اللہ تعالی نے اس امت کو معاف اور عطا کرنےکے مختلف مواقع دئیے ہیں، جس میں بندہ اللہ تعالی کے حضور اپنے گناہ پر احساس ندامت کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہوتا ہے، مغفرت خداوندی اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اس کے باوجود اللہ تعالی نے اپنی بخشش سے نوازنے کے لئے’’ شب برأت‘‘ ،’’شب قدر‘‘ اور رمضان جیسے مخصوص اور اہم بخشش کے مواقع بھی عنایت فرمائے ہیں، تاکہ ان سے اس امت کے گناہ گار اور نافرمان فائدہ اٹھاکر اپنی جنت کو اس دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ہی تعمیر کرلیں، اور سارے گناہوں سے پاک وصاف ہوکر اس دنیا سے عالم جزاء وسزا کا رخ کریں، نیز اللہ تعالی کے حبیب کی محبوب امت کو اپنے جرائم کے احساس کے وقت اپنے بچاؤ سے متعلق ناامیدی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور اسے قیامت کے دن بھی دربار خداوندی میں شرمندگی و افسردگی کے بے فائدہ احساس میں مبتلا نہ ہونا پڑے۔ ذیل میں شب برات سے متعلق احادیث پیش خدمت ہیں۔
شب برأت کی فضیلت احادیث نبویہ میں:
(1) حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اللہ تعالی پندرہویں شعبان کی شب اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ ساری مخلوق کی مغفرت کر دیتا ہے‘‘
اس روایت کو علامہ ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ہیثمی اس روایت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں، کہ اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد:روایت نمبر:6921)
(2) حضرت ابو ثعلبہ خشنی نبی اکرم ﷺ کا قول نقل کرتے ہیں:
’’اللہ تعالی پندرہ شعبان کی شب اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام مومنین کی مغفرت فرما دیتے ہیں، اور کافرین کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں، اور کینہ پرور کی جب تک کہ وہ اس سے باز نہ آئے، اس کے کینہ پروری کی وجہ سے مغفرت نہیں فرماتے‘‘
(المعجم الکبیر:مکحول عن ابی ثعلبۃ 22/223، روایت نمبر:590)
(3) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب پندرہ شعبان کی شب آئے، تو اس رات کو عبادت کرو، اور اس دن روزہ رکھو، اس لئے کہ اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں، اورصبح صادق تک یہ اعلان کرتے رہتے ہیں، کہ کوئی ہے مغفرت کا طالب جس کی میں مغفرت کردوں؟ کیا کوئی رزق کا طلب گار ہے، جسے میں رزق عنایت کروں؟ کیا کوئی مصائب میں مبتلا ہے، جسے میں اس سے نجات دوں؟
(سنن ابن ماجہ:کتاب الصلاۃ ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)
(4) حضرت عثمان بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب پندرہ شعبان کی رات آتی ہے,، تو ایک آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے، کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں، کیا کوئی سائل ہے کہ میں اسے دوں؟ توبدکار عورت اور مشرک کے علاوہ جو شخص بھی کسی چیز کا سوا ل کرتا ہے اسے وہ چیز دے دی جاتی ہے ‘‘
(الفتح الکبیر:1؍133،روایت نمبر:1319)
(5) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس رات رسو ل اللہ ﷺ کے جنت البقیع تشریف لے جانے کا واقعہ بیان کرتی ہوئی فرماتی ہیں:
’’میں ایک رات نبی اکرمﷺ کو اپنے پاس نہ پائی تو میں آپ کی تلاش میں نکلی، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ’’بقیع‘‘ میں موجود ہیں، اور اپنا سر آسمان کی جانب اٹھائے ہوئے ہیں، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہیں اس بات کا خوف ہے، کہ تم پر اللہ اور اس کا رسول ظلم کریگا، میں نے کہا کہ میں تو ایسا نہیں سمجھتی، البتہ میں نے یہ سمجھا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس تشریف لے گئے ہیں، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ پندرہ شعبان کی شب اللہ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں، اور قبیلۂ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت کرتے ہیں‘‘
(سنن ابن ماجہ:کتاب الصلاۃ ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان۔سنن ترمذی :کتاب الصوم ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)
(6) حضرت عائشہ ؓ ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے، کہ رسول کریم ﷺ نے آپ سے فرمایا:
’’میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے، اور انہوں نے کہا کہ یہ پندرہ شعبان کی رات ہے، اس میں قبیلۂ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر جہنم سے لوگ آزاد کئے جاتے ہیں، اللہ اس رات مشرک ،کینہ پرور، قطع رحمی کرنے والے، والدین کے نافرمان اور شراب پینے والے کی طرف نظر رحمت نہیں کرتے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں، کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے اوپر سے کپڑے ہٹائے، اور فرمایا اے عائشہ کیا تم مجھے آج کی رات عبادت میں مصروف رہنے کی اجازت دوگی؟ (حضرت عائشہؓ کہتی ہیں) میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان (ضرور آپ عبادت کریں میری طرف سے اجازت ہے) چناں چہ رسول اللہﷺ اٹھ کھڑے ہوئے، اور آپ اتنی دیر سجدہ میں پڑے رہے، کہ مجھے یہ خیال آنے لگا کہ کہیں آپ کی وفات تو نہ ہوگئی ہو‘‘
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
’’پندرہ شعبان کی رات میں نبی کریمﷺ دعا کررہے تھے، اور سجدے میں کہ رہے تھے، اے اللہ میں آپ کے عتاب سے آپ کی معافی کی پناہ چاہتا ہوں، آپ کی ناراضگی سے آپ کی رضا کی پناہ چاہتا ہوں، اور آپ کی پکڑ سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں، رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ مجھے جبرئیل علیہ السلام نے کہا ہے، کہ میں ان کلمات کو اپنے سجدہ میں بار بار کہو، اور یہ کلمات مجھے سکھائے گئے ہیں‘‘
اس لئے اس رات اس دعا کو بطور خاص خوب پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے، بالخصوص سجدوں میں، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے پڑھا۔
(الترغیب والترہیب:4191۔کنز العمال: الاکمال من لیلۃ النصف من شعبان،روایت نمبر:35184)
(7) حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں:
’’بیشک اللہ پندرہ شعبان کی رات اپنی مخلوق پر متوجہ ہوتے ہیں، اور مشرک وکینہ پرور کے سوا تمام لوگوں کی مغفرت کردیتے ہیں‘‘
(سنن ابن ماجہ:کتاب الصلاۃ ،باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان)
(8) حضرت عبد اللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے ارشاد فرمایا :
یطلع اللہ عزوجل الی خلقہ لیلۃ النصف من شعبان فیغفر لعبادہ الالاثنین: مشاحن وقاتل نفس
(مسند احمد :مسند عبد اللہ بن عمر،روایت نمبر:6642، یہ حدیث حسن ہے ، علامہ البانیؒ نے اس کی صراحت کی ہے)
’’اللہ عزوجل پندرہ شعبان کی شب اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتے ہیں اور دو قسم کے لوگوں یعنی کینہ پروراور خودکشی کرنے والے کے سوا سارے بندوں کی مغفرت کر دیتے ہیں‘‘
(9) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ سے نقل کرتے:
’’جب پندرہ شعبان کی شب آتی ہے، تو اللہ آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں، اور مشرک اور اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے لوگوں کے سوا سب کی مغفرت کردیتے ہیں‘‘
(مجمع الزوائد،حدیث نمبر:75921، امام بیہقی ترغیب میں فرماتے ہیں: لاباس باسنادہ)
(10) حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الله لعباده إلا لمشرك أو مشاحن
(مسند البزار: ص : 245، علامہ ہیثمی کہتے ہیں:اس کے ایک راوی ہشام سے میں واقف نہیں ہوں البتہ بقیہ سارے راوی ثقہ ہیں)
’’جب نصف شعبان کی شب آتی ہے، تو اللہ مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ اپنے سارے بندوں کی مغفرت کر دیتے ہیں‘‘
(11) شب برأت میں عبادت کس طرح کرنی چاہیے؟
شب برأت میں جگ کر عبادت کا اہتمام مستحب ہے، اس کے لئے شرعی طریقہ یہ ہے، کہ ہر آدمی اپنی مرضی سے انفرادی طور پر عبادات میں مصروف ہو، اس رات عبادت کے لئے لوگوں کو جمع کرنے یا اجتماعی طور پر کسی عبادت کا اہتمام کرنے کو فقہاء نے مکروہ کہا ہے، اور بدعت میں شمار کیا ہے۔(الموسوعۃ الفقہیۃ: احیاء)
علامہ ابن نجیم مصری ؒلکھتے ہیں:
يكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد (البحر الرائق: 96/2)
’’ان فضیلت والی راتوں میں سے کسی رات میں جاگنے (عبادت) کے لئے مسجدوں میں اجتماع مکروہ ہے ‘‘
اس لئے اس رات کی فضیلت حاصل کرنے کے لئے ہر شخص کو اپنی خوشی سے انفرادی طور پر حسب استطاعت عبادت کا اہتمام کرنا چاہئے، چاہے وہ تلاوت و ذکرکی شکل میں ہو، یا نماز ومناجات کی شکل میں ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے نبی اکرمﷺ نے اس رات کی فضیلت بیان کرنے پر اکتفاء کیا، اور خود اکیلے عبادت میں مصروف رہے۔ خود حضرت عائشہ ؓ کو بھی نہیں کہا، کہ وہ بھی عبادت میں مصروف ہو جائیں، اور نہ صحابہ کرام ؓ کو جمع کیا، البتہ یہ حضرات نیکیوں کی تلاش میں رہتے تھے، اور نبی اکرم ﷺکے نقش قدم اور آپ کی تعلیمات کی مکمل پیروی ان کی طبیعت میں رچ بس چکی تھی، اس لئے انھوں نے بھی فضیلت کو سن کر اس رات اپنے اپنے طور پر عبادت کا اہتمام شروع کردیا۔
(12) شب برأت میں باجماعت نفل اور صلاۃ التسبیح کا اہتمام ؟
بعض مسجدوں میں ایسا بھی دیکھا گیا ہے، کہ اس رات لوگوں کو جمع کرتے ہوئے باضابطہ یہ اعلان ہوتا ہے، کہ رات کے اتنے بجے باجماعت نفل یا باجماعت صلاۃ التسبیح پڑھی جائے گی، اس طرح کا اعلان واجتماع اور نوافل کا باجماعت اہتمام بہت بری بدعت ہے، جس 2ی شریعت اسلامیہ میں اجازت نہیں ہے، اور رسول اللہ ﷺ ، صحابہؓ اور اسلافؒ سے ثابت نہیں ہے، فقہاء کرام ؒنے لکھا ہے کہ رمضان کے علاوہ کسی اور موقع پر نفل نماز کو جماعت سے پڑھنا مکروہ ہے۔ (حاشیۃ الشلبی: 1؍180)
علامہ ابن نجیم مصری حنفی لکھتے ہیں:
ولا يصلى تطوع بجماعة غير التراويح وما روي من الصلوات في الأوقات الشريفة كليلة القدر وليلة النصف من شعبان وليلتي العيد وعرفة والجمعة وغيرها تصلى فرادى (البحر الرائق: 2؍56)
’’تراویح کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز جماعت سے نہیں پڑھی جائے گی، اور اوقات شریفہ جیسے کے شب قدر، پندرہ شعبان کی رات، عیدین ، عرفہ ، جمعہ وغیرہ کی راتیں ہیں، تو ان میں جو نماز اکیلی پڑھی جائیں گی‘‘
(13) نفلی نماز کے مخصوص طریقے:
اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شب ِ برات میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے، مثلاََ پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ، اسکا کوئی ثبوت نہیں، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔
اسی طرح بعض لوگ یہ مشہور کرتے ہیں، اس رات ترتیب وار مختلف حاجات کے لئے دو دو رکعت مخصوص سورتوں کی تلاوت کے ساتھ پڑھنی چاہئے، تو وہ حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ذخیرۂ احادیث میں ایسی کوئی حدیث نہیں ہے ، یہ محض لوگوں کی من گھڑت بات ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔ اس رات دعا قبول ہوتی ہے، مخصوص کیفیات اور طریقوں کا اہتمام کرنے کے بجائے حسب استطاعت ذکر وتلاوت اور نماز کے ذریعہ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرکے اللہ کے سامنے اپنی حاجتوں کو پیش کرنے سے ان شاء اللہ قبولیت نصیب ہوگی، اور حاجتیں پوری ہوں گی۔
مخصوص قسم کی نماز کو ثابت کرنے کے لئے کئی لوگ اس روایت کو پیش کرتے ہیں:
’’جو شخص پندرہ شعبان کی شب میں سو رکعت میں ایک ہزار مرتبہ (ہررکعت میں دس مرتبہ)قل ہو اللہ احد پڑھے گا، تو وہ دنیاسے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اللہ اس کے خواب میں سو فرشتوں کو بھیجیں گے جن میں سے تیس اسے جنت کی بشارت دے رہے ہوں گے، تیس اسے جہنم سے بچا رہے ہوں گے ، تیس اس کو غلطیوں کو بچائیں گے اور دس اس کے دشمنوں سے انتقام لیں گے‘‘
حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی حدیث ہے ہی نہیں، بلکہ یہ من گھڑت بات ہے جو حدیث کے نام سے پھیلائی گئی ہے ، علامہ ابوالحسنات لکھنوی علیہ الرحمۃ نے اس پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ’’ موضوع‘‘ ہے اور علامہ ابن الجوزی ؒ، علامہ سیوطیؒ وغیرہ نے اس کو موضوع کہا ہے، اور بعد کے بھی محدثین نے اسی کی صراحت کی ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے۔
(الآثار المرفوعۃ: 79)
(14) شب برأت میں خصوصی روشنی کے انتظامات:
اس رات بہت سے لوگ خصوصی لائٹنگ اور روشنی کے انتظامات کرتے ہیں، گلیوں کو روشن کرتے ہیں، یہ عمل بھی برا ہے، جس سے بچنا ضروری ہے، آج کی رات تنہائی میں بیٹھ کر عبادت کرنے کے لئے ہے، نہ کہ جشن اور چراغاں اور شور ہنگامے کے لئے، بلکہ اس کے اہتمام میں بہت سے مفاسد ہیں، کہ اس مقدس رات میں انسان ان چیزوں میں پڑکر ’’اسراف‘‘ اور فضول خرچی میں مبتلا ہوتا ہے؛ کیونکہ ضرورت سے زیادہ بلاوجہ روشنی جلانا اسلام میں ناپسندیدہ ہے، نیز بہت سی جگہوں پر باضابطہ قبرستانوں کو بھی روشن کیا جاتا ہے، یہ بھی ناپسندیدہ عمل ہے، قبرستانوں میں چراغان کرنا ثابت نہیں ہے، بلکہ ایک روایت میں اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔(نسائی: 2014)
(15) شب برأت میں قبرستان جانا؟
روایت میں ہے کہ رسو ل اللہﷺ اس رات قبرستان میں تشریف لے گئے، اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برات میں قبرستان جائیں، لیکن قبرستان جانے کو اس رات کا ایک لازمی عمل سمجھنا درست نہیں ہے، جو چیز رسول کریمﷺ سے جس درجہ میں ثابت ہو، اسی درجے میں اسے رکھنا چاہئے، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریمﷺ سے ایک مرتبہ جانا مروی ہے، کہ آپ شبِ برات میں جنت البقیع تشریف لے گئے، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے، اس لئے اگر کوئی زندگی میں ایک مرتبہ چلاجائے تو ٹھیک ہے، لیکن ٹولیاں بناکر ہر شب برأت میں قبرستان جانے کا اہتمام کرنا، التزام کرنا، اور اسکو ضروری سمجھنا، اور اسکو شب برات کے ارکان میں داخل کرنا، اور اسکو شب برأت کا لازمی حصہ سمجھنا، اور اسکے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برأت نہیں ہوئی، یہ اسکو اسکے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے، اور درست نہیں ہے ۔
(16) شب برأت میں حلوہ پکانا:
شبِ برات میں بعض لوگ حلوہ بھی پکاتے ہیں؛ حالاں کہ اس رات کا حلوے سے کوئی تعلق نہیں۔ آیات کریمہ، احادیث شریفہ، صحابہٴ کرام ؓکے آثار، تابعین و تبع تابعین کے اقوال اور بزرگانِ دین کے عمل میں کہیں اس کا تذکرہ اور ثبوت نہیں۔
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک جب شہید ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ نوش فرمایا تھا، یہ بات بالکل من گھڑت اور بے اصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک غزوئہ احد میں شہید ہوئے تھے، اور غزوئہ احد ماہِ شوال میں پیش آیا تھا، جب کہ حلوہ شعبان میں پکایا جاتا ہے، دانت ٹوٹنے کی تکلیف ماہِ شوال میں اور حلوہ کھایا گیا دس مہینے بعد شعبان میں، کس قدر بے ہودہ اور باطل خیال ہے!
اور بھی مخصوص قسم کے کھانوں اور پکوان کو لوگوں نے اس رات سے جوڑ دیا ہے، جو سراسر بےبنیاد ہے، اور اس کی دلیل کے طور پر جو باتیں پیش کی جاتیں ہیں، وہ سب من گھڑت ہیں۔
(17)گھروں کی خصوصی صفائی اور مردوں کی روحوں کے آنے کا تصور؟
گھروں کی صفائی اور نئے کپڑوں کی تبدیلی کا اہتمام کیا جاتا ہے، گھروں میں اگربتیاں جلائی جاتی ہیں، اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں، کہ اس رات میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، ان کے استقبال میں ہم ایسا کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ بالکل فاسد اور مردود ہے، کسی بھی حدیث سے روحوں کا آنا ثابت نہیں ہے، اس لئے یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔اور پھر اس عقیدہ کے تحت دیگر کئی کئے جانے والے خرافات کی بھی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
اس رات میں بندوں پر اللہ کی جو خصوصی توجہ اور عنایت ہوتی ہے، اور جس طرح گنہگاروں کو مغفرت نصیب ہوتی ہے، اس سے محروم رکھنے کے لئے شیطان نے بہت سے لوگوں کو اس کی فضیلت کے اعتراف سے روکا، تو بہت سے اعتراف کرنے والوں کو لایعنی کاموں میں لگایا، ہماری کامیابی اس میں ہے کہ شیطان کی چال کو ناکام بناکر اس کی فضیلت کو سمجھیں، اور اس کی قدر کریں، اور یہ اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں، کہ اس رات میں نہ کوئی مخصوص رسم و رواج ہے، نہ کوئی مخصوص پکوان ہے، اور نہ ہی عبادت کا کوئی مخصوص انداز ہے، ہمیں اس رات میں صرف اللہ کی عبادت کرنی ہے، چاہے تلاوت کی شکل میں ہو، یا نماز کی شکل میں ہو، یا ذکر وتسبیح کی شکل میں ہو۔ اور ان کے علاوہ تمام خرافات نیز لایعنی کاموں، کھیل کود، سیر وتفریح، اور دوستوں کے ساتھ مجلس یا کسی قسم کا مقابلہ وغیرہ سے اپنے آپ کو مکمل بچانا ہے، اگر کچھ نہیں کرسکتے، تو عشاء کی نماز باجماعت پڑھ کر سوجائیں، اور فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرلیں، تو بھی اس رات کی عظمت وبرکت سے محرومی نہیں ہوگی، لیکن اس رات میں خرافات میں لگنا یقینا بڑی محرومی ہے، اور اس رات کی بڑی ناقدری ہے۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے، اور اس بابرکت رات سے مستفید ہونے کی توفیق دے۔ اور صحیح معنوں میں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔