پنجاب کی ناجائز حکمرانی کے کرتوت  267

پنجاب کی ناجائز حکمرانی کے کرتوت 

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ہمیں ایک کیس کے سلسلہ میں جب امریکہ کی ایک عدالت میں جانا پڑا تو معزز جج نے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شعبہ سے ہے؟ میں نے کہا کہ میں استاد ہوں معزز جج اپنی نشست پر میرے احترام میں کھڑے ہوگئے اور جب تک میں نشست پر نہیں بیٹھا وہ نہیں بیٹھے،
یہ اس معاشرے کی کہانی ہے جس میں اخلاقی دباؤ ہے مگر ہمارے ہاں پولیس میں باقاعدہ مجرموں کو بھرتی کیا گیا جو اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ ناجائز اور جھوٹے پرچوں میں ماہر ہے،کئی دنوں سے پنجاب کے اساتذہ اس غنڈوں کے تشدد کی زد میں ہیں،جس میں خواتین،بچوں تک کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے،پنجاب کی حکومت چونکہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اس لئے پنجاب پولیس میں بھرتی غنڈے ان کے ناجائز احکامات پر عمل پیرا ہیں،پنجاب سیکٹریٹ کے سامنے احتجاج کرنے والی خواتین پر اتنا احتجاج کیا گیا کہ جس ایک خاتون گزشتہ روز بے ہوش ہوگئی،اس وقت اساتذہ کی ایک بڑی تعداد پابند سلاسل ہے،لیہ میں گزشتہ روز چیئرمین اگیگا پروفیسر فرحان یاسر چاند کا کہنا تھا کہ ”اگیگا در اصل ملازمین کا بہت بڑا اکٹھ ہے کم از کم 43تنظیمیں اس میں موجود ہیں جو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے سر گرم ِ عمل ہے خاص طور موجودہ حکمرانوں نے جو ہم پر ظلم کیا ہے نگران حکومت جو محسن نقوی کی قیادت میں حکمران ہے اس حکومت نے بغیر کسی ضابطے اور قائدے کے اختیار کئے ہوئے اور بغیر رولز اور ریگولیشن 1973کے ہمارے سروسز رولز ہیں یا قوانین ہیں ان کو بیک جنبش قلم ختم کرکے ملازمین کی عمر بھر کی 60سال کی کاوشیں جن میں گریجوایٹی،وی وی این کیش منٹ اور دیگر مراعات جو ان کی خدمات اور جدوجہد کا صلہ ہیں ختم کر ڈالا لیو اینڈ کیش منٹ کو ختم کرڈالا جب ریٹائر منٹ ہوتی تھی تو ایک سال کی رننگ پے پر لیو اینڈ کیش منٹ ملتی تھی لیکن موجودہ حکومت نے اس کو قائدے اور ضابطے سے اُٹھا کر مکمل طور پر ختم کر ڈالا آنے والے دنوں میں نگران حکومت پینشن کو بھی ختم کرنا چاہتی ہے،تعلیمی اداروں کی نجکاری کے ذریعے اب عوام سے ان کے بچوں کی تعلیم بھی چھینی جارہی ہے،
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ ناجائز حکومت سامراجی ادارے آئی ایم ایف کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے اور غریبوں سے تعلیم کا حق بھی چھیننے کے درپے ہے،موجودہ حکومت نے نہ صر ف عوام کو مقروض بنا دیا ہے بلکہ ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جس کا مقصد غریب کو مزید پیسنا،ان کے شعور کو گھٹن زدہ بنانا مقصود ہے اور اب نجکاری کے ذریعے محسن نقوی اپنے مخصوص لوگوں کو نوازنا چاہتا ہے،2011میں برطانیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ ”فلپ ہیمنڈ“نے نجکاری کے بعد ریلوے کرایوں میں ضافہ پر کہا تھا کہ برطانیہ میں ریل کا سفر امیر آدمی کا کھلونا ہے،یو بی ایس کے ماہرین نے 2006میں کہا کہ برطانیہ میں ریل کا سفر سب سے مہنگا ہے،برطانیہ میں نجکاری کی سب سے تباہ کن میراث روزگار کا خاتمہ ہے،جس طرح آج میڈیا غداروں کا ہمنوا ہے اسی طرح 1985میں میڈیا نے برطانیہ میں غداری کی اور کان کنوں کی ہڑتال کی ناکامی کے بعد کوئلے کی صنعت کی نجکاری کے نتیجہ میں دو لاکھ ملازمتیں ختم ہوگئیں،برٹش ٹیلی کام کی نجکاری کے بعد ایک لاکھ ملازمتیں ختم ہوئیں،پاکستان میں بھی میڈیا کے تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود پوری دنیا کی طرح نجکاری کی تباہ کاری ایک جیسی ہے،نجکاری سے عوام کی زندگیاں اجیرن ہوجاتی ہیں،تعلیم،صحت اور دوسرے سماجی شعبوں کی نجکاری سے عوام کی زندگیوں پر جو قہر نازل ہوگا اس کا اندازہ ہر پاکستانی کو شاید نہیں عوام کو اساتذہ کے شانہ بشانہ باہر نکلنا ہوگا اگر ایسا نہ ہوا تو عوام باہر نہ نکلے تو ان کی محرومیوں اور بربادیوں میں مزید اضافہ ہوگا اساتذہ اور اگیگا کے ملازمین سراپا احتجاج ہی نہیں بلکہ وہ آپ کی میری اور میرے بچوں کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں،اگیگا کے وہ لوگ جو جیلوں میں بند ہیں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہوگا اور ان کے حق میں آواز اُٹھانا ہوگا حکمران اب زوال کی جانب گامزن ہیں کیونکہ انہوں نے معلم اور معلمات پر تشدد کی راہ پکڑ لی ہے

بشکریہ اردو کالمز