پیرا ڈائم شفٹ:پاکستان کہاں؟ 136

پیرا ڈائم شفٹ:پاکستان کہاں؟

(گزشتہ سے پیوستہ )

قارئین کرام!جاری موضوع پر گزشتہ ’’آئین نو‘‘ (مطبوعہ 5ستمبر 2023) میں وسیع تر اثرات کے حامل مکمل عمل میں ڈھل جانے والے تصور پیرا ڈائم اور موجود کی تبدیلی (SHIFT)سے عالمی معاشرے میں برپا ہونے والے سائنسی، اقتصادی، سیاسی و سماجی تغیرات پر بات ہوئی ، اور مختصراً واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنے مقام کے بعد مختلف النوع پیرا ڈائم سے متاثر ہوتا آج گمبھیر اقتصادی و سیاسی ،آئینی و انتظامی اور معاشرتی بحرانوں میں گھر گیااس میں پاکستان کی کیا پوزیشن ہے ۔

آج کالم کی دوسری قسط میں ہم نے اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ ہمیں یعنی ہمارا ملک سنبھالنے ، چلانے والے مقتدر ذمہ داران اور اداروں کو کوئی ہوش ہے کہ عالمی تاریخ کے موجود منظر میں جو پیرا ڈائم بنتے نظر آ رہے ہیں ان کی تشکیل ،اس کا حصہ بننے اور اس سے مستفید ہونے میں پاکستان کی موجودہ پوزیشن اور امکانات کی کیا صورت ہے؟اور ہم جن جملہ بدترین بحرانوں کی تشویش مسلسل سے تشکیل ہونے والے جس گرداب میں بطور قوم و ریاست جکڑے ہوئے ہیں کیا ظہور پذیر کوئی پیرا ڈائم ،جس کے ہم سرگرم حصہ دار بن جائیں تو ہمیں اس گرداب سے باہر نکلنے میں مدد مل سکتی ہے ؟میں اس کا مختصر ترین جواب اپنی خالصتاً ذاتی پیرا ڈائم ریڈنگ سے حاصل کر کے ’’آئین نو‘‘ میں دوران ِبحران اور اس میں مسلسل جکڑے جانے کی گمبھیر صورت میں وقفے وقفے سے یہ تحریر ریکارڈ پر لانے کی اپنے تئیں کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے پالیسی و فیصلہ ساز (عملدرآمد تو بعد کی بات ہے ) ہوش میں آئیں کہ پاکستان بین الاقوامی تعلقات کے نئے بنتے عالمی سطح کے پیراڈائم میں کہاں کتنا اور کیسے فٹ ہوتا ہے ؟اس کےمفصل جواب کی طرف آئیں، راقم کا پرسنل نوٹس یہ ہے کہ پاکستان میں نیشن بلڈنگ کی اولین ضرورت پالیسی سازی کا کام نہ ہونے کے برابر ہوا، وجہ مختصر ترین مسلسل سیاسی عدم استحکام بنی عشرے عشرے کے طویل مارشل لا اور کم تر صلاحیت کی نحیف یا کرپٹ فسطائی اور ملوکیت کے مزاج کی غیر مطلوب سول حکومتوں، اپنے اقتدار کے استحکام اور طوالت کے مقابل عوام دوست جمہوری پالیسی سازی کی طرف مائل ہی نہیں جبکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد آمرانہ فیصلوں کو تبدیل کرنا جمہوری اور عوامی مزاج سے پالیسی سازی کا پیرا ڈائم شفٹ دنیا میں تیزی سے عوام کے حق میں کوالٹی آف لائف کو تیزی سے تبدیل کرنے کا تغیر برپا کرکے بڑی عالمی آبادی کو اس کا بینی فشری بنا رہا تھا ’’پیرا ڈائم شفٹ‘‘ کے فلسفے کے امریکی فلاسفر نے 1962ء میں اپنی کتاب "THE STRUCTURE OF SCIENTIFIC REVOLUTION" دنیا بھر کے حکام، دانشوروں، تھینک ٹینکس بڑے پالیسی اور فیصلہ سازوں اور پاور کاریڈورزکے دماغ کھول دیئے کہ پیراڈائم اور پیرا ڈائم شفٹ کی اقوام اور انسان کی تیز ترقی کیلئے کتنی اہم ہے ۔تھامسن کے فہم، فلسفے کا ابتدائی محور سائنسی ایجادات سے عالمی معاشرے میں برپا ہونے والی وسیع تر سیاسی ،اقتصادی و معاشرتی تبدیلیوں کے مطالعے سے تشکیل ہوا لیکن پیرا ڈائم کے تصور کا ارتقا بھی اتنا ہی تیز تر ہے جتنا اس کے نتائج اور مقاصد مثلا ًصنعتی انقلاب 1789 بذات خود انسانی تاریخ کا عالمی سطح کا نتیجہ خیز پیرا ڈائم بنا جس نے یورپ کا سیاسی ، معاشرتی ، اقتصادی نقشہ بدل کر رکھ دیا اس نے نو آبادیاتی نظامCOLONIALISMکی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ۔ سلطنت عثمانیہ خطے میں اپنے غلبےکے باوجود جگہ نہ بنا سکی۔پیرا ڈائم( جبکہ یہ اصطلاح ایک سائنسی حقیقت کے طور پر تو پوری انسانی تاریخ میں موجود رہی لیکن ثابت شدہ اور عظیم علم (نالج) کے طور 1962ءمیں تھامسن کی کتاب سے آشکار ہوئی کہ یہ اسی کے ذہن کی پیداوار ہے) اس کے تیز اور وسیع ارتقا کے بعد اقوام کی ترقی کے بڑے راز کے طور پرنیا اور بڑا اوپن سیکرٹ بنا جو پاکستان کل قومی دانش میں ابھی معمولی جگہ بھی نہیں بنا سکا، ہماری یونیورسٹیاں نام نہاد تھنک ٹینکس، حکومتیں ،سیاسی جماعتیں ہماری پارلیمان افواج کی اعلیٰ قیادتیں ہماری اعلیٰ عدلیہ، یونیورسٹیاں، خامیوں سے اٹی جو نام نہاد پالیسی سازی کی روشنی میں فیصلہ سازی کرتی چلی آ رہی ہیں اس میں پاکستان کے دولخت ہونے، باقیماندہ میں متفقہ آئین کی تشکیل کے باوجود اور کتنی ہی ترقی کی راہیں کھلنے اور کامیابیوں اور کامرانیوں کے باوجود زوال و بدحال ہونے کی یہ بھی شکل بنتی تھی جو وائے بدنصیبی آج پاکستان کی ہے۔ انتہائی افسوسناک اور اب توجہ کا طالب یہ نکتہ ہے کہ یہ سب کچھ تب ہوا جبکہ عالمی سیاست کا پیراڈائم شفٹ امریکہ، چین ٹریڈوار کے بعد تیزی سے تشکیل کے بعد افق پر پھیلتا، اپنی عملیت کا رنگ دکھاتا تمام امکانی حقائق کے ساتھ ہاتھ باندھے پاکستانی کرتا دھرتائوں کے سامنے کھڑا تھا اور ملکی سول حکومت اس پر شاید پہلی مرتبہ خارجہ امور اور قومی سلامتی کی ایک ایسی بنیادی پالیسی کے خدوخال چاک آئوٹ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔اس کا بڑا اختراعی (INNOVATIVE) پہلو یہ تھا کہ پاکستان کےبین الاقوامی تعلقات اور قومی سلامتی کو ملکی معیشت کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا ۔ایسا فقط اس لئے ہو گیا کہ جدید اور ملکی ترقی کیلئے مطلوب علوم سے آگاہ اور چوکس ایک صاحب علم جوان ملکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں جگہ بنانے میں خود کامیاب ہوئی یا حکومت اس کا انتخاب کرکے خود کامیابی کی طرف گامزن ہوئی تھی۔ پالیسی کی ابتدا پرکسی بیرونی طاقت کے بھڑکنے کی بھی کوئی گنجائش نہ تھی اور ہوتی بھی قطعی ناجائز ۔عالمی اور خطوں پر ہونے والے پیراڈائم شفٹ میں پاکستان اپنے نئے جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک اسٹیٹس کے ساتھ نئے پیرا ڈائم میں جگہ بنانے اور اپنے مفادات کے حوالے سے ضرورت مند ممالک پاکستان کو اہم ترین مقام دینے پر آمادہ تھے /ہیں ۔لیکن ہماری داخلی سیاست کے خطرناک گروہی اور شخصی رویوں کے ٹکرائو نے ہمیں ثمرآور پیراڈائم سے بہت دور کر دیا۔ اب بہت سی پیچیدگیوں کے ساتھ اس وقت ملکی معاملات پر حاوی اسٹیبلشمنٹ یہ جگہ بنانے کیلئے کوشاں تو ہے لیکن مقابل داخلی منظر سیاست اور عوامی رجحانات (ایٹ لارج) مختلف سمت میں ہیں دونوں فریق ایک دوسرے کے اپنے اپنے اہداف کیلئے پاکستان کو ایک طرف رکھ کر داخلی محاذ ’’فتح کرنے‘‘ کی تگ ودو میں ہیں صرف اور صرف ایک ہی موقع باقی رہ گیا ہے ایک کامن قومی ایجنڈا (پیرا ڈائم شفٹ کے حوالے سے ہی سہی) متفقہ حل مان کر الیکشن عین بمطابق آئین کراکے بحران کو مشترکہ طور پر مینج کریں دونوں طرف سوچ و اپروچ مثبت ہے لیکن انا کے بتوں نے قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ وماعلینا الالبلاغ

بشکریہ جنگ نیوزکالم

'.$config["ad_footer"].'