ھمارے برصغیر کا بلکہ ایشیا کا ایک بڑا المیہ ہے کہ یہاں نظام کی جگہ شخصیات کا عمل دخل زیادہ ہے ، جس کی وجہ سے اجتماعی دانش پروان نہیں چڑھتی ، جس کے خطرناک اثرات معاشرے پر ہیں ، یورپ نے وقت کے ساتھ اس بات کو سیکھا اور نظام کو ایسا مضبوط بنایا کہ شخصی حکومت اور نظریہ کم ہی پروان چڑھتا ہے ، لوگ کارکردگی دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں اور قوانین و انصاف کو اہمیت حاصل ھوتی ھے ، ایشیا میں ترکی ، چین ، کسی حد تک روس ، بھارت ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں دیکھیں شخصیات ہی غالب رہی ہے جہاں کہیں مذھبی ، کہیں نسلی اور اکثریتی عوام کا استحصال ھوتا ھے ، کہیں تو باقاعدہ فسطائیت مخالف طبقات کو کچل دیتی ہے ، ان شخصی حکومتوں میں ترکی اور چین نے ترقی بھی کی مگر ایک بڑا طبقہ بنیادی حقوق سے بھی محروم ھوتا ھے ، چین میں چونکہ ایک ہی خاندان زیادہ تعداد میں ھے اس لئے نظام اور شخصی حکومت ساتھ ساتھ چل رہی ہے ، البتہ مسلمان اور دوسرے نظریے کے لوگ وہاں بھی مشکلات کا شکار ہیں ، یہی حال بنگلہ دیش کا ھے جہاں کچھ عرصے سے ایک ہی شخصیت ، اپوزیشن اور مخالف کو کچل کر حکومت کر رہی ہے ، جس کے وقتی نتائج بہتر مگر معاشرہ تیزی سے زوال پذیر ہے ، شدت ، انتہا پسندی اور نفرت پیدا ھو رہی ہے ، پاکستان میں بھی مختلف شخصیات کی یہی کوشش ھوتی ھے جو کبھی کامیاب اور کبھی رسہ کشی کا شکار رہتے ہیں، پارلمینٹ ، عدلیہ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بھی رسہ کشی ہے افسوس ناک بات یہ ھے کہ اب پہلی مرتبہ عوام میں بھی اتر آئی ھے، برداشت بالکل ختم ہو چکی ہے ، مگر بھارت جہاں اول دن سے جمہوریت قائم تھی وہاں بھی ایک مخصوص جماعت ، شخصیت اور نظریے نے معاشرے کو انتہا پسند بنا دیا ہے جس کے اثرات 2014ء سے نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں ، جس کے لیے گجرات کا قتل عام ، کشمیر کی تقسیم ، اور مسلم نہیں بلکہ غیر ھندو مخالف تحریک کا آغاز کر کے ھندواتا کو فروغ دیا جو اب ھندواتا سے زیادہ مودی ازم بن چکا ہے ،
اس سال دنیا میں تقریبا پچاس ممالک میں انتخابات ھو ریے ہیں جن میں امریکہ ، بنگلہ دیش ، بھارت اور پاکستان نمایاں ہیں جس کے اثرات ہیں ، دوسری طرف ٹیکنالوجی کی جدت نے انسانوں کو نئے نئے گر سیکھا دیئے ہیں اور فیک نیوز ، اور اے آئی نے دنیا کو ھلا کے رکھ دیا ہے ، بھارت کے انتخابات کا ھمارے معاشرے پر براہ راست اثر ھوتا ھے جس طرح یہاں کی طرح بھارت میں عام آدمی پارٹی کو تقویت مل رہی تھی اور وہ دہلی سے نکل کر پنجاب بھر میں مقبولیت حاصل کر چکی تھی اس کا زور بھی مودی ازم نے توڑ دیا ہے ، گانگریس اتنی دور رہ گئی کہ مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر آگئی ھے ،
آپ کو یاد ھوگا 1980ء کی دہائی میں ھندو قوم پرست خاندان سنگھ پریوار اور وشو ہندو پریشد نے ھندوؤں کے لیے ایودھیا کے مقام پر مندر تعمیر کرنے کی تحریک شروع کی جس پر پرتشدد واقعات ھوئے ، 1989ء میں انہوں نے بابری مسجد سے متصل زمین پر مندر تعمیر کرنے کی بنیاد رکھی ،6 دسمبر 1992ء میں وی ایچ پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک مندر تعمیر کرو ریلی کا اہتمام کیا جس میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد رضا کاروں جنہیں کار سیوک کا نام دیا گیا نے شرکت کی ، انہوں نے سیکورٹی حصار توڑ کر مسجد پر حملہ کیا اور اسے توڑ ڈالا ، بابری مسجد کو سولھویں صدی عیسوی میں مغلوں نے تعمیر کروایا تھا مگر ھندووں کا دعویٰ تھا کہ یہ شری رام ، جو ان کا سب سے مقدس دیوتا ہے کی جنم بھومی ھے ، 1850ء میں اس پر تنازعہ ھوا تھا اس وقت بھی فسادات ھوئے جبکہ 1980 میں مندر کی تعمیر کے لیے جو اینٹیں رکھی گئیں ان پر جئے شری رام لکھا ھوا تھا ، آخر کار 2019ء مودی کے دور حکومت میں سپریم کورٹ نے حکومت کی زیر سرپرستی چلنے والے ٹرسٹ کے نام زمین کر دی ، اسی فسطائی حکومت کے دور میں سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر، دیگر کالے قوانین اور تقسیم کشمیر جیسے متنازعہ فیصلے سنائے ، یوں کہا جا سکتا ہے کہ عدلیہ بھی مودی ازم کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ھے ، 5 اگست 2020ء میں وزیر اعظم نریندر مودی نے مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ، اور اب 2024ء میں ھونے والے انتخابات میں تیسری بار کامیابی کے لیے اس کے افتتاح سے مودی ازم کا ایک نیا آغاز ھو ریا ہے جس میں ھندوؤں کی اکثریت بہہ جائے گی ، وہ کیوں نہ مودی کا ساتھ دیں کیونکہ فروغ اور عمل میں یہی نظریہ مضبوط کیا گیا اور مودی ازم اب ایک نظریہ بن چکا ہے جس میں میڈیا ، عدلیہ ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پارلمینٹ سب مودی کے آگے خاموش ھے
نریندرا مودی نے 2014ء پاکستان مخالف نعرے ، در اندوزی کے الزامات اور کشمیر میں جنتا پارٹی کی انٹری کے نظریے پہ لڑے جبکہ مسلم دشمنی اور عداوت کو زیادہ پھیلایا تاکہ تمام ھندوؤں ایک طرف ھو جائیں ، اسی بنیاد پر وہ الیکشن جیت گئے ، ساتھ وعدہ کیا کہ کشمیر میں جنتا پارٹی کو تقویت دی جائے گی ، باوجود کوشش کے جنتا پارٹی کو کشمیر میں پذیرائی نہیں ملی ، دوسرے مرحلے میں مودی ازم کو مزید طاقتور بنانے کے لیے کشمیر کو اٹوٹ انگ بنانے کا وعدہ کیا یہی بڑا ایشو تھا جس کی بنیاد پر 2019ء کا الیکشن مودی نے پھر جیت لیا ، اس دفعہ کی بھاری اکثریت کا نتیجہ 5 اگست 2019ء کو سامنے آیا جب امیت شاہ کی تحریک پر پارلمینٹ آف انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت اور آرٹیکل 370, اور 35, اے ختم کر دیا گیا ، کشمیر کو جموں ، لداخ اور وادی میں بانٹ کر ، ابادی کا تناسب بدلنے کی کوشش جاری ھے ، جس کے نتائج کے طور پر کشمیر کا نقشہ ھی بدل دیا گیا ، جہاں مسلمان ابادی ھو یا دوسرے مذاھب کے لوگ مشکل زندگی گزار رہے ہیں ، حریت رہنماؤں کو جیلوں اور عوام کو قلعے میں محصور کیا ھوا ھے ، بنیادی حقوق ، آزادی اور انسانی حقوق تک چھین لیئے گئے ، مودی ازم ترقی کرتا ھوا پھر ایودھیا میں مندر کا افتتاح اور ھندو ابادی کو خوش کرنے کے لیے نئی تحریک شروع ھو رہی ہے ، وہ تحریک مودی ازم کا تسلسل ہے ھندو ازم کہیں دور رہ گیا ، مودی تیسری ٹرم بھی لے گئے تو یہ ازم ترقی اور انتہا پسندی میں تمیز نہیں کر سکے گا ،
201