کسی مخالف کو گھیر کر اگر سب کے سب اُسے ہر طرف سے مکے ٹھڈے ڈنڈے اور لات رسید کرنے لگیں تو ایسی اجتماعی مار کُٹائی کو ’گیدڑ کُٹ لگانا‘ کہتے ہیں۔ پٹنے والا بے چارا گیدڑ کی طرح مختلف سمتوں میں بھاگ بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کرتا ہے مگر جدھر جاتا ہے اُدھر سے ہی ڈنڈے کھاتا ہے۔
کچھ یہی حال گزشتہ دو دنوں سے اسرائیل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یورپ کی یہ ناجائز اولاد گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مظلوم فلسطینیوں کی وراثتی جائیداد اور بیت المقدس پر اب تک ناجائز قابض چلی آ رہی ہے۔ نہتے مظلوم فلسطینی گاہے گاہے اس ناجائز یورپی قبضے کے خلاف ہلکی پھلکی مزاحمت کرتے چلے آئے ہیں۔
یہ امام خمینی کی ہی با بصیرت شخصیت تھی جس نے بیت المقدس اور فلسطینیوں کے کاز کو آج دن تک دنیا بھر میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ ورنہ عرب ممالک تو سب کچھ بھول بھال کر اور فلسطینیوں و بیت المقدس کو چھوڑ چھاڑ کر یہودی سرمایہ کاری کی طرف للچاٸی ہوٸی نظروں سے غیرت ملی و حمیت دینی کا سودا ابراہیم ایکارڈ کی شکل میں کر چکے ہیں۔ یاسر عرفات کی ”الفتح“ ایک عرصے تک تو بیت المقدس پر اسرائیلی غیر قانونی قبضے کے خلاف مزاحم رہی آخر کار یہودی حسن و دولت انکی انکھوں کو بھی خیرہ کرگٸی۔ جس سے ریاست فلسطین سمٹ کر فلسطین اتھارٹی بن گئی۔ اور دنیا کے نقشے سے بطور ملک فلسطین کا نام غائب ہو گیا۔ یہ تو بھلا ہو لبنانی حزب اللہ کا جس نے اسی دور میں جسمانی طور پر مفلوج ادھیڑ عمر شیخ احمد یاسین کی قیادت میں فوری طور پر نٸی سیاسی تنظیم ”حماس“ کو قاٸم کیا جسکا عزالدین القسام برگیڈ حماس کے پیرا ملٹری ونگ کے طور پر کام کرتا ہے۔
یہ عزالدین القسام برگیڈ ہی ہے جس نے7 اکتوبر 2023 کو یہودیوں کے مذہبی تہوار یوم کپور کے موقع پر علی الصبح بری بحری اور ہوائی اطراف سے حملہ آور ہو کر اسرائیل کو سرپراٸز اٹیک کے ذریعے دن میں ہی تارے دکھلا دیٸے۔ اسرائیلی فوج جو ہمیشہ گیدڑروں کی طرح بیت المقدس میں عبادت میں مشغول نہتے فلسطینی بچوں عورتوں اور برزگوں پر تشدد کر کے پھنے خاں بنی پھرتی تھی گیدڑ کٹ کا شکار ہے۔ فلسطینی پیراگلاٸیڈرز کے سامنے اسرائیل کا دنیا بھر میں مشہور آئرن ڈوم فلاپ ہو گیا۔ اسرائیلی فوج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کے حامل مرکاوا ٹینکس فلسطینیوں کے ہاتھوں دھوئیں کے بادلوں میں تبدیل ہوتے نظر آئے۔ اسرائیلی فوجیوں کی پسندیدہ M16 رائفلز فلسطینی خواتین نے چھین کر ہوا میں لہرا دیں۔ ہیلی کاپٹرز چشم زدن میں بھسم ہو گئے۔ سیدروت چھاونی کا کنٹرول فسلطینیوں کے پاس ہے۔ اسرائیلی سڑکوں پر کھڑی ہوئی گاڑیاں دہکتے تندوروں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ فضا میں دھوئیں اور بارود کی بو کے سوا کچھ نہیں۔ 2900 سے زیادہ اسراٸیلی شدید زخمی حالت میں موت وحیات کی کشمکش میں زیر علاج ہے۔ گھروں سے باہر بزدل اسرائیلی کوڑے دانوں میں گھس کر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایک بڑی آبادی گھروں میں بنے ہوئے زیر زمین بنکر میں چھپے ہوئی ہے۔ کچھ موقع پرست بن گورین ایئرپورٹ پر ٹکٹوں کے حصول کے لیے آپس میں ہاتھا پائی میں مصروف ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نیتن یاہو پر موساد اور شاباک کی ناکامی پر بھڑاس نکال رہا ہے۔ اسراٸیلی عوام درالحکومت کی سڑکوں پہ اپنی حکومت کے خلاف جلاٶ گھیراٶ کر رہی ہے۔ 750 فوجی وسوٸلین اسراٸیلی اب تک ہلاک جبکہ 1500 کے قریب جنگی قیدی بناۓ جا چکے ہیں۔ جن میں اسراٸیلی کرنل اور کمانڈر بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی سے الفتح، غزہ سے القسام اور لبنان سے اب حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ مصر سے دو اسرائیلی سیاحوں کی ہلاکت کی مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوٸی ہیں۔ یمن قطر ترکی کویت ایران عراق اور شام کی جانب سے بھی حماس کی حمایت کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ دائیں بائیں اوپر نیچے الغرض ہر جانب سے اسرائیل کو گیدڑ کٹ پڑ رہی ہے۔ ستم ظریف ایک طرف تو انہیں مار رہے ہیں اور دوسری جانب ویڈیوز بنا کر فوری طور پر آن لائن بھی کر دیتے ہیں تاکہ اسرائیل بعد میں کسی صورت اپنی ناکامی ونامرادی و خفت سے انحراف نہ کر سکے۔ اسراٸیل زخمی گیدڑ کی طرح اپنے زخم چاٹ رہا ہے اور شدید بوکھلاہٹ میں اندھا دھند غزہ پہ ہواٸی حملے کررہا ہے جس کے لیٸے فلسطینی پہلے سے ہی زہنی طور پر تیار بیٹھے تھے۔بلا شبہ اسرائیل اپنے مظالم کی وجہ سے اب اسی سلوک کا مستحق ہے۔