مائنس پیپلز الیکشن؟ ہوم ورک ناگزیر! 191

مائنس پیپلز الیکشن؟ ہوم ورک ناگزیر!

ہمارے بڑے فیصلہ ساز،سیاسی جماعتیں اور متعلقہ ریاستی ادارے مکمل سنجیدگی، ٹھنڈے دماغ اور قومی جذبے سے غور فرمائیں کہ : ابتر وطن عزیز مسلسل کج بحثی اور انتہا پر پہنچے سیاسی انتشار، غیر یقینی اور بے نتیجہ سرکاری اقدامات کے بھاری اخراجات کا مزید متحمل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ بھی طےہے کہ ہماری موجود شدید مضطرب قومی کیفیت میں درپیش چیلنج معمول کے سیاسی اور اس سے جڑے ایسے ہی معاشی عمل کی بحالی کا ہے۔ اب ترقی اور اس میں تیزی ہنوزز دور است۔ دنیا بھر کے ممالک کےسیاسی و معاشی عمل اور اس کی بنیاد پر ترقی و تنزلی کی رفتار اور حالت پر ہونے والی ریسرچ، کیس اسٹڈیز اور عمیق مطالعہ اس ثابت شدہ حقیقت(نالج جو ایٹ لارج پریکٹس میں ہے) کو مکمل آشکار کرتا ہے کہ قومی معیشت کی بحالی، اس کا برقرار رہنا اور اس میں بتدریج یا تیز ترقی کا عمل، سیاسی عمل و استحکام کی کیفیت سے جڑا ہے ،جس طرح انسانی زندگی میں سانس لینے کا عمل (نظام تنفس) ناگزیر ہے اسی طرح ایک ریاست میں ترقی و خوشحالی یا کم از کم موجود معاشی حالت کو برقرار رکھنا ،سیاسی عمل کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے۔

اب ہم دمے میں مبتلا قوم ہیں۔ یہ کوئی تجزیہ، سیاسی بیانیہ اور رائے نہیں بلکہ علم سیاسیات و اقتصادیات کا لازم و ملزوم ہے کہ جب اقتصادی استحکام، سیاسی استحکام سے ہی ہونا ہے تو سیاسی استحکام کی پائیداری بھی معاشی استحکام سے جڑ جاتی ہے، ہمارے ہر دو بیمار ۔ سو اس پر مزید رائے زنی، مکالمے یا تجزیوں اورتبصروںکی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔ اس پر کوئی دوسرا نیا تجربہ، رائے یا تجزیہ علم (نالج) سے انکار و انحراف کے مترادف ہوگا جو ہمیں بطور قوم قدیم چینی معاشرے کی کہاوت کے مطابق INTERESTING TIME (جہنم) میںلے جائے گا نہیں بلکہ ہمیں اس جانب لے آیا ہے اور ہم اسی دوراہے پر بھٹک رہے ہیں۔ عملی صورت یہ ہے کہ کم سے کم مطلوب تاثر ہر سیاسی استحکام کے تقاضے کہ الیکشن 2018- تک انتخابی عمل کا جتنا معیار اور اعتبار بن گیا تھا اس سے تو ہر گز نیچے نہ اترا جائے جبکہ گراف 160/170 ڈگری پر آکر زمین سے لگا چاہتا ہے جس میں اک بار پھر سیاسی تلپٹ سے پی ڈی ایم ٹائپ لشکر حکومت بنتی ہی نظر آ رہی ہے جسے قومی حکومت کا نام دیا جائے گا۔ یہ سنجیدہ تجزیوں میں جگہ بنا رہی ہے اور اس کے لئے سیاسی مکاریاں اور اولیگارکی (مافیہ راج) کے سیاسی کرتوت باآسانی پڑھے جا رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آنے والے الیکشن ، 2 سال کے انتظامی، عدالتی اور سیاسی کھلواڑ کے بعد سیاسی جماعتوں کے اشتراک و اتفاق سے 8 فروری کے انتخابات کو 2018 کے انتخابات کی نسبت زیادہ شفاف، بااعتبار اور قابل قبول بنانے کے لئے پری الیکشن بڑی سیاسی سرگرمی سے کوئی ہوم ورک کرلیا جاتا، جو اب معطل ہوگئے سیاسی عمل کی بحالی کے لئے اولین قومی ضرورت ہے۔ (اس کی تجاویز کا ایک پیکیج گزشتہ ’’آئین نو‘‘ بعنوان ’’فوری اور قومی ناگزیر ضرورت‘‘ برائے غور 9 دسمبر کو پیش کیا گیا ہے، اس میں ای گورننس پر بیس کرتے نئے نظام ٹیکس پر قومی اتفاق کے لئے ایک اور پیشگی مسودہ قانون کی پری الیکشن تیاری کا اضافہ بھی کرلیا جائے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین مجوزہ ’’ہوم ورک‘‘ پر غور فرما کر تبدیلی، اضافے تجویز کریں کہ یہ تو یقیناً ناچیز کی محدود سی کوشش ہے۔ واضح رہے کہ اس ’’ہوم ورک‘‘ کی بات ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بڑے مخلص، بااختیار، وفادار اور صاحب الرائے مورثی سیاست و حکومت سے بیزار ’’باغی‘‘ بھی کر رہے ہیں۔

یہ ہی ایک صراط مستقیم ہے جسے اختیار کرکے ہم ناصرف الیکشن کی شفافیت اور اختیار کو بحال بلکہ موجود زمین سے لگے بیمار ولاغر سیاسی عمل کا گراف یکدم 120/130 درجے پر لا سکتے ہیں اور یہ جو زرداری صاحب اور بلاول میئر کراچی جیسے الیکشن کی امید باندھے جنرل الیکشن سے مزید سیاسی عدم استحکام کا باعث بننے والی قومی حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں اور میاں صاحب پی ٹی آئی کو نگران حکومتوں، الیکشن کمیشن اور افسر شاہی سے ٹھکانے لگا کر پی ڈی ایم ماڈل کی جس لشکری حکومت کی تشکیل کو ہدف بنائے ہوئے ہیں ،یہ دیگ عوام اور ملک کے لئے تباہ کن، عوام دشمن 16 ماہی پی ڈی ایم حکومت سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوگی۔ وفاق کے علاوہ جتنے صوبوں میں اولیگارکی جادو چل گیا ان سب میں نااہلوں کی لشکری کا بینائیں بنیں گی پھر کرپشن کا بازار گرم ہوگا اور عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے اک اور طوفان کی زد میں آئیں گے۔ ریاستی ادارے اور ان کی ٹوٹل مشنری وہ کھلواڑ کرے گی کہ رہی سہی سیاست و معیشت کا مزید کباڑہ ہوگا، پھر کسی ڈیزاسٹر کے بعد اولیگارکی کی بالائی کھیپ لندن اور دبئی کا رخ کرے گی اور پھر عوام کے بین آسمان کو چھوئیں گے۔ کیا اس سارے انتخابی کھلواڑ میں عوام کے ایک بڑے فیصد کو مائنس نہیں کیا جا رہا؟ ایک جانب ن لیگی انتخابی مہم کا ناکام آغاز شاہدرہ اور ٹھوکر نیاز بیگ کے عشائیہ عام کے بعد مور (MORE)’’لیول پلیئنگ فیلڈ‘‘ کی فرمائشوں سے ہونا اب عوام رابطہ مہم کی بجائے ڈیروں اور پر تعیش ڈرائنگ رومزپالیٹکس پر مرتکز ہو گیا ہے ۔مولانا صاحب نے بھی اپنے اصل صوبے کے عوام سے رابطےکرنے کی بجائے آئوٹ آف دی وے، اپنا ہی ڈیزائن بنا کر اس مرتبہ کشمیر کمیٹی کی بجائے کرسی صدارت کو ہدف بنالیا ہے۔ جلسوں، ریلیوں اور ورکرز کنونشن کی کھلی اجازت انہیں مل رہی ہے جن کے لئے یہ سب کرنا محال اور رسکی ہو گیا ہے اور جو مطلوب ماحول سے سیاسی انتخابی عمل کو معمول سے بھی زیادہ سرگرم کرکے ٹرن آئوٹ بڑھانے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔

ان پر پہرے ہیں،کیا وہ غیر آئینی ہو گئے؟ نگران قانون سے ماورا دیدہ دلیری سے بااعتبار اور معمول کا الیکشن ماحول پیدا کرنے میں پہاڑ کی طرح حائل ہیں ۔گویا 8فروری کے انتخابی عمل کو مائنس پیپلز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔ یہ بات الگ ہے کہ نتیجتاً اسیروں کا ووٹ بینک بڑی خاموشی سےبڑھ رہا ہے اور اب تو اس کا چڑھتا گراف نظر بھی آنے لگا ہے ۔مین اسٹریم میڈیا کو جو اولیگارکی کی ملازم اتھارٹی سے قابو کیا ہے تو سوشل میڈیا کا حجم اس کی عوام سے وابستگی اور اعتبار کا دائرہ حیرت انگیز طور پربڑھتا جا رہا ہے یاد کرو پی ڈی ایم لشکری حکومت کے سخت متنازع اور خسارے والے قیام سےپہلے کا ’’آئین نو‘‘ اس بیانیے پر ختم کیا تھا کہ اس سیاسی کرتوت کا نقصان سب ہی کو ہوگا عوام، ملک اور سب سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو،لیکن سب سے زیادہ ن لیگ کو ۔ یہ ہو گیا اور ہو رہا ہے آج اسی بیانیے کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے کہ دائرے کے سفر ہی ہمارا مقدر ٹھہر گئے ؟اب بھی وقت ہے سمجھ لو۔اب تو ہوم ورک بھی پیش کر دیا۔ 

بشکریہ جنگ نیوزکالم