حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اوصاف حمیدہ (24) 249

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے اوصاف حمیدہ (24)

(1) ماں باپ کا ادب: حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنے والدین کا بہت احترام کرتے تھے۔ تمام عمر دل و جان سے ان کی خدمت کرتے رہے۔ جس روز پہلا خطبہ اسلام پڑھنے پر آپ ؓ کو کفار نے بہت مارا، اور موت کے قریب پہنچ گئے، جب ہوش آیا، تو بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہونے کی خواہش ظاہر کی، آپ کی والدہ ام الخیر سلمی بنت صخر اور فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہما کے سہارے حضور اکرمﷺ کی بارگاہ میں پہنچے۔ اور حضور اکرمﷺ سے درخواست کی، یارسول اللہ میری والدہ کے لیے دعا فرمائیں؛ کہ اللہ تعالی انہیں ہدایت نصیب فرمائے، اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں۔ حضور اکرمﷺ کی دعا سے آپ کی والدہ اسی وقت مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔ آپ کے والد ابو قحافہ نے فتح مکہ تک اسلام قبول نہیں کیا۔ فتح مکہ کے دن آپ اپنے والد ماجد کو حضور اقدسﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضور اکرمﷺ نے انہیں اسلام کی تلقین کی، اور وہ اسی وقت شرف اسلام سے بہرور ہو گئے۔ (2) بیویوں سے حسن سلوک: رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے، کہ تم میں کوئی شخص کامل الایمان والا نہیں ہو سکتا، جب تک اپنی بیوی سے اچھا سلوک نہ کرے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنی بیویوں سے بہت اچھا سلوک کرتے تھے، اور آپ ؓ کی خانگی زندگی بہت خوشگوار تھی۔ مختلف روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ ؓ تمام بیویوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرتے تھے، اور ان کے حقوق پورا کرنے میں عدل کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔ (3) مریضوں کی عیادت: مریضوں کی عیادت کرنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کبھی رسالت مآبﷺ کے ساتھ اور کبھی تنہا مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے، اور ان کی دلجوئی کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے، کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ بیمار ہوئے، تو حضرت ابو بکر صدیق ؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ پیادہ بنو سلمہ کے محلے گئے، اور حضرت جابر ؓ کی گھر جا کر ان کی عیادت کی۔ (4) تعزیت: انتقال کرنے والوں کے اعزہ و اقارب کے پاس جا کر ان کو صبر کی تلقین کرنا، اور تسلی دینا سنت نبویﷺ ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اکثر غمزدہ خاندانوں میں تعزیت کے لیے جایا کرتے تھے۔ حضور اکرمﷺ کے وصال نے ان کو سخت غمزدہ کر دیا تھا، لیکن پھر بھی ام ایمن کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لے گئے، جو بچپن میں حضور اکرم رسالتﷺ کو کھلایا کرتی تھیں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کو امی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن سہیل ؓ جنگ یمامہ میں شہید ہو گئے۔ تو آپ ؓ مکہ گئے، اور ان کے والد سہیل بن عمرو کے پاس جا کر ان کی تعزیت کی۔ (5) خوش طبعی: حضرت ابو بکر صدیق ؓ میں خوش طبعی اور مزاج کی حس بھی پورے وقار اور متانت سے موجود تھی۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نماز عصر مسجد نبوی میں پڑھ کر آ رہے تھے، آپ کی ایک جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ اس اثناء میں ان کا گزر حضرت حسن بن علی ؓ کے پاس سے ہوا، جو بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپ ؓ نے جلدی سے انہیں اٹھایا، اور اپنے کندھے پر سوار کر لیا، اور بار بار یہ جملہ ارشاد فرمانے لگے: "میرا باپ فدا ہو، یہ حسن نبی اکرمﷺ کے مشابہ ہے، علی کے مشابہ نہیں ہے" علی مسکرا رہے تھے۔ (سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق از طالب ہاشمی)

بشکریہ اردو کالمز