رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اے لوگو، جو کوئی ایسے حاکم کو دیکھے جو ظلم کرتا ہے۔ خدا کی قائم کی ہوئی حدیں توڑتا ہے۔عہد الٰہی شکست کرتا ہے۔ سنت نبویؐ کی مخالفت کرتا ہے۔ خدا کے بندوں پر گناہ اور سرکشی سے حکومت کرتا ہے اور یہ دیکھنے پر بھی نہ تو اپنے فعل سے اس کی مخالفت کرے۔ نہ اپنے قول سے۔ سو خدا ایسے آدمی کو اچھا ٹھکانہ نہیں بخشے گا۔‘‘
یہ ہیں تاریخی کلمات حضرت امام حسینؓ کی زبان مبارک سے مقام بیضہ پر ادا کئے گئے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’انسانیت موت کے دروازے پر‘‘ کے باب ’’شہادت حسینؓ‘‘ سے استفادہ کررہا ہوں۔
مولانا محمد علی جوہر یاد آرہے ہیں:
قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ہر نسل کو انسانیت کے وقار کی سر بلندی کیلئے اپنی زندگی میں ایک کربلا میں ضرور اترنا پڑتا ہے۔ جب بھی انسانیت جبر و استبداد کے خلاف میدان میں سڑکوں پر نکلتی ہے تو اس کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے۔ حسینی راستہ۔ یزیدِ وقت کو للکارنے کی جرأت امام عالی مقام حضرت حسینؓ کی تاریخی مزاحمت سے ہی نصیب ہوتی ہے۔ حالات کتنے ناسازگار ہوں۔ اکثر ہم سفر ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے اللہ سے کئےگئے عہد پر عملدرآمد کیلئے نکلتے ہیں تو کوئی بے وفائی،مشکلات آپ کے قدم نہیں روک سکتیں۔
مولانا ابوالکلامؒ آزاد فرمارہے ہیں:’’ خلفائے راشدین کے عہد کے بعد جس واقعے نے اسلام کی دینی سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر ڈالا ہے وہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیر کسی مبالغے کے کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک واقعے پر نسل انسانی کے اس قدر آنسو نہ بہے ہوں گے۔ جس قدر اس پر بہے ہیں۔ تیرہ سو برس کے اندر تیرہ سو محرم گزر چکے۔ اور ہر محرم اس حادثے کی یاد تازہ کرتا رہا۔ امام حسینؓ کے جسم خونچکاں سے دشت ِکربلا میں جس قدر خون بہا تھا اس کے ایک ایک قطرے کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک سیلاب بہا چکی ہے۔‘‘
تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں کہ جس عزم، جذبے اور یقین کے ساتھ نواسۂ رسولؐ نے وقت کے جابر، غاصب اور آمر کے خلاف مزاحمت کے سفر کا آغاز کیا۔ وہ رہتی دنیا تک کیلئےغصب،جبر اور آمریت کے خلاف جدو جہدکیلئے ایک نصاب بن گیا ہے ۔ایک دستور کی شکل اختیار کرگیا۔ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، سب اپنی تقدیر بدلنے کیلئے اسی ’روڈمیپ‘ کو اختیار کرتے ہیں۔ اقبال نے تاریخ کے یہ مناظر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیل ؑ
مقام بیضہ پر خطاب میںہی امام حسینؓ حالات حاضرہ کی عکاسی یوں فرماتے ہیں:
’’ دیکھو یہ لوگ شیطان کے پیرو بن گئے ، رحمان سے سرکش ہوگئے ہیں، فساد ظاہر ہے، حدود الٰہی معطل ہیں، مال غنیمت پر ناجائز قبضہ ہے، خدا کے حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرایا جارہا ہے، ان کی سرکشی کو حق و عدل سے بدل دینے کا سب سے زیادہ حقدار میں ہوں، تمہارے بے شُمار خطوط اور قاصد میرے پاس پیام بیعت لے کر پہنچے، تم عہد کرچکے ہو کہ مجھ سے بے وفائی نہ کروگے،اگر تم اس بیعت پر قائم رہو تو یہ تمہارے لئے راہ ہدایت ہے، کیونکہ میں حسین ابن علی، ابن فاطمہ، رسول اللہؐ کا نواسہ ہوں۔ میری جان تمہاری جان کے ساتھ ہے، میرے بال بچے تمہارے بال بچوں کے ساتھ ہیں، مجھے اپنا نمونہ بنائو اور مجھ سے گردن نہ موڑو لیکن اگر تم یہ نہ کرو بلکہ اپنا عہد توڑ دو اور اپنی گردن سے بیعت کا حلقہ نکال پھینکو تو یہ بھی تم سے بعید نہیں۔‘‘
شہیدوں کے سردار حضرت امام حسین ؓ غاصبوں، جابروں اور ریاستی جارحیت کے خلاف قیامت تک کیلئے ایک علامت، ایک مثال بن گئے ہیں۔ صدیوں سے مرثیے لکھے جارہے ہیں۔ دنیا بھر میں تاریخ اسلام کے اس سب سے بڑے المیے، سب سے تکلیف دہ بے وفائی، مسلمانوں کے نہ صرف اپنے اصولوں سے انحراف اور اپنے نبیؐ اور اللہ کے آخری پیغمبر کے نواسے اور اہل بیت سے اپنے ہی کلمہ گوئوں کی عداوت ایک داغ بن کر رہ گئی ہے۔ نسلیں پشیمان ہیں۔ تاریخ کا ہر طالب علم پوچھتا ہے، کوفے والوں نے ایسا کیوں کیا۔ بنو امیہ نے یہ سفاکی کیوں کی۔ کیا ان کا ایمان متزلزل ہوگیا تھا یا انہیں اہل زر نے خرید لیا تھا۔ ایک طرف حکمران تھا، اس کی فوج تھی، طاقت وروں اور دولت مندوںکے دبائو میںآکر خاموش رہنے والے کلمہ گو تھے۔ دوسری طرف حسینؓ اور ان کے چند ساتھی تھے لیکن ہر آنے والی صدی میں حسینؓ اور ان کے قافلے والوں سے عشق بڑھتا گیا۔ جب بھی دنیا میں ظلم کے خلاف جنگ لڑی جاتی ہے تو ظالم کو یزید اور مزاحمت کرنے والوں کو حسینی کہا جاتا ہے۔ غیر مسلم مورخین نے بھی واقعۂ کربلا کو ریاستی جبر کے خلاف قرونِ اولیٰ کی سب سے بڑی جنگ قرار دیا ہے۔ حجاز سے عراق تک اس طویل سفر( لانگ مارچ) کا ایک ایک پڑائو۔ ایک ایک لمحہ انسانیت کے تحفظ۔ وقار انسانی۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پاسداری۔ ملوکیت۔ شخصی حکومت، آمریت، موروثی قیادت کی بیخ کنی کیلئے پوری دنیا کے سامنے ایک منشور، ایک دستور، ایک روڈ میپ کا درجہ رکھتا ہے۔ اللہ کے راستے میں سب آسائشیں چھوڑ کر خلقِ خدا کو اس کے چھنے ہوئے حقوق واپس دلانا،انسان کا وقار بحال کروانا، ستمگروں کی طاقت سے خوف نہ کھانا، تاریخ میں ہمیشہ اسے امام حسینؓ کی جرأت و بے خوفی کی تقلید کہا گیا۔ جوش ملیح آبادی یاد آتے ہیں:
انسان کو بیدار تو ہولینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ
اقبال تو صدق خلیل کو بھی عشق کہتے ہیں اور صبر حسینؓ کو بھی عشق۔ معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی عشق۔
فلسطین میں اہل فلسطین کی مظلومیت ،بے بسی دیکھ کر وہ پکاراٹھتے ہیں۔ کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میں/ بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات... اسی اداسی کے تاثر میں وہ ماتم کرتے ہیں نظریات کے فقدان پر کہ :ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میں/نے عربی مشاہدات نے عجمی تخیّلات... حقیقت ہے۔ تلخ سچائی ہے کہ امت مسلمہ اس وقت حکمت ہاشمی سے بیگانہ ہوچکی ہے۔ ابو بکرؓ سی وفا، عمرؓ سی جرأت،عثمانؓ سی سخاوت، علیؓ سی طاقت سے محروم ہے۔ گیسوئے دجلہ و فرات اگرچہ اب بھی تابدار ہیں۔ وقت کے یزید اب بھی اسلحے اور دولت کے زور پر وفاداریاں خرید رہے ہیں، لوگوں کو بیعت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ مگر :
قافلۂ حجاز میں ایک حسینؓ بھی نہیں