پاکستان ,جاپان کے تعلقات کی ابتدا اور اردو کا فروغ ! 548

پاکستان ,جاپان کے تعلقات کی ابتدا اور اردو کا فروغ !

جاپان اور پاکستان کے تعلقات بہت پرانے ہیں تعلقات کی ابتداکے بارے میں آج ہم قارئین کو آگاہ کرتے ہیں کہہ  بدھ مت کے قدیمی اثار پاکستان میں دریافت ہوئے تو جاپانی سیاحوں نے یہاں کا رخ کیا, تقسیم سے پہلے بھی یہاں بدھ مت کے پیروکار آتےرہے ہیں, تقسیم کے بعد یہ  علاقے (موہنجوداڑو ,بت کدہ)پاکستان کے حصے میں آگئے تھے  ان علاقوں میں گندھارا تہذیب کو ارتقاء  ملا گندھارا تہذیب کے افراد چین کے راستے چاپان پہنچے جاپانی اور پاکستانیوں میں کئ اقدار مشترک ہیں مثال کے طور پے مشرقی اقدار پر عمل پیرا ہونا پاکستان میں ہر سال جاپانی سیاح تواتر سے  آتے رہتے ہیں یہ سلسلہ تقسیم ہند سے پہلے کا ہے جاپان شروع سے اس خطے میں  تجارت کرتا رہا ہے تقسیم کے بعد جاپان نے اپنی تجارتی سر گرمیوں کے لیے کراچی کے سٹریٹیجک محل وقوع کی اہمیت کو جانا اور یہاں سے اپنی تجارت کرتا رہا پاکستان سے  کپاس کی  برآمدات شروع کی  پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کو دھاگہ اور کپڑا پیچتا رہا اسی طرح جاپان کے کپڑے کی صنعت میں بہت ترقی ہوئی تقسیم ہند کے بعد پاکستان نے اپنا پہلا کمرشل بنک جاپان میں کھولا اور  جاپان نے اپنی پچاس ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر کراچی میں کھولے دونوں ممالک معاشی حوالے سے ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوگئے پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے ایشیاء کے دل میں واقع ہے, تجارتی حوالے سے اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے اور پاکستان کی اس خطے میں بڑی اہمیت رہی ہے اور رہے گی- پاکستان وسطی ایشیائی ممالک,مشرق وسطی اور مشرق بعید کے ممالک کے لیے ایک تجارتی رہداری ہے, اسی مناسبت سے اپنے دوست ممالک کے لیے ہر لحاظ سے اہم ہے پاکستان, جاپان کے لیے ہمیشہ اہم رہا ہے- 1950ء  میں کولمبو پلان میں شرکت اور جاپان کو امریکہ کے تسلط سے نکالنے کا معاملہ ہو یا دنیا کے کسی بھی فورم پر جاپان کے حق میں آواز بلند کرنی ہو تو پاکستان ہمیشہ دوستی نبھاتا رہا ہے فار ایسٹرن کمیشن کے وقت بھی پاکستان, جاپان کی آواز بنا اسی طرح سن فرانسسکو کانفرنس ہویا کوئی اور فورم پاکستان نے جاپان کے حق میں آواز بلند کی, اسی طرح پاکستان نے جاپان کی  اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے لیے بہت زور دیا جاپانی پاکستانیوں سے بے تحاشہ محبت کرتے ہیں اس کی بنیادی وجہ ایک دوسرے سے پرانی دوستی اور یہاں بدھ مت کے قدیمی اثار کا ہونا ہے, ایک اور وجہ ہماری قومی زبان اردو ایک سوسال سے جاپان کی یونیورسٹیوں کے اندر ایک کورس کے طور پر پڑھائی جاتی ہے ,1908ء  میں ٹوکیو اسکول آف فارن لینگویجز کا شعبہ قائم ہوا تو دنیا بھر کی زبانوں کے سا تھ اردو زبان کو بطور کو رس میں شامل کیا گیا ابتدا میں اردو سیکھنے والوں کی تعداد پانچ تھی اور پہلے جاپانی پروفیسر جہنیں  اردو کی نشوونما کا سہرا جاتا ہے وہ  پروفیسر انوئی ہیں , برصغیر سے جانے والے پہلے پروفیسر  جو مولانا محمود الحسن کے کہنے پر وہاں گئے وہ مولانا بر کت اللہ ہیں پروفیسر تیشی سوزوکی کے بقول جاپان میں اردو زبان کی نشوونما کے بانی مولانا برکت اللہ ہیں اسی طرح اردو کی نشوونما کا سلسلہ جاری رہا پروفیسر انوئی کے بعد پروفیسر گامو نے یہ ذمہ داریاں سنبھا لیں اسی طرح پھر ٹوکیو اسکول آف فارن لینگویجز ٹو کیو یونیورسٹی میں تبدیل ہوگیا اس کے بعد پھر پروفیسر تیشی سوزوکی کا اردو کی نشوونما کے حوالے سے بہت بڑاکام ہے پروفیسر تیشی نے کلاسیکی ادب کے اور اردو قواعد کے جاپانی زبان میں تراجم کیے اسی طرح جاپان میں اردو کی نشوونما کے حوالے سے دوسرا بڑا مرکز اوساکا بنا, 1921ء میں اوساکا اسکول آف فارن لینگویجز کا قیام عمل میں آیا تو پھر پروفیسر ساوا  نے اردو کی نشوونما کے حوالے  کام کیا ,اورینٹل کالج لاہور کے کئ دور کیے اردو زبان کی نشوونما کے لیے پروفیسر ساوا کا کام قابل تعریف ہے اوساکا اسکول آف فارن لینگویجز 1944کو کالج بنا پھر کچھ عرصے بعد یونیورسٹی میں تبدیل ہوگیا آج کل پروفیسر سویا مانے اردو زبان کے فروغ کے حوالے بہت بڑا کام کر رہے ہیں, پروفیسر سویامانے اورینٹل کالج لاہور میں شعبہ اردو تدریس سے وابستہ رہے ہیں , آپ نے اردو کے جاپانی زبان میں کئی تراجم کیے ہیں-
 آپ پاکستان  کے دارا لحکومت اسلام آباد میں جاپانی سفارت خانے میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں آج کل آپ اوساکا یونیورسٹی میں اردو زبان کے فروغ کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں اردو زبان اب جاپان کے کئ اداروں میں  بطور کورس شامل ہے دائتو یونیورسٹی اور جاپانی ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون جائیکا کے تربیتی مرکز میں بطور کورس پڑھائی جاتی ہے اور اگر عوامی نشریات کے حوالے سے بات کریں  تو این ایچ کے کی نشریات  اردو کے فروغ کے حوالے سے  خدمات قابل ستائش ہیں, جاپان اور پاکستان ایک قابل اعتماد دوست کے طور پر جانے جاتے ہیں جاپان نے پاکستان کے اندر کئ مثالی پروجیکٹس بنائے ہیں اور کئ پروجیکٹس پر ابھی بھی کام جاری ہے انڈس ہائی وے کا پروجیکٹ,غازی بروتھا ,اسلام آباد میں ایک بہت بڑا ہسپتال پاکستان انسیٹوٹ آف میڈیکل سائنسز اور اسی طرح کئ شعبوں میں کام جاری ہے, صحت,زراعت,پانی کی فراہمی دسمبر 2019ء میں جاپانی جنرل قونصل  نے اعلان کیا تھا کہ جاپان تین لاکھ چالیس ہزار افراد کو روزگار فراہم کرے گا ان افراد کو روزگار دیا جائے گا جو کسی نہ کسی فنی شعبے میں مہارت رکھتے ہوں گے اور ان ہنر مند افراد کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ وہ چاپانی زبان بھی جانتے ہوں اسی طرح جاپان ہرسال پاکستانی طالب علموں کو  سکالر شپ بھی دے گا یہ جاپان کی طرف سے احسن قدم ہے -

بشکریہ اردو کالمز