موٹر وے ہمیں اکیسویں صدی میں ہی رکھتے ہیں۔مگر اپنے شہر اور اپنے گھر تک جاتے ہوئے ہم کبھی بیسویں صدی۔ کبھی اٹھارہویں صدی سے گزرتے ہیں۔ اپنی منزل تک آرام سے پہنچنے کا یقین نہیں ہوتا۔ ہر جگہ دو پاکستان ہیں۔ویگو۔ لینڈ کروزر۔ پجارو میں آپ کو جھٹکے نہیں لگتے۔ عام گاڑیوں اور بسوں میں اپنے گھر تک یا گھر سے موٹر وے تک آپ کی ہڈیاں کئی صدیوں کا سفر کرلیتی ہیں۔ میں اپنے برادر نسبتی حاجی بشیر احمد کے اچانک انتقال پر کراچی سے سرگودھا آنےتک اس کرب اور بے یقینی سے گزرا ہوں۔ یہ سطریں اسلام آباد سے اپنے برادر بزرگ ڈاکٹر محمد خالد مسعود کی وسیع و عریض لائبریریوں میں کتابوں کی آغوش میں لکھ رہا ہوں۔ دنیا کی تاریخ۔ ملت اسلامیہ کی داستانیں میرے ارد گرد سانس لے رہی ہیں۔ گھوڑوں کی چاپیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ ائمہ کرام، علمائے عظام، جدید مورخوں کی تصنیفات بھی مجھے ولولۂ تازہ دے رہی ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے کرم کیا تھا۔ خود فون کرکے روز ویلٹ ہوٹل،ایئرپورٹوں، بندرگاہوں اور ریلوے چلانے کے نئے طریقوں سے آگاہ کیا تھا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ آنے والے حکمراں طے کریں گے کہ کونسا طریقہ آزمانا ہے۔ لگتا ہے کہ ہمارے حکمراں خاندان جہانبانی اور عالمگیری کرتے ہوئے تھک گئے ہیں۔ چار پانچ دہائیوں سے ملک کی رگ رگ کو پہچان گئے ہیں۔ مزید دولت کمانے کیلئے آسان اور جدید راستے اختیار کررہے ہیں۔ میں اپنی اس خاندانی مصروفیت کے باعث Out Sourcing اور ٹھیکے پر دینے میں کیا فرق ہے ماہرین سے نہیں پوچھ سکا۔ ہمیں خود اپنا کام کرنے کی ایسی بری عادت پڑ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے پر اپنا کام نہیں چھوڑنا چاہتے ۔ ورنہ آج کل تو کالم نویسی میں بھی آئوٹ سورسنگ ہوچکی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہماری 60 فی صد آبادی نوجوان ہے۔ ان کروڑوں کی تعلیم و تربیت اور روزگار کی فراہمی ریاست کا فرض ہے۔ لیکن جب ہم ایسے ادارے ،جہاں سینکڑوں ہزاروں تربیت یافتہ نوجوانوں کی کھپت ہوسکتی ہے۔ وہ ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ وہ اپنے لشکر لے کر آتے ہیں۔ یہ نوجوان بے روزگار رہ جاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو حکومت مل گئی تو وہ پاکستان کانقشہ بدل دیں گے۔1985 سے اب تک کئی بار حکومت ان کو ملی ہے۔ آج کل بھی حکمرانی تو ان ہی کی رہی ہے۔ ان میں جو اس ملک کی حالت بنی ہے۔ کیا یہ ان کی پالیسیوں اور حکمرانی کا نتیجہ نہیں ہے ۔ کیا انہیں خلائی مخلوق نے نقشہ نہیں بدلنے دیا تھا اور اب کیا خلائی مخلوق کی امور مملکت میں دلچسپی نہیں رہی ۔ ہمارے عوام ان حکمران خاندانوں کو مینڈیٹ دیتے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ان خاندانوں کیلئےحکومت کی آئوٹ سورسنگ کرتی رہی ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے اس وقت تک الیکشن ملتوی کئے رکھے تھے۔ جب تک مثبت نتائج کی امید نہیں ہوئی تھی۔ پھر 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے جنرل نے ملک کا سیاسی نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اور Electables کی ایک ایسی کھیپ پیدا ہوگئی ہے جن کے ذریعے پارلیمنٹ کی Out Sourcing کردی جاتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے جو آئوٹ سورسنگ کی گئی وہ کیسی رہی۔ ان قائدین کی ریٹنگ کیا رہی۔ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور حکمرانی کا جائزہ لینے والے ادارے ، پاکستان کے عوام کیا کہہ رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ ، ڈالر کی بلند پروازی تو اس آئوٹ سورسنگ کو ایک اسٹار بھی نہیں دے رہی ۔ لیکن ایک شعبے میں اس اتحادی حکومت کو میں پانچ اسٹار دینے کو تیار ہوں کہ انہوں نے مد مخالف عمران خان اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی پر بہت احسانات کئےہیں۔ خود عمران خان مروت میں پارٹی کی تطہیر نہیں کر پارہے تھے۔ پی ڈی ایم نے پاکستان تحریک انصاف کی تطہیر کردی ہے۔ اس کیلئے پی ٹی آئی کو پی ڈی ایم کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ اتنی بے لوثی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ان پارٹیوں نے اپنی تطہیر کی فکر نہیں کی ہے۔ بہت سے لوگ جو وزیر اعظم بننے کے امیدوار تھے۔ وہ سب پی ٹی آئی سے نکال لئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو تو خود پہلے انکلوں کو نکالنا پڑا، پھر جو بھی اپنا دماغ استعمال کرتے تھے انہیں 2007کے بعد نکالا گیا۔ اس پر بہت تنقید بھی ہوئی۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ یہ پی پی پی ، بھٹو کی پی پی پی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ کی ڈیڑھ سو سے زیادہ مقدمات میں قانونی پیروی میں مصروفیت کی وجہ سے حکومت وقت نے خود یہ فرض ادا کیا۔ سہولت کاروں نے بھی مدد کی۔ عقوبت گاہیں، بے لباسی بھی مددگار ہوئی۔ کچھ استحکام پاکستان پارٹی میں چلے گئے۔ کچھ اب تحریک انصاف پارلیمنٹیرین میں۔یوں تطہیر کا عمل بڑی حد تک مکمل ہوگیا۔ پارٹی لیڈر کو عدالتوں میں بیٹھے بیٹھے یہ سہولت مل گئی ہے۔
ایک طرف تو پی ٹی آئی کو اشرافیہ سے نجات مل گئی دوسری طرف پی ٹی آئی کے مخلص اور وفادار کارکنوں کو جلسوں کی بجائے حوالات، جیل، عقوبت خانوں میں تربیت کا موقع ملا ہے۔ حوالات کی ایک رات کئی کئی جلسوں پر بھاری ہوتی ہے۔ وہاں ہجوم میں آپ اپنے اندرجھانک نہیں سکتے۔ شوراتنا ہوتا ہے ۔ یہاں تنہائی میں آپ کئی کئی بار اپنے ماضی سے گزرتے ہیں۔ خود پارٹی لیڈر کیلئے بھی یہ ایک سال ایک مسلسل ورکشاپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی 22سالہ سیاست میں ان کی اتنی تربیت نہیں ہوئی ہوگی۔ جو اَب ذیلی عدالتوں، خصوصی عدالتوں، عظمیٰ، عالیہ میں، جی آئی ٹی میں ،نیب میں ہورہی ہے۔ اتنی محنت انہوں نے کبھی نہیں کی ہوگی اور نہ ہی اپنے آئین اور اپنے قانون کی ایک ایک شق کو پڑھا ہوگا۔ وکلا کی دلیلوں، گواہوں کی جرح ، ججوں کے تبصروں نے ان کے ذہن کو یقیناً اور جلا دی ہوگی۔ تنہائی میں انہیں اپنی غلطیوں کے اثرات کا اندازہ بھی ہوا ہوگا کہ ا س سے قوم کو کیا کیا خمیازے بھگتنے پڑے۔ سہولت کاروں نے کتنے غلط مشورے دیے۔
یہ بھی حاکمانِ وقت کا کرم ہے کہ کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آرہا ۔ اس لئے عام بے بس، بے کس لوگوں کی ہمدردیاں ان کیلئے زیادہ ہورہی ہیں۔ وہ ان کیلئے باہر نہیں نکل سکتے لیکن ان کیلئے دعائیں ان کے دل سے باہر نکل رہی ہیں۔ اب لگ رہا ہے کہ نئے جوڑ توڑ ہورہے ہیں۔ یہ جو نئی پارٹیاں کوزہ گر بنارہے ہیں۔ یہ پرانی پارٹیوں کیلئے دائرہ تنگ کررہی ہیں۔ مثبت نتائج کیلئے ایسے قبلہ بدلنے والے چہرے ہی کارگر ہوتے ہیں۔ خواب سب دیکھ رہے ہیں۔ تعبیر تو کسی ایک کو ہی ملنی ہے۔سالہا سال کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں ہمارا مشورہ یہی ہے کہ پی ٹی آئی،پی ڈی ایم کا شکریہ ادا کرے کہ اس نے اس کی راہ سے بہت سے کانٹے ہٹادیے ہیں۔