قائد اعظم محمد علی جنا ح کی پور ی زند گی اصو ل، ضوابط اور تنظیم کی ریشمی ڈوری میں بندھی نظر آ ئے گی۔کام ،کا م اور کام کے فلسفے سے آ پ نے منز ل کو پا نے کا عالمگیر فارمولا بتایا۔نظم ضبط اوراصو ل کی شمع کو ر وشن کر کے زند گی کو قا بل فخر اور قا بل رشک بنا نے کا جوطر یقہ آ پ نے بتا یا اور سمجھایا اس پر ہم آج سے عمل کرنا شر وع کر دیںتو ہما ری انفر اد ی اور اجتما عی زند گیو ں میں انقلا ب آ فر یں تبد یلیاں آجائیں۔ ہم قا ئدا عظم محمد علی جناح کی اصول پسند زند گی پر فخر تو کر تے ہیںمگر آ پ کی تعلیما ت پر عمل کر نے سے مسلسل رو گردا نی کررہے ہیں .قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے ہی نہیں پورے عالم اسلام کے رہنما تھے۔آپ نے فرمایا وہ کونسا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ۔وہ کونسی چٹان ہے جس پر ملت اسلامیہ کی عمارت استوار ہے۔وہ کونسا لنگر ہے جس سے اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔وہ رشتہ وہ چٹان وہ لنگر اللہ کی مقدس کتاب قرآن حکیم ہے ۔آپ کی سیاسی بصیرت مسلمہ تھی آپ نے انتہائی خلوص لگن اور جانفشانی سے قوم کی رہنمائی کی ۔آپ ایک مرد آہن بطل جلیل اخلاق حمیدہ اور اطوار پسندیدہ کے حامل تھے ۔آپ کا فکر و عمل منفرد تھا ۔اسلام کے سچے علمبردار تھے اور آپکی زندگی کا ہر پہلو منفرد اور یگانہ حیثیت کا حامل نظر آتا ہے۔آپ کا یہ سنہری قول تھا کہ" ہم خودبھی امن سے رہنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی امن سے رہنے دینا چاہتے ہیں ۔ہمیں ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینا ہے اور عام آدمی کی زندگی کا معیار بلند کرنا ہے"۔ وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے" فیصلہ کرنے سے پہلے لاکھ بار سوچ لو لیکن جب فیصلہ کر لو تو اس سے کسی صورت بھی پیچھے نہ ہٹو"۔ آپ نے اپنی قابلیت ،ذہانت مستقل مزاجی اور دیانتداری سے نہ صرف بر صغیر کے ہر شعبے میں بلکہ وکلاء برادری میں بھی خاص مقام پیدا کر لیا تھا آپکا شمار چوٹی کے وکلاء میں ہوتا تھا ۔آپ نے فرمایا "اگر کوئی چیز اچھی ہے تو یہ عین اسلام ہے اور اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہے تو یہ اسلام نہیں ہے کیونکہ اسلام کا مطلب عین انصاف ہے "آپ نے دنیا میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی اور اس کے لئے جو کچھ کیایا جو کچھ کرنا چاہتے تھے وہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے ۔قائد اعظم کی شخصیت اور کارناموں سے متاثر ہو کر دنیا کی مقتدر شخصیات نے ان کو حرج تحسین پیش کیا "لارڈ ارون وائسرائے نے یوں کہا "انگریزوںکو صرف محمد علی جناح سے خطرہ ہے کیونکہ وہ دل و جان سے آزادی چاہتے ہیں اور آخر کار وہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکلنے پر مجبور کر دیں گے "خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی نے قائد اعظم کے متعلق کہا کہ" وہ عزم کے پختہ ،بے باک سپاہی اور مخالفین سے ٹکرانے کاحوصلہ رکھتے تھے " مسزز وجے لکشمی پنڈت کی یہ خواہش تھی کہ" کانگرس کے پاس اگر قائداعظم ہوتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا "سی آر ریڈی کے بیان کے مطابق" قائد اعظم صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں پورے ہندوستان کیلئے باعث فخر شخصیت تھے"گھوکھلے نے قائد اعظم کی صلاحیتوں کو یوں سراہا" جناح میں بے شمار صلاحیتیں ہیں اسلئے وہ ایک دن ہندوستان کے سفیر بنیں گے "سیرت و کردار کی بلندی کو سراہتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو نے یوں کہا" قائد اعظم نے سیرت و کردار کی بلندی کے باعث زندگی کے مختلف معرکے سر کئے "لارڈ ویول نے یوں تعریفی جملے کہے "محمد علی جناح کے ارادوں میں پختگی اور روےّے میں کوئی لچک نہ تھی۔مسلمانوں کے سچے اور عظیم رہنما تھے"مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنا نذرانہ عقیدت یوں پیش کیاتھا" اورنگزیب کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں میں قائد اعظم قد آور شخصیت رکھتے تھے اور اُن کے مقابل کوئی شخص پیدا نہیں ہوا" گاندھی جی کے خیال کے مطابق" جناح بہت مخلص تھے اور اُن کو مسلمانوں پر بے پناہ قابو حاصل تھا" آج ہم اپنی قو می سیا ست اور سیا سی رہنمائو ں کے طر ز عمل کو د یکھیں وہ صبح وشام قا ئدا عظم کے فرمودات پیش کر تے نہیں تھکتے مگر ان فرا مین پر عمل کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔ابھی چند ہفتے قبل چیئر مین تحر یک انصا ف عمران خان نے نئے سپہ سالار جنر ل عا صم منیر کو مبار کباد کے پیغام میں حضر ت قائدا عظم محمد علی جنا ح کے اس فر ما ن کو شا مل کیا جس میں با نی پا کستان نے سر کا ری ملا زمین کی زمہ دا ر یوں کی ایک جھلک د کھلا ئی ۔گو یا ہم نے قا ئد اعظم کے فرمودا ت بھی اپنے مقا صد کیلئے استعما ل شروع کر دیتے ہیں۔ہما ری قو می سیا ست تو مثا لی ہونی چا ہیے مگر ہم نے سیا ست الزام تر اشی اور ایک دو سر ے کو نیچا د کھا نے کی رو ش سے پراگند ہ کر دیا ہے۔کا ش ہمارے'' بڑ ے'' سیا ست کی گا ڑ ی کو ایسے ٹر یک سے بچائیں جس میں بچھتاوے اور شر مند گی کی د لد ل اور کھا ئیا ں ہوں ''مگر اس میں لگتی سے محنت زیا دہ''
236