پاکستان آج اپنی تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران سے گزر رہاہے جس کی جڑیں بڑی حد تک ہمارے ماضی میں ہیں ۔ قومی وسائل اور افرادی قوت کے درست استعمال ،غیر ترقیاتی اخراجات کو حتی الامکان کم رکھ کر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ، زراعت کے طریقوں کو بہتر بنانے ، جدید صنعتوں کو فروغ دینے ،سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول مہیا کرنے اور کرپشن پر مکمل کنٹرول کے بجائے بے لگام اخراجات پورےکرنے کیلئے قرضوں پر انحصار نے ہماری معیشت کو مستحکم نہیں ہونے دیا ، حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین قرض پروگرام مکمل نہیں ہوپایا مگر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گزشتہ روز ا سمبلی میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم عالمی مالیاتی ادارے کے قرض پروگرام کے نویں جائزے کی تمام پیشگی شرائط پوری کر چکے ہیں۔صرف ایک دوست ملک سے ایک ارب ڈالر کی تصدیق کا انتظار ہے اور اس کے بعد اسٹاف کی سطح کے معاہدے کیلئے تمام شرائط پوری ہو جائیں گی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جاری مذاکرات میں نویں جائزے پر عمل درآمد نہیں بلکہ اس سے پہلے ساتوں اور آٹھویں جائزے کا معاملہ زیادہ دشوار تھا بہرحال اب تمام مراحل طے ہوگئے ہیں اور اسی کے نتیجے میں ہم نے ان کی شرط کے مطابق 170ارب روپے کے ٹیکس سمیت کئی پیشگی اقدامات مکمل کئے ہیں ۔وزیر خزانہ نے توقع ظاہر کی کہ اللہ نے چاہا تو پاکستان جلد بھنور سے نکلے گا۔تاہم آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط پر عملدرآمد کے بعد وطن عزیز میں مہنگائی آسیب کی طرح پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے ، جس نے ملک کی بھاری اکثریت کی زندگی دشوار کر رکھی ہے۔لہٰذا حکومت کو کم از کم ناگز یر بنیادی ضروریات کو عوام کی دسترس میں رکھنے کیلئے تمام ممکنہ تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔موجودہ حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پروزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کامیابی کے سفر سے عبارت ہے جس کے دوران پاکستان کی ساکھ بحال ہوئی اور ملک کو معاشی اور توانائی کے بڑے کٹھن چیلنجز درپیش رہے جن پر قابو پالیا گیا،مختلف منشور کی حامل سیاسی جماعتوں کا مشترکہ قومی مقصد کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونا مفاہمت کی سیاست کا آئینہ دار ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سال بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سال تھا ،سابق حکومت کی بچھا ئی گئی اقتصادی سرنگوں ،عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات اور اشیاء خور ونوش کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باوجود پاکستان کی معیشت بدستور رواں دواں ہے اور ڈیفالٹ کی تمام پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر اور پاکستان کیلئے جائزہ مشن کے سربراہ جہاد آزورنے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اسٹاف سطح کا معاہدہ جلد طے ہو جائے گا۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا،وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا نے بھی اسلام آباد سے زوم اجلاس میں شرکت کی ،جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود احمد خان ،گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد،سیکرٹری خزانہ ،سیکریٹری اقتصادی امورڈویژن واشنگٹن میں اجلاس میں موجود تھے ۔اعلامیہ کے مطابق فریقین نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ان کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی بات چیت اور پیشگی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔آئی ایم ایف جائزہ مشن کے سربراہ جہاد آزورنے کہا کہ حکومت پاکستان کے اقدامات پر آئی ایم ایف کو اعتماد ہے ،اسٹاف لیول معاہدے پر جلد دستخط ہو جائیںگے ۔ جس کے بعد آئی ایم ایف بورڈ منظوری دے گا ۔ مزید بر آںآئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے مالی سال 2024-2023کا آئوٹ لک جاری کر دیا ہے ، جس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 27.1فیصد رہے گی،آئندہ مالی سال میں دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح بڑھے گی ،سود میں اضافہ ناگز یر ہوگا لیکن پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر تقریباََ 21.9فیصد پر پہنچ جائے گی۔بیروز گاری کی شرح میں بھی کمی آئے گی ۔ دوسری جانب حکومت نے 1800سی سی تک کی استعمال شدہ گاڑیوں اور موبائل فونز سمیت 350سے زائد اشیا پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی ہے ۔طویل عرصے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے ایک حد تک مثبت آئوٹ لک سامنے آئی ہے ،جبکہ اس دوران آئی ایم ایف کے پروگرام سمیت کسی ملک سے کوئی بڑا پیکیج بھی نہیں ملا ،دکھائی یہ دیتا ہے کہ کچھ حد تک حکومت نے در آمد ات پر پابندی اور کفایت شعاری کی مد میں زرمبادلہ جمع کیا اور کچھ عید کی آمد کے پیش نظر تارکین وطن کی جانب سےاپنےگھروںمیںبھیجی گئی رقوم کی وجہ سے ملک ایک بار پھر ڈینجرزون سے باہر نکل آیاہے،یہی سبب ہے کہ حکومت نے پرانی گاڑیوں اور موبائلوں سمیت 350اشیاء پر اضافی ریگو لیٹری ڈیوٹی ختم کر د ی ہے ،یہ 30فیصد اضافی ڈیوٹی فروری میں لگائی گئی تھی جس کی مدت31مارچ کو ختم ہو گئی او ر ایف بی آرنے اس میں توسیع نہیں کی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان میں سے جو اشیاء تعیشات کی مد میں آتی ہیں ان پر ٹیکس واپس نہیں لیا جانا چاہئے ،جو لوگ اپنے کتوں کو درآمدی بسکٹ کھلانے کا شوق رکھتے ہیں یقیناً وہ مہنگے داموں خرید نے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں۔