مہمان کالم - پاک بھارت تعلقات ، ماضی اور مستقبل! پاک بھارت تعلقات ، ماضی اور مستقبل!

۱۹۴۷ میں ۳۵۰ سالہ برطانوی تسلط کا خاتمہ تقسیم ہند پر ہوا۔اور تقسیم ہند کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی۔ انگریز سے آزادی کے لیے چاہے جتنی بھی سیاسی جد و جہد کی گئی ہو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کی بنیاد سیاسی سے زیادہ مذہبی تھی اور اس کے نتیجے میں دو ممالک، ایک جس نے اس وقت اپنے آپ کو سیکولر کہا یعنی کہ بھارت اور دوسرا اسلامی ملک پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرے۔ ویسے تو ہندوئوں اور مسلمانوں کے معاشرتی تعلقات قیام پاکستان سے پہلے بھی مثالی نہیں کہے جا سکتے۔ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت تو مسلمانوں سمت بھارت میں بسنے والی ساری ہی اقلیتوں کی کھل کر مخالفت بلکہ اسکے ساتھ نفرت کا برملا اظہار کرتی ہے ، لیکن اس کے بر عکس تقسیم ہند کے وقت ہندئوں اور مسلمانوں کے علاوہ تمام اقلیتوں کی نمائندہ جماعت، یعنی کانگریس سیکولر عقائد کا پرچار کرتی تھی اور اسکے تمام لیڈروں نے ہمیشہ ایک سیکولر بھارت کی وکالت کی ۔اس کے باوجود تقسیم کے نتیجے میں ،تقریباََ چالیس لاکھ ہندوئوں اور پچاس سے ساٹھ لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑی اور اس ہجرت کے دوران سکھوں اور ہندوئوں نے بیدردی کے ساتھ مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ انسانی فطرت کے تحت بدلے کی آگ میں جل کر اس سفاکی اور ظلم کے جواب میں کچھ جگہوں پر مسلمانوں نے بھی ہندوئوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ آزادی کے فوری بعد کشمیر اور دیگر ریاستوں کے الحاق کا مسئلہ ۔ کشمیر کو لے کر ۱۹۴۸ اور ۱۹۶۵ کی جنگیں ۔ سقوط ڈھاکہ میں بھارت کا کردار بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ویسے تو روز اول سے ہندوئوں نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا لیکن تنازعات کی لمبی فہرست نے پاک بھارت تعلقات میں موجود تنائو کو رفتہ رفتہ پکی دشمنی میں تبدیل کر دیا۔ اسکے بعد بھی سرحدی جھگڑوں سے لے کر سیاچین اور کارگل اور حال ہی میں بھارت کی جانب سے آپریشن سندور تک کی لمبی داستان ہے۔ پہلے تو جب پاک بھارت تعلقات کی بات ہوتی تھی تو ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین تصفیہ طلب مسائل ، جن میں سب سے اہم جموں کشمیر اور دیگر جیسے سرکریک، تلبل نیویگییشن پراجیکٹ، تجارت کے لیے سڑکوں اور ٹرانزٹ کے ممکنہ تنازعات وغیرہ کے بارے میں بات کی جاتی تھی۔ مسٹر مودی کی حکمرانی کے دور کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ اور انکی حلیف جماعت یعنی BJP تنازعات کی بات ہی نہیں کرتے۔ بلکہ جو بھی ہندو نہیں یا اسکا تعلق ہندو مت کی کسی چھوٹی ذات میں سے ہے تو اسکے ساتھ انکا کھلا تنازعہ ہے۔ بھارت ایک جانب گوادر کو نقصان پہنچانے کے لیے چاہ بہار کو اسکے مقابلے میں کھڑا کرنے کے خواب دیکھتا ہے تو دوسری جانب اسکی شدید خواہش ہے کہ سی پیک کو روکنے کے لیے بلوچستان میں بدامنی پھیلے۔ اسی طرح افغان بھائیوں کو پاکستان کے خلاف اکسانے کی بھارتی خواہش افغانستان میں بھارتی سفارتخانوں سے شروع ہو کر کرکٹ کے میدانوں تک بہنچ چکی ہے۔ مستقبل قریب میں پانی کی اہمیت تیل سے بڑھ کر ہو گی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ’’ انڈس واٹر ٹریٹی‘‘ پر ایوب خان اور نہرو نے ۱۹ ستمبر ۱۹۶۰ کو دستخط کئے۔ بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے ہوئے انڈس، جہلم اور چناب پر ۴۱ سے زائد ڈیم بنا چکا ہے اور ۱۲ سے زائد ڈیم زیر تعمیر ہیں۔ اس سب کے باوجود جہاںپہلی بھارتی حکومتیں کم از کم زبانی طور پر سہی، لیکن سندھ طاس معاہدے کو مانتی تو تھیں جبکہ موجودہ انتہا پسند بھارتی حکومت نے تو سیدھا سیدھا سندھ طاس معاہدے کو ماننے سے انکاری ہو رہی ہے۔ جہاں ایک جانب بھارتی ہٹ دھرمی اور پاکستان دشمنی تو ثابت ہے، تو دوسری جانب پاکستان میں بھی کبھی کبھی اور کہیں کہیں انتہائی سوچ ملتی ہے۔ چاہے وہ بھارت اقدامات کے جواب میں ہی کیوں نہ ہو۔ ایک جانب کچھ لوگوں بھارت کو تباہ کر کے دنیا سے مٹانے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ دوسری سوچ بالکل دوسری جانب کی انتہا پسندی ہے جس کے مطابق تقسیم ہند سرے سے ہی غلط تھی کیونکہ ہمارا کلچر ، رہنا سہنا سب ایک ہے۔ جانے یہ سرحد کیوں بن گئی؟ اگر قیام پاکستان کے پچھتر برس بعد یہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان کیوں بن گیا تو ان کی عقل اور شعور کو سات سلام ۔ بھارت ویسے تو عالمی طور پر بڑے گوشت کو برآمد کرنے والے ممالک میں ہر برس پہلے دوسرے نمبر پر ہوتا ہے لیکن بھار ت کے اندر یہ حالات ہیں کہ ، آئے دن کسی نہ کسی مسلمان کو گائے ذبح کرنے کے جرم میں یا گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگا کر شہید کر دیا جاتا ہے؟ ہر برس تقریباًَََ چار ارب امریکی ڈالر مالیت کا بڑا گوشت برآمد کرنے والے ’’شائینگ انڈیا‘‘ کے زیر تسلط مقبوضہ جموں وکشمیر میں نافذ قانون کے مطابق گائے کو ذبح کرنا جرم ہے جس کی سزا ۱۰ برس قید تک ہو سکتی ہے اور اگر کسی کے قبضے سے بڑا گاشت صرف برآمد ہو جائے تو اس پر بھی ایک برس تک قید کی سزا ہے۔ یہ کھلے تضادات صاف بتا رہے ہیں کہ اس دہشت گردی اور بربریت کا تعلق دراصل نہ تو ہندو مذہب سے ہے اور نہ گائے کے احترام سے بلکہ یہ صرف مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے ایک بہانہ ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ کئی جنگیں لڑ چکا۔ گھس کر مارنے کی کوشش بھی کر چکا، اور ’’ اگر رفائل ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا‘‘ کا شوق بھی پورا کر چکا۔ اب بہتر ہے کہ پاکستان کو تسلیم نہ کرنی کی پالیسی اور ماضی کو بھلا کر حقیقت کی دنیا میں واپس آئے اور اعتدال کا راستہ اختیار کرے۔ پاک بھارت سرحد کے وجود پر سوالات اٹھا نا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ دو قومی نظریہ اور پاکستان کا وجود ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کو اب انشاء اللہ تا قیامت قائم رہنا ہے۔ ضروری ہے کہ ہندوستان پاک بھارت سرحد کی حقیقت اور وجود کو تسلیم کرتے ہوئے، پاکستان کے ساتھ برابری کی سطح پر بذریعہ بات چیت مسائل کو حل کرنے اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے بارے میں سنجیدگی دکھائے۔

بشکریہ روزنامہ آج

'.$config["ad_footer"].'