کاکڑ صاحب کے نام 112

کاکڑ صاحب کے نام

میں دیکھ رہا ہوںکہ معیشت کی ستم گاہ میںزندگی کی درد انگیزکراہ طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ اس کی قبا میںجا بجا بھوک کے پیوند لگے جاتے ہیں ۔مہنگائی نے اس کا بند بند مضمحل کر دیا ہے ۔ روٹی کی تلاش میں نکلا ہوا بچہ چاند کی گولائی دیکھ دیکھ کراُکتا چکا ہے۔بھوک اس کا پیٹ کاٹتی جا رہی ہے۔ماں کو ہنڈیا میں پتھر اُبالتے ہوئے بہت دیر ہو چکی ہے ۔ فاقہ زدہ دوشیزہ کو اپنی عصمت کے دام بھی پورے نہیں مل رہے ۔روکھی سوکھی کھا کر رات گزارنے والے سفید پوش صرف پانی پر عمر گزارے جا رہے ہیں ۔ماہانہ کچھ ہزار روپے تنخواہ لینے والاچار بچوں کا باپ تنخواہ سے دو گنا زیادہ بجلی کا بل دیکھ کر خودکشی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔لگتا ہے غربت آخری احتجاج کیلئے سڑکوں پر آنے والی ہے اور خدا نخواستہ اسے روند دیا گیاتو کیا ہوگا ۔ ۔ ۔ کچھ ضرور ہوگا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔

اس وقت میرے چاروں طرف اخباروں کا ڈھیر پڑا ہے ،میں نے ایک ایک خبر کو چاٹ لیا ہے ،کوئی امید افزا خبر دکھائی نہیں دی۔ بلکہ زیادہ تر خبریںدل دہلانے والی ہیں ۔اللہ نہ کرے کوئی طوفان ، کوئی خوفناک حادثہ، کوئی ہولناک واقعہ،کوئی کرب کے دوزخ سے نکلی ہوئی تاریخ بدلنے کی ساعت،کوئی ٹوٹتی زمین کی دہشت خیز آواز،کوئی ساکت ہوتی زندگی ، کوئی چہرے بدلتی ہوئی رات، کوئی اجتماعی سماعت شکن دھماکہ ۔کچھ ہوجائے ۔ میں اخباروں میں چھپے ہوئے لفظوں سے گزر کرایک تیز رفتار ریل گاڑی کو ایک ایسی سرنگ سے گزرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جِس کا دوسرا دہانہ بنایاہی نہیںگیا۔

میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے ۔اس وقت سے جب کھونٹے پر بندھے ہوئے جانوراپنی رسیاں توڑ کر بھاگنے کی کوشش میں ہانپ رہے ہوں ۔جب ، گھونسلوں سے پرندے نکل آئیں اور اپنی اپنی بولیوں میں شور مچا رہے ہوں۔جب فضامیں ایک بے رونق سُرمئی اور سُرخ بُجھا بُجھا رنگ پھیل جائے۔ درخت اپنی بہاروں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ، سوکھی ٹہنیاں اپنے استخوانی وجودلئے ساکت و جامداپنی پور پور خشک پتھرائی آنکھوں میں دہشت بھر کر آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی ہوں، کانٹوں کی باڑیں اپنے قریب کی ہر شے سے لپٹتی جارہی ہوں۔ تیز و تند زہریلی آندھیاں ہر چیز کو جڑ سے اُکھاڑ کر بگولوں کے چکر میں جکڑنے کے موقع کی تلاش میں ہوں۔کہیں قہقہے تاریخ میںنہ بدل جائیں زبانیں پتھر کی نہ ہوجائیں ، آنکھیں پھیل کر باہر اُبل نہ پڑیں ،کہیں زندگی کی رمق موت کی زردی میںنہ بدل جائے۔ میں ڈرا ہوا ہوںکہ کچھ ہونے والا ہے۔دعا کریں کہ جو کچھ میں سوچ رہا ہوں ، دیکھ رہا ہوں ویسا نہ ہو۔ کچھ اور ہو ۔ انسانی تاریخ میں انسان سے زیادہ طوطا چشم کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔مجھے اپنی شمالی سر حدوں سے بھی بارود کی بو آرہی ہے۔معاشرت میںجو زہر زبردستیوںکے سائے میںبوئے گئے تھے اب ایک تناور اور ثمرآور درخت بن چکے ہیں اس کی زہریلی جڑیں زمیں میں دور دورتک پھیل گئی ہیںاور سانپ سانپ شاخوں نے اپنے زہر بھرے پھل ڈائننگ ٹیبل پرسجادئیے ہیں ۔سو ہر گھر میں منافرت کا رقص جاری ہے ۔

علم کی درس گاہ میں نصاب سے روشنی کے وہ تمام ورق نکال لئے گئے ہیںجو سچائی کی کھوج میں نکلنے والوں کی رگوں میں لہو کی رفتار کو تیز کرتے تھے۔کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس نصاب کو پڑھ کر پروان چڑھنے والی نسلیںاپنی سرحدوں کا دفاع کیسے کریں گی۔شاید پھر نصاب بدلنے والا ہے۔کچھ نئے نصاب لکھنے والے اپنے کان پرقلم رکھ کر حرکت میں آنے والے ہیں ۔سیاست کی خواب گاہ میں اپنے اپنے خوابوں کے وزیرِ اعظم موجود ہیں یعنی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ ۔کسی غیبی امداد کی امید پر۔۔دوسری طرف دنیا کی آنکھوں میںچبھتا ہوا پاکستان ہے۔اس کی گاڑی ا س سرنگ میں داخل ہونے والی ہے جس کے آخری کنارے پر روشنی کی کرن کا تصور ہی بعید از قیاس ہے۔۔میں نا امید ہوں۔۔ خوف زدہ ہوں ۔۔ سہما ہوا ہوں ۔

کاکڑ صاحب ! میری امید کے چراغ روشن کیجئے ۔ مجھے دلاسا دیجئے ۔مجھے تسلی کی ضرورت ہے کہ صرف میں نہیں ، میں اس وقت پوری قوم ہوں جو آپ کی طرف دیکھ رہی ہے اور مسلسل مایوس ہو رہی ہے ۔کچھ ایسا کیجئے کہ بجھتی ہوئی آنکھوں کے دئیے پھر سے جل اٹھیں ۔ بجھتے ہوئے چولہوں میں آگ جل پڑے ۔فاقہ کش کا پیٹ بھر جائے ۔ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ آئیں ۔ مرجھائی ہوئی زندگی کھل اٹھے ۔

برائے مہربانی سرکاری وسائل عوام تک پہنچنے دیجئے ۔غریبوں میں کچھ اورنہیں بانٹ سکتے تو لاکھوں ایکٹر بنجر زمینیں پڑی ہیں وہی بانٹ دیجئے ۔بجلی سستی نہیں کر سکتے ،تو گھروں میں بہت ہی کم قیمت پر سولر انرجی تو فراہم کر سکتے ہیں ۔اس میں تو آئی ایم ایف کو کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا۔غریبوں کو مفت آٹا یا گندم فراہم کرنے پر تو کسی نے پابندی نہیں لگائی ۔ شوگر مافیا کو چینی سستی کرنے پر مجبور کرنے سے تو آپ کوکسی نے نہیں روکااوراگر یہ کام آپ نہیں کر سکتے تو پھر فوری الیکشن کرائیں کہ دیکھیں کہ عوام اپنے مسائل کے حل کی امید کس سے رکھتے ہیں۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم