میں اترنے کا عزم رکھتے ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد شہر شیخوپورہ کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ اور مستقبل میں شہر شیخوپورہ کے نوجوانوں کو نہ صرف اپنے ساتھ لیکر چلنے کا عزم رکھتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ شہر شیخوپورہ کے لئے نئے اسکول، کالجز اور یونیورسٹی کے قیام کے لئے پرعزم ہیں۔
میاں منور اقبال
شہر شیخوپورہ کی سیاست میں میاں منور اقبال کو ہمہ جہت ہر دلعزیز شخصیت کے طور پرشمار کیا جاتا ہے۔شہر شیخوپورہ کی مشہور آرائیں فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی ڈگری کے حامل ہیں۔ انتہائی عملی شخصیت ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اپنے فن کے جوہر دیکھائے۔ اور فیکٹری مینیجرکے عہدہ پر براجمان رہے۔ اپنی ذاتی بلڈنگ کنسٹرکشن کمپنی قائم کی اور اس وقت کامیاب بلڈنگ تعمیراتی کمپنی کو چلارہے ہیں۔ بیرون ملک بھی اپنی ذاتی بلڈنگ تعمیراتی کمپنی چلاچکے ہیں۔ سال 2007 میں عملی سیاست میں قدم رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے اور مختلف پارٹی عہدوں پر براجمان ہوئے۔ چار سال تک سٹی جنرل سیکرٹری اور دو سال تک سٹی صدر رہے۔تیرہ سالہ رفاقت کے بعد 2020 میں مسلم لیگ ن کو خیر آباد کہ دیا۔ سال 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کو جوائن کیا۔ اوراس وقت پی پی 139  میں پی ٹی آئی کی جانب سے امیدوار ہیں۔ میاں منور اقبال کو شہر شیخوپورہ کے متحرک ترین سیاستدانوں میں شمار ہوتا ہے۔سماجی شخصیت ہیں۔ امیر غریب کی تفریق کئے بغیر اپنے گھر کے دروازے سب کے لئے کھول کر رکھتے ہیں۔ انتہائی عاجزانہ شخصیت کے مالک ہیں۔ انتخابات جیتنے کے بعد شہر شیخوپورہ اورملحقہ دیہی علاقوں کی ترقی،  صحت، تعلیم اور فلاح وبہبود کے دیگر شعبہ جات میں متعدد منصوبہ جات  کے لئے جامع پلان رکھتے ہیںیاد رہے 2008 سے 2020 تک شہر شیخوپورہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں میاں منور اقبال کی پلاننگ کا بہت بڑا عمل دخل رہا ہے ۔
میاں افضال حیدر
آرائیں برادری کے سپوت میاں افضال حیدر کا شمارشہر شیخوپورہ کے سب سے متحرک نوجوان سیاستدان کے طور پر کیا جاتا ہے۔انتہائی عاجزانہ طبیعت کے مالک ہیں۔ کوئی بھی تقریب چاہے سیاسی ہو مذہبی یا سماجی ہر محفل کی جان بن چکے ہیں۔  سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں ۔   1990 کی دہائی میں گورنمنٹ کالج شیخوپورہ سے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا اورمسلم سٹودنٹ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری کے عہدہ پر براجمان رہے۔ نعیم حسین چٹھہ، حاجی محمد نواز ،ڈاکٹر اشرف گھمن اور محمود اکبر خان جیسے بڑے سیاستدانوں کی زیر سرپرستی سیاست کی باریکیوں کو سیکھنے کا موقع ملا۔سال 2008 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے انکی پارٹی کے لئے بے لوث خدمات اور قائدانہ صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئےپارٹی نے انکو  2019 میں انصاف ویلفئر ونگ کا سٹی صدر اور 2022 میں ضلعی سینئر نائب صدر پر تعینات کیا۔ان عہدوں پر رہتے ہوئےجہاں پارٹی کو شہر شیخوپورہ میں مزید فعال کیا وہیں پر شہر شیخوپورہ کے  سکولوں، کالجوں، مساجد، مدارس، صحت، کھیل کے میدانوں میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور سماجی، عوامی خدمت کی اور پسماندہ علاقوں میں غریب و لاچار افراد کی دادرسی کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔پارٹی کے لئے خدمات کی بدولت پارٹی کی سینئر لیڈرشپ تک رسائی حاصل کرچکے ہیں۔ ریل اسٹیٹ اور ٹریڈنگ کے شعبہ میں کامیاب بزنس مین کے طور پر پہنچانے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے شہر شیخوپورہ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کے لئے پرامید ہیں۔کامیابی کے بعد  شہر شیخوپورہ کے لئے میگا پراجیکٹس سکول، کالجز، یونیورسٹی ، ہسپتال کی توسیع، پینے کے صاف پانی اور لاہور طرز پر ویسٹ کنٹرول مینجمنٹ سسٹم کا قیام اور پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔
طیاب راشد سندھو ایڈووکیٹ
جاٹ برادری کے چشم و چراغ طیاب راشد سندھو ایڈووکیٹ شہر شیخوپورہ کی ہر دلعزیز شیخصیت ہیں۔انتہائی ملنسار طبیعت کے مالک ہیں۔ شہر شیخوپورہ کے نوجوانوں میں انکی پسنددیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں آزاد حثییت سے الیکشن لڑا اور ن لیگ اور پی ٹی آئی جیسی بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کےمقابلہ میں 22,659 ووٹ حاصل کئے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ اور ایل ایل بی آنرز اور ماسٹر ان انٹرنیشنل لاء کی ڈگری برطانیہ کی ایڈن برگ یونیورسٹی سے حاصل کی۔2013 سے سیاست میں ہیں،اپنی سیاسی بصیرت اور قابلیت کی بنیادپر چار سال تک مسلم لیگ ن کے سٹی صدر رہ چکے ہیں۔2021 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پارٹی میں فعال کردار ادا کررہے ہیں۔انتہائی قلیل عرصہ میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی قربت حاصل کرچکے ہیں۔ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی جانب سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد شہر شیخوپورہ کے بنیادی ڈھانچے اور تعلیم و صحت کے شعبہ جات میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا پلان رکھتے ہیں۔ جیسا کہ شیخوپورہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا قیام، ٹریفک مسائل کے حل کے لئے شہر شیخوپورہ کے مشہور بتی چوک میں انڈر پاس، صاف پانی کی دستیابی کے لئے شہر شیخوپورہ کی پانی کی تمام پرانی لائنوں کی جگہ نئی واٹر پائپ لائن کی تنصیب، ماں اور بچوں کی صحت کے لئے مدر اینڈر چلڈرن ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور شیخوپورہ کے لئے یونیورسٹی کی تعمیر کو یقینی بنانا شامل ہے۔
چوہدری شکیل عطاء اللہ ورک
انتہائی عاجزانہ طبیعت کے مالک چوہدری شکیل عطاء اللہ ورک کا شمار سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ کے دیرینہ ساتھیوں میں کیا جاتا ہے۔ شہر شیخوپورہ میں ق لیگ کو منظم رکھنے میں انکا کلیدی کردار ہے۔ ق لیگ کے صوبائی نائب صدر کے عہدہ پر براجمان ہیں۔ وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کے مشیر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔حکومت یا اپوزیشن ہر دور میں چوہدری پرویز الہیٰ اور مونس الہیٰ کا ہر اول دستہ کے طور پر شانہ بشانہ ساتھ دیتے رہے ہیں۔کسی بھی کٹھن مرحلے میں مسلم لیگ ق کو نہیں چھوڑا۔ انتہائی مستقل مزاج شخصیت ہیں۔ کامیاب کاروباری ، سماجی اور سیاسی شخصیت کے طور پر پہنچانے جاتےہیں۔ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے امیر یا غریب  افراد کے لئے چوہدری شکیل عطاءاللہ ورک کے ڈیرے کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ انتہائی قلیل عرصہ بطور مشیر وزیر اعلی پنجاب رہنے کے باوجود شہر شیخوپورہ کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے اپنی بھرپور توانائیاں صرف کیں۔عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کی جانب سے صوبائی نشست کے لئے الیکشن لڑنےکے لئے پرعزم ہیں۔ انتخابات میں جیت کےبعد شیخوپورہ کے دیہی علاقوں کی محرومیوں کے ازالہ کے لئے ترقیاتی کاموں کے جال بچھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔جن میں صحت ، تعلیم کے منصوبہ جات اور گاؤں دیہاتوں تک پکی سڑکوں کا قیام شامل ہے۔اپنے قائد پرویز الہیٰ کے ویژن کے مطابق شہر شیخوپورہ میں  1122 کے مزید مراکز کے قیام کے لئے پرامید ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز