جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت سے آئینی رشتہ ہے ۔ سیاسی رنگ نہ دیا جائے ہمارے لئے تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں ‘‘ تو بڑی خوشی ہوئی ۔ایک پروفیشنل فوج کو ایسا ہی ہوناچاہئے مگر کیا کریں جب خود حکومت میں موجود لوگ اس کے برعکس پیغام بھیجتے ہیں اور اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہیں، گزشتہ رات جب سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو خط لکھے گئے توقومی اسمبلی کے اندر سے آوازیں آئیں کہ پہلے سول کپڑوں میں صاحبان ِ احکامات موجود رہتے تھے ۔کل سے وردی پہن کر آنے لگے ہیں ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ایم این ایز اجلاس میں شرکت کریں مگر کوئی اور نہیں چاہتا۔
مجھے یقین ہے کہ یہ حکومتی لوگ ایسی باتیں اس لئےکرتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان فاصلے اور بڑھیں انہیں خوف ہے کہ کہیں پھر پی ٹی آئی اور فوج ایک پیج پر نہ آجائیں۔اسرائیل اور کشمیر پرعمران خان کا موقف سب کے سامنے ہے۔روس چین اور سعودی عرب کے ساتھ بھی ان کی خارجہ پالیسی وہی ہے جو ایک پاکستانی کی ہونی چاہئے ۔طالبان کے معاملہ میں توپی ٹی آئی کی پالیسی عسکری پالیسی کے اتنے قریب رہی کہ مخالفوں نے عمران خان کو طالبان خان کہنا شروع کردیامگر کچھ لوگ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان فاصلے پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہیں مسلسل بڑھایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتا ہوں ۔ میں ذاتی طور پر ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئرصا حب کو جانتا ہوں جنہوں نے تقریباً دوسال سے ایک میڈیا کمپنی بنائی ہوئی ہے۔بڑے زبردست اورانتہائی ایمان دار آدمی ہیں۔ افواج پاکستان میں ان کاشاندار کیرئیر ہے۔ آج کل ان کی کمپنی عمران خان کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کر رہی ہے۔ یقیناً پی ٹی آئی مخالفین نے انہیں یہ پروجیکٹ دیا ہو گا ۔اس کمپنی کے ملازمین تقریباً پندرہ ہزار ٹویٹ روز کرتے ہیں ۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔ بزنس کرناہر کمپنی کا بنیادی حق ہے مگرمسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب لوگوں کومعلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کا مالک ایک ریٹائرڈ فوجی افسرہے تولوگ اسے فوج کے ساتھ جوڑنے لگتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے اعلیٰ ترین جج صاحبان، جنہوں نے عمران خان کی حکومت کے خاتمہ میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا، آدھی رات کو عدالتیں لگا دی تھیں۔اب انہی حضرات کے انصاف پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں ۔ ان کے ساتھ جو غیر آئینی اور غیر اخلاقی رویہ اپنایا گیا ہے وہ واضح طور پرکہہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت انتخابات سے فرار چاہتی ہے مگر اس سلسلے میں وہ جتنی کوششیں کررہی ہے ۔ان کا تاثر یہی دے رہی ہے کہ یہ سب کچھ ہم نہیں کررہے اسٹیبلشمنٹ کرا رہی ہے اور ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں ۔نون لیگ والے تو یہاں تک کہتے پھرتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت ہوتی تو نواز شریف سعودی عرب سے ہو کر واپس انگلینڈ نہ جاتے،اپنے وطن آتے ۔ہم مجبور ،تو انہیں اپنے وطن آنے کی دعوت نہیں دے سکے۔کیونکہ ہمیں نظر آرہاہے کہ وہ پاکستان آئے تو انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا ۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ شہباز شریف اور ان کےبچوں کے مقدمات ختم ہو گئے ہیں مگر نواز شریف کے نہیں ہورہے ۔کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ؟۔پی ٹی آئی ایک طرف کھڑی ہے اور باقی ساری جماعتیں دوسری طرف مگریہ تمام پارٹیاں انتخابات کا نام سن کر کانپنے لگتی ہیں جیسے انتخابات کا مطلب صرف یہی ہے کہ انہیں اقتدار سے نکال دیا جائے! پاکستان میں جب بھی انتخابات ہوئے تو نئی پارٹی حکومت میں آئی ۔ کم ہی ہوا ہے کہ جو پارٹی اقتدار میں تھی وہ دوبارہ الیکشن جیت سکی ہو۔بے شک اس وقت بھی یہی لگ رہا ہے کہ جیسے پوری قوم عمران خان کے ساتھ ہے۔
وہ افسران جو عمران خان کے خلاف ہیں انہیں بھی قوم کا احترام کرنا چاہئے۔ ملک کی بہتری کیلئے سب کو اپنی اپنی انا کے خول سے باہر نکلنا پڑے گاوگرنہ اندھیروں میں اترتی ہوئی قوم احتجاج پر بھی اتر سکتی ہے۔کل ایک شاعر نے کہا تھا
قلم کے ٹکڑے سڑک پر بکھیر دینے تھے
کسی زباں میں مجھے احتجاج کرنا تھا
آج ایک شاعر کہہ رہا ہے
یہ احتجاج کا لہجہ نہیں بغاوت ہے
لکھے کو آگ لگا دی، قلم کو توڑ دیا
پلیز فون ٹیپ کرنے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ویڈیو لیکس سے کچھ نہیں ہو گا۔ سوشل میڈیا پردروغ گوئی کوئی مثبت نتائج نہیں لا سکتی۔ سوشل میڈیا پر آپ پوری قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ لوگ جو قوم کے نمائندے ہیں انہیں جرم ِ حق گوئی و بیباکی کی سزاان کے چاہنے والوں کے دلوں میں نفرتوں کی آگ کی لوتیز تر کر رہی ہے۔ پلیز ملک و قوم پر رحم کیجئے کیونکہ اس کا نتیجہ تباہی ہی تباہی ہے ۔ہاں اگر کسی چیز سے کچھ ہو سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف انصاف ہے مگر اس کیلئے بھی ضروری ہے کہ انصاف ہوتا ہوا دکھائی دے۔ ہاں اگر کسی چیز سے کچھ ہو سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف مہنگائی کے خاتمے سے ہو سکتا ہے کہ غریب کے سوکھے ہو ئے حلق سے کوئی لقمہ ِ تر نیچے اتر سکے۔ اسے محسوس ہو کہ وہ ابھی زندہ رہ سکتا ہے۔ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ انہیں سر چھپانے کیلئے چھت فراہم کر سکتا ہے۔