ہندو مسلم اتحاد کا بجھتا ہوا شعلہ 236

ہندو مسلم اتحاد کا بجھتا ہوا شعلہ

1919ء کی آئینی اصلاحات کا اعلان اُس وقت ہوا جب ہندوستان میں جلیانوالہ باغ کا ہولناک واقعہ ظہورپذیر ہو چکا تھا اور پنجاب مارشل لا کی زد میں تھا۔ اُن اصلاحات میں ہندوستانیوں کو ملکی نظم و نسق میں شامل کرنے کی ایک نیم دلانہ کوشش کی گئی تھی۔ مرکزی اور صوبائی مجالسِ قانون ساز میں اگرچہ خاطرخواہ توسیع ہوئی تھی اور منتخب ارکان کی حیثیت اور اِختیارات میں بھی معتد بہ اضافہ کیا گیا تھا، مگر اُن کا حکومت کی تشکیل اور اُس کے مؤثر کنٹرول میں حصّہ انتہائی محدود تھا۔ کانگریسی قیادت نے 1919ء کی آئینی اصلاحات مسترد کر دی تھیں اور گاندھی جی نے مسئلۂ تحفظِ خلافت کے نام پر عدم تعاون کی تحریک کا پروگرام بنا لیا تھا، چنانچہ فروری 1920ء کے انتخابات میں کانگریس نے حصّہ نہیں لیا، البتہ اُس کے ایک بازو نے اِس پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے ’’لبرل پارٹی‘‘ کے نام سے انتخابات لڑے اور وَزارتوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کیں۔ بعدازاں 1924ء کے انتخابات میں کانگریس نے اپنے اُس بازو کو اِنتخابات میں باقاعدہ حصّہ لینے کی اِجازت دے دی تھی۔دراصل اُن دنوں تحریکِ خلافت ہندوستان کی سیاست پر پوری طرح چھائی ہوئی تھی اور ہندو مسلم اتحاد کا وہی منظر تھا جو 1857ء کی جنگِ آزادی میں جلوہ گر تھا۔اِس منظرنامے میں گاندھی جی مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور سول نافرمانی کے ذریعے حکومتِ برطانیہ کو مفلوج کرنے میں جُت گئے۔ اِس جذباتیت سے جناب محمد علی جناح یکسر الگ تھلگ رہے، کیونکہ وہ سیاسی شائستگی اور پُرامن جمہوری عمل کے زبردست عَلم بردار تھے۔ اُنہوں نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے۔ چَوری چَرا کے خوںآشام حادثے نے اُن کے شکوک و شبہات بالکل درست ثابت کر دیے تھے۔ دراصل کانگریس اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی تھی جس نے 1905ء اور1911ء کے دوران بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ کیا تھا اور قتل و غارت کا بازار گرم کر کے تاجِ برطانیہ کو تقسیمِ بنگال منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔تحریکِ خلافت جہاں ایک طرف ہندو مسلم اتحاد کا ایک نہایت ولولہ انگیز استعارہ بن گئی تھی، وہاں اُس نے ہندوؤں کے دلوں میں مسلمانوں کے بارے میں خوف بھی پیدا کر دیا تھا۔ پُرجوش تحریکی قائدین اپنی تقریروں میں یہ کہنے لگے تھے کہ پورا عالمِ اسلام ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہے اور اُس کی مدد کو کسی وقت بھی پہنچ سکتا ہے۔ اِن باتوں سے ہندو لیڈروں کے دلوں میں یہ خوف رینگنے لگا کہ مسلمانانِ ہند مسلم حکومتوں کی مدد سے اُنہیں سیاسی حقوق سے محروم کر سکتے ہیں، چنانچہ مہاتما گاندھی کے ذہن میں یہ سوال کلبلانے لگا کہ آیا تحفظِ خلافت کے ساتھ ’سوراج‘ کے مسئلے کو نتھی کر دینا مناسب رہے گا یا آگے چل کر خطرناک نتائج کا حامل ہو گا۔ غالباً اِسی گھبراہٹ میں اُنہوں نے چَوری چَرا کے واقعے کے فوراً بعد سول نافرمانی کی تحریک ختم کرنے کا اعلان کر دیا جس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کا ایک خونیں سلسلہ چل نکلا۔تحریکِ خلافت کی طرح 1919ء کی آئینی اصلاحات بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بےاعتمادی پیدا کرنے کا باعث بنیں۔ وہ اِس طرح کہ ’’لبرل پارٹی‘‘سے تعلق رکھنے والے کئی اشخاص وزیر بن چکے تھے اور اُنہیں ایگزیکٹو اختیارات بھی مل گئے تھے۔ اُنہوں نے اختیارات کے استعمال میں شدید فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا جس سے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ علاوہ ازیں اُن وزیروں اور ہندو لیڈروں کی حوصلہ افزائی سے شدھی تحریک شروع ہوئی جس کا مقصد مسلمانوں کے اُن پس ماندہ گروہوں کو دوبارہ ہندو بنانا تھا جو اِسلام قبول کرنے کے بعد بھی ہندو رَسم و رواج اپنائے ہوئے تھے۔ یہ مقصد وہ مختلف معاشرتی اور معاشی ترغیبات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بدقسمتی سے اُنہی دنوں انتہاپسند ہندوؤں نے سنگھٹن کا ایک پروگرام شروع کیا جس کا ہدف مسلمانوں سے لڑنے کیلئےنوجوانوں کا ایک جنگجو لشکر تیار کرنا تھا۔ اِن واقعات سے فرقہ وارانہ تعصب اور تشدد میں اضافہ ہوتا رہا اَور خونریز فسادات کا دائرہ پھیلتا گیا۔ہندو مسلم اتحاد پر پہلی ضرب 1921ء کے موسمِ گرما میں اُس وقت لگی جب عربوں اور نائلوں کی ایک مخلوط النسل مسلم برادری موپلوں نے حکومت اور ہندو زمینداروں کے خلاف بغاوت کر دی اور عمر حاجی کی زیرِ قیادت ’’خلافت کی حکومت‘‘ بھی قائم کر لی۔ پولیس اُن کا مقابلہ نہ کر سکی اور کئی مہینے گوریلا جنگ جاری رہی۔ انگریز فوجی افسروں نے موپلوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ طرزِعمل اختیار کیا۔ بغاوت کچلنے میں دو ہزار موپلے مارے گئے اور ہزاروں پر بغاوت کے مقدمات چلے۔ ایک موقع پر افسروں نے ایک سو کے قریب ملزمان کو جانوروں کی طرح مال گاڑی کے ڈبے میں مقفل کر کے ایک دوسرے مقام کی طرف روانہ کر دیا ۔ شام کو جب قفل کھولا گیا، تو 66 ملزم دم توڑ چکے تھے اور باقی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ ہندو اَخبارات نے اُن واقعات کو یہ رنگ دیا کہ موپلوں کا اصل مقصد ہندو زمینداروں اور سیٹھوں کو تختۂ ستم بنانا تھا۔ اِس حاشیہ آرائی سے فضا سخت مکدر ہوئی اور جگہ جگہ ہندو مسلم فسادات کا سلسلہ چل نکلا۔اِسی دوران پنجاب میں، جہاں مارشل لا کے خلاف ہندو اَور مسلم آپس میں متحد تھے، وہاں بدقسمتی سے پنجاب کے وزیر میاں فضلِ حسین کے بعض اقدامات کے بارے میں ہندو پریس نے مخالفانہ بحث شروع کر دی جس سے بعض شعبوں میں ہندوؤں کے ایک خاص طبقے کی اجارہ داری پر زد پڑی تھی اور مسلمانوں کیلئے کچھ سہولتیں پیدا ہوئی تھیں۔ اِس ناختم ہونے والی بحث نے آگے چل کر فرقہ وارانہ کشیدگی میں شیدید اضافہ کیا جس کے سبب ہندو مسلم اتحاد کا باب آگے چل کر بند ہو گیا۔ تحریکِ خلافت بھی اُس وقت ماند پڑ چکی تھی، کیونکہ کمال اتاترک نے خلافت کا ادارہ ہی ختم کر دیا تھا اور ینگ ٹرکس (Young Turks) کی حمایت سے ترکی کو تقسیم ہونے سے بچا لیا تھا، مگر مسلمانانِ ہند پر خلافت کا منصب ختم ہو جانے سےسکتہ طاری ہوگیا تھا۔ تحریکِ خلافت اُنہوں نے اپنے خون سے سینچی تھی اور ایک شاندار مستقبل کیلئے اپنا سب کچھ تج دیا تھا۔ (جاری ہے)

بشکریہ ہم سب

'.$config["ad_footer"].'