شبیر حسین امام - پاک سعودی دفاعی معاہدہ: نئے چیلنجز پاک سعودی دفاعی معاہدہ: نئے چیلنجز

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ: نیا توازن یا چیلنج؟

سعودی عرب کی مالی معاونت پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا حل نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے تاہم اعتماد سازی اُور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ کاغذی دستاویز کو عملاً کارآمد بنایا جا سکے

شبیرحسین امام

پچھلے ایک ہفتے سے عالمی و قومی ذرائع ابلاغ اور بالخصوص دفاعی تجزیہ کار و تجزیہ نگاروں کا موضوع ’’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہوئے حالیہ دفاعی معاہدہ ہے۔ اِس بنام ’’سٹریٹیجک میوچل ڈیفنس اگریمنٹ‘‘ پر تجزئیات میں جن پہلوؤں کا احاطہ کیا جا رہا ہے اُس سے ابہام دور ہونے کی بجائے مزید ابہام اُور سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ہر تجزیہ نگار اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق سیاسی، جغرافیائی اور عسکری ترجیحات کے تناظر میں مذکورہ معاہدے کی مختلف تشریحات پیش کر رہا ہے کیونکہ تمام تفصیلات تاحال ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ اِس صورتحال سے نہ صرف عام عوام بلکہ حتیٰ کہ سیکورٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کی اکثریت بھی الجھن کا شکار ہے اُور یہ گھتی جس قدر سلجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ اُسی قدر الجھ رہی ہے۔ بنیادی بات پاکستان اُور سعودی عرب کی قربت ہے جسے ایک نیا نام دیا گیا ہے اُور اِس کا پس منظر، ممکنہ اثرات اور خطے میں اس کے امکانات کو اگر پرکھا جائے تو سب سے پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سعودی عرب کو سیکورٹی کی اِس شدت سے ضرورت ہے کہ باوجود تمام تر جدید ہتھیار ہونے کے باوجود بھی وہ پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ دوسرا سوال پاکستان کی عسکری پیشہ ورانہ صلاحیت و اہلیت ہے جس نے بھارت کے خلاف اپنا لوہا منوانے کے بعد بالخصوص مسلم دنیا سے پذیرائی حاصل کی ہے جبکہ باقی ماندہ دنیا دانتوں میں انگلیاں دبائے (حیرت زدہ) ہے۔

سب سے پہلے تو یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کی خواہش پر پاکستان کے ساتھ جن تفصیلات پر بصورت دستاویز دستخط ہوئے ہیں اُسے تکنیکی اعتبار سے ’’ٹریٹی‘‘ کہلا جائے یا ’’ایگریمنٹ۔‘‘ یہ دونوں اصطلاحات الگ الگ مفہوم و معانی رکھتی ہیں بالخصوص جب ان کا تعلق عالمی حالات و واقعات اُور ممالک کے درمیان ہو۔ ’’معاہدہ (ایگریمنٹ)‘‘ یعنی اتفاق رائے وسیع المعانی اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے کہ دو یا دو سے زیادہ فریقوں کے درمیان کسی بات پر باہمی سمجھوتا ہو جائے، چاہے وہ رسمی (آفیشل) ہو یا غیر رسمی (اِن فارمل) جبکہ ’’عہدنامہ (ٹریٹی)‘‘ خاص قسم کا معاہدہ ہوتا ہے جس پر عمل درآمد دو یا دو سے زیادہ فریقین کے لئے ’عالمی قوانین‘ کے تحت لازم ہوتا ہے۔ ایگریمنٹ کو سمجھنے کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فریقین کے درمیان کسی بات پر ’’رضامندی‘‘ ہو جائے اُور یہ اکثر اداروں کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ زبانی کلامی بھی ہو سکتا ہے اور تحریری بھی۔ ایگریمنٹ کے لئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ یہ ہمیشہ قانونی حیثیت رکھتا ہو اور یہی وجہ ہے کہ اِس کے لئے حکومتی کابینہ کی منظوری (ریکٹیفیکیشن) بھی ضروری نہیں ہوتی۔ اِس کے مقابلے عہدنامہ (ٹریٹی) خاص قسم کا معاہدہ ہوتا ہے جس پر عمل درآمد باقاعدہ‘ تحریراً اور قانوناً فریقین پر لازم ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ ملکوں کے درمیان ہوتا ہے اور اکثر اوقات حکومت یا پارلیمان سے اِس کی بعدازاں منظوری لینا پڑتی ہے۔ عہدنامے عموماً دفاع‘ قیام امن، انسداد دہشت گردی‘ انسداد جرائم یا تجارت و تحفظ ماحول کی کوششوں جیسے امور سے متعلق ہوتے ہیں اور انہیں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے اُور انہیں بین الاقوامی قوانین کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حالیہ دفاعی دستاویز بظاہر ’’ایگریمنٹ‘‘ ہے مگر اس کے اندر شامل شرائط اور مفاہمت کی گہرائی اسے ’مکمل سٹریٹیجک ٹریٹی‘ کی حیثیت دے رہی ہے۔ دفاع کے شعبے میں معاہدے ہمیشہ حساس ہوتے ہیں اِس لئے اُن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جاتیں اُور ایسا کرنے کی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ چونکہ یہ محض سیاسی دستاویزات نہیں ہوتیں بلکہ ام لا تعلق ممالک کی سلامتی و تعاون کے بنیادی ستون کے طور پر ہوتا ہے اِس لئے اِس کے مندرجات کو صیغۂ راز میں رکھا جاتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ ایسا پہلا ’اتفاق رائے‘ نہیں کہ جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کیا ہو۔ پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین تربیت یافتہ اُور منظم فوج ہے جبکہ سعودی عرب کے پاس جدید ترین اسلحہ خریدنے اُور اپنے وسائل سے دفاعی صلاحیت کو پروان چڑھانے کے لئے مالی وسائل موجود ہیں۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ یہ چند عرب ممالک کی ’’فراخدلانہ اُور غیرمشروط مہربانی (عطیات)‘‘ کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ پاکستان نے عرب و دیگر اسلامی ممالک کس قدر دلی لگاؤ رکھتے ہیں اِس بات کا اندازہ سقوط ڈھاکہ کے بعد پیش آئے ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جب بنگلہ دیش (پاکستان سے الگ ہو کر ایک ملک کے قیام) کا اعلان ہوا تو سعودی عرب نے اُسے فوری تسلیم نہیں کیا اُور سعودی عرب نے بنگلہ دیش کا پرچم لگے بحری جہازوں پر سوار عازمین حج کو اپنے ملک اِس لئے داخلے کی اجازت نہیں دی کیونکہ انہوں نے بنگلہ دیش کو بطور ملک تسلیم نہیں کیا تھا۔ سبھی بحری جہازوں کو حکم دیا گیا کہ وہ پاکستانی پرچم لہرائیں تبھی اُنہیں سعودی عرب میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات تھی لیکن درحقیقت سعودی عرب کے شاہی خاندان کوپاکستان کے دولخت ہونے کا صدمہ تھا۔ بعدازاں عرب لیگ کے اجلاس میں بنگلہ دیش کو بطور مسلم ملک شرکت کی دعوت دی گئی اُور اُس موقع پر سعودی عرب نے اُسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان اُور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اُور عسکری تربیت کے تبادلوں پر مبنی تعلقات کی تاریخ کم و بیش 80 سال پر محیط ہے۔ اس عرصے میں دونوں ممالک نے مشترکہ مفادات کی خاطر عسکری اور سیاسی تعاون کو فروغ دیا۔ حالیہ معاہدہ ’دنیا کے لئے یاد دہانی ہے‘ کہ اِس کے ذریعے اُس قدیم تعاون کو نیا اور مضبوط روپ دیا گیا ہے لیکن اِس مرتبہ جو خاص بات ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اب صرف پاکستان سعودی عرب کی حفاظت کے لئے فوجی وسائل فراہم نہیں کرے گا بلکہ سعودی عرب بھی پاکستان کے دفاع میں فعال کردار ادا کرے گا اُور یہ جملہ جو بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ (مشتری ہوشیار باش) اب کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں ممالک خود پر حملہ تصور کریں گے۔

پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سیاست میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ کا مشرق وسطیٰ سے نسبتاً دست کشی، چین اور روس کی بڑھتی ہوئی عسکری اور اقتصادی موجودگی اور خطے میں مختلف تنازعات نے سیاسی فضا کو پیچیدہ (گھمبیر) بنا دیا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ ’’مضبوط پیغام‘‘ ہے کہ دونوں ملک خطے میں اپنی سیکیورٹی کو مشترکہ اور مربوط انداز میں مستحکم کرنا اُور ناقابل تسخیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اِس لئے صرف معاہدے کو نہیں بلکہ خطے کی جیوپولیٹیکل حقیقتیں اور معاہدے کی جہتیں اُور پیچیدگیاں بھی پیش نظر رکھنی چاہیئں۔

معاہدے کے تناظر میں ایک اہم پہلو دونوں ممالک کی خطرات کا مشترکہ ادراک ہے۔ 
پاکستان کی نظر میں سب سے بڑا خطرہ بھارت اور اسرائیل ہیں جبکہ سعودی عرب کی نظر میں اسرائیل ’بڑا خطرہ‘ ہے۔ یہ مشترکہ خطرات دونوں ممالک کو ایک دفاعی بلاک کی شکل میں منسلک کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ غیر رسمی نیٹو (NATO) جیسے دفاعی اتحاد کی طرف بڑھنے کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو کسی قسم کی سفارتی یا عسکری ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کے مفادات کے خلاف ہوں؟ خصوصاً جب یمن کے حالات یا جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ تعلقات کی بات آتی ہے تو پاکستان کو محتاط رویہ اپنانا ہوگا تاکہ وہ کسی متنازعہ جنگ میں الجھ نہ جائے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات کو دیکھتے ہوئے‘ ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں حالیہ بہتری اس معاہدے کی پیچیدگیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اُور اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ کسی ایسے دفاعی معاہدے کا حصہ بنے گا جس کی بنیاد میں ’ایران دشمنی‘ شامل ہو۔

یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ بائیس ستمبر دوہزارپچیس کے روز اعلان کیا گیا کہ حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دفاعی معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے جمہوری عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر شام 5 بجے  طلب کرنے اُور معاہدے کی نوعیت و تفصیلات پر بحث کرنے سے متعلق اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں یہ بھی کہا گیا کہ وزارت پارلیمانی امور نے قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے اور اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف معاہدے پر پالیسی بیان دیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اجلاس دو ہفتے تک جاری رہے گا‘ جس میں دیگر معمول کے ایجنڈے، قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور قانون سازی بھی شامل ہوں گی۔ معاہدے کی اہم شق یہ ہے کہ اگر کسی تیسرے ملک کی طرف سے پاکستان یا سعودی عرب پر حملہ ہوتا ہے تو یہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس طرح نیٹو کا آرٹیکل فائیو ہے۔ یہ شراکت داری محض علامتی نہیں بلکہ ایک حقیقی اور بائنڈنگ دفاعی بندھن ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کو قانونی تحفظ دینے کے لئے پاکستان میں ضروری قانون سازی بھی متوقع ہے تاکہ معاہدے کی آئینی حیثیت مستحکم ہو سکے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان مذکورہ معاہدے کو کس قدر سنجیدہ سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے اُور اِس معاہدے کی مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اُور اِس بات کا امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان اُور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ بعدازاں نئے جیوپولیٹیکل اتحاد کی بنیاد بن جائے جو مسلم دنیا کے لئے اہم پیش رفت ثابت ہو اُور اِس بات کی طرف اشارہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف چند روز قبل یہ کہتے ہوئے کر چکے ہیں کہ کئی دیگر مسلم ممالک نے بھی پاکستان اُور سعودی عرب کے درمیان معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی عسکری اور اقتصادی صورتحال میں ’معاشی ضروریات‘ سرفہرست ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ بہت سے حلقے یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ پاکستان کو مالی طور پر اِس معاہدے سے کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ قبل ازیں کہ اِس سوال کا جواب تلاش کیا جائے یہ بات ذہن نشین رہے کہ سعودی عرب پاکستان کو سب سے کم شرح سود اُور سب سے آسان شرائط پر قرض دینے والے ممالک میں شامل ہے اُور یہ سعودی عرب ہی ہے جس نے پاکستان کے قومی خزانے میں اربوں ڈالر منجمند کر رکھے ہیں تاکہ روپے کی قدر مستحکم رہ سکے۔ بہرحال نئے حالات میں جبکہ یوں لگتا ہے کہ سعودی عرب کو پاکستان کی زیادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے تو معاشی خوشحالی کے منتظر پاکستانیوں کے لئے بھی آنے والے وقت میں خوشخبریاں ملیں گی۔ بنیادی طور پر پاکستان متوسط درجے کی عسکری طاقت کے طور پر خود کو خطے میں منوا چکا ہے مگر اقتصادی طور پر اِسے ابھی بھی کئی ایک نہیں بلکہ درجنوں مشکلات کا سامنا ہے اُور یہاں کی ایک مشکل ’بدعنوانی (کرپشن)‘ بھی ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب‘ مالی اور اقتصادی طاقت ہے جس کے پاس خطے کی سب سے بڑی توانائی کے ذخائر اور مالی وسائل کے ساتھ اثرورسوخ بھی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل قریب میں اقتصادی اور عسکری طاقت کا مجموعہ بن کر زیادہ جامع (بڑے پیمانے پر) اتحاد کے طور پر سامنے آ سکتا ہے جو صرف مختصر مدتی نہیں بلکہ طویل المدتی ہوگا اُور یہ خطے کی سیکیورٹی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ بات اپنی جگہ قابل غور ہے کہ پاکستان نے چین اور روس کے ساتھ بھی گہرے دفاعی اور اقتصادی تعلقات قائم کر رکھے ہیں، جس پر سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ مزید مضبوط اور بین الاقوامی سطح پر توازن کی سیاست میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی اس معاہدے میں ایک پازیٹیو فیکٹر کے طور پر کام کریں گے کیونکہ پاکستان صبروتحمل کے مظاہرے کے ساتھ خطے میں مستحکم اور ذمہ دار طاقت کے طور پر شہرت رکھتا ہے۔

سعودی پاکستان معاہدہ اگرچہ پاکستان اور سعودی عرب کے لئے تعاون کا نادر موقع ہے کہ وہ دونوں ممالک اپنی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں گے مگر اس پورے عمل کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں دیگر طاقتوں مثلاً بھارت، ایران، اور اسرائیل کے ردعمل کو کیسے متاثر کرے گا؟ کیا یہ معاہدہ خطے میں امن کی راہ ہموار کرے گا یا اِس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہو گا؟ پاکستان کو مذکورہ معاہدے سے جو معاشی فوائد ملنے کا امکان ہے، وہ بھی اہم ہیں۔ سعودی عرب کی مالی معاونت پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا حل نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے مگر اس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہوگی تاکہ معاہدے کو صرف کاغذی دستاویز سے زیادہ کارآمد بنایا جا سکے۔

آج کا پاکستان کیا ہے؟ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کے بعد‘ پاکستان خطے میں نئی عسکری اور سیاسی حکمت عملی کا نمائندہ بن گیا ہے جو نہ صرف یہ طاقت رکھتا ہے کہ اپنے یا کسی بھی ملک کے خلاف حملے کا منہ توڑ جواب دے سکے بلکہ یہ خطے کے سیاسی توازن کو بھی بدل سکتا ہے اُور مسلم امہ کے اتحاد کو بھی تقویت دے سکتا ہے تاہم اس معاہدے کی کامیابی اور اثر پذیری کا دارومدار اس بات پر رہے گا کہ دونوں ممالک کس حد تک ایک دوسرے کی علاقائی اور بین الاقوامی ترجیحات کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اِن تاریخی لمحات میں پاکستان کے سیاسی و عسکری فیصلہ سازوں کو چاہیئے کہ وہ خارجہ پالیسی اور دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کریں اُور اِسے سعودی عرب کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تناظر میں مزید واضح اور شفاف بنائیں تاکہ عوام اور عالمی برادری میں اس معاہدے کے بارے میں پائی جانے والی الجھن اور شبہات دور ہوں۔ اسی طرح سعودی عرب کو بھی خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنے دیگر پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دینی ہوگی تاکہ یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کا باعث بنے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ دونوں ممالک کو ’نادر موقع‘ کے طور پر دیکھنا چاہیئے جو اِن کی سلامتی، اقتصادی استحکام اور علاقائی اثرورسوخ بڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہتھیار کبھی بھی فیصلہ کن نہیں ہوتے بلکہ قوموں کی حکمت عملیاں‘ وفاداریاں‘ دیانت اور باہمی اعتماد و اتحاد سے ناقابل تسخیر قوت بنا جا سکتا ہے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج