غزہ کی حالت زار 260

غزہ کی حالت زار

چھ اکتوبر کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل پر اچانک تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا ۔ اس کے بعد یہ ایک ایسی جنگ شروع ہو گئی جو اب تک بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اسرائیل اس غیر متوقع حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا بلکہ پوری دنیا میں کسی کو کان و کان خبر نہ ہو سکی کہ حماس بھی اس قدر بڑا حملہ کر سکتی ہے یا اس کے پاس بھی اس قدر اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں ۔ اپنی انٹیلیجنس کی ناکامی کو چھپانے کے لیے اسرائیل نے مختلف قسم کے حربے اختیار کرنے شروع کر دیے جو ہمیشہ ظالم لوگ کرتے آئے ہیں کہ انہوں نے فلسطین میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ، جن میں بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کسی کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا اور رہائشی علاقوں پر مسلسل بارش کی طرح بم برسائے جا رہے ہیں۔ سکولوں ، ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں اموات کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ حماس کے پاس اسلحے کا اس قدر بھی ذخیرہ نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مکمل طور پر برابری کی سطح پر جنگ لڑ سکے مگر اس نے اپنی سی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ۔ دوسری طرف اسرائیل کے پاس بہت بڑے اسلحے کے ذخیرے موجود ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے بھی امداد مل رہی ہے امریکہ نے بحری بیڑا روانہ کر دیا ہے اس کے علاوہ بھی اسلحہ اسرائیل کو مل رہا ہے۔ غزہ ایک چھوٹی سی تنگ پٹی ہے جہاں عرب مسلمان آباد ہیں اور غزہ کی آبادی انتہائی گنجان ہے آج کل وہاں ہر وقت بم برس رہے ہیں اور رہائشی عمارتیں گرائی جا رہی ہیں ۔ اسرائیل کسی کا بھی لحاظ نہیں کر رہا کہ وہ جنگ میں شامل ہے یا نہیں ، وہ جنگ میں شامل ہونے کے قابل بھی ہے یا نہیں ؟جن میں بچے بوڑھے سبھی شامل ہیں ان سب پر برابری کی سطح پر بمباری جاری ہے اور اسرائیل اپنی خفت کو مٹانے کے لیے فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ اس وقت غزہ کی یہ حالت ہے کہ وہاں پر متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں ، گلیوں ، بازاروں اور سڑکوں پر ہر طرف عمارتوں کا ملبہ بکھرا ہوا ہے گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ ، ہسپتالوں کی یہ حالت ہے کہ وہ زخمیوں اور لاشوں سے بھر چکے ہیں جن کے علاج معالجے کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ شدید بمباری میں زخمی ہونے والے لوگ کٹے پھٹے جسموں کے ساتھ پڑے کراہ رہے ہیں ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ، ان کے پاس ادویات نہیں ہیں ان کے علاج کے لیے بہتر سہولیات نہیں ہیں۔ غزہ میں لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں مگر کھانے کو کچھ نہیں ہے ۔ لوگ بمباری سے جان بچا کر پناہ گزینوں کے لیے قائم کیمپوں اور سکولوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں پناہ لینے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ، اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وہاں بھی کھانے پینے کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں ہے ہر طرح سے غزہ کا محاصرہ کیا جا چکا ہے ، وہ مکمل طور پر بند ہے جہاں کہیں باہر سے امداد نہیں پہنچائی جا سکتی۔ غزہ چاروں طرف سے اسرائیل میں گھرا ہوا ہے ایک طرف سمندر ہے جس پر اسرائیل کا ہی قبضہ ہے، ہاں ایک بارڈر اس کا مصر کے ساتھ لگتا ہے مگر مصر نے بھی تا دم تحریر اپنا بارڈر نہیں کھولا ۔ مصر نے پیشکش کی ہے کہ وہ ادویات اور ضروری سامان کے لیے بارڈر کھول سکتا ہے مگر پناہ گزینوں کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی غزہ کو ایک بدترین جیل بنا دیا گیا ہے جس کے اندر لاکھوں انسانوں کو قید کر کے مارا جا رہا ہے۔ جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ، جو ان کے پرسان حال ہیں وہ اپنی اپنی بچانے کے چکر میں اپنے اپنے ممالک کے اندر محلات میں بیٹھ کر صرف بیانات داغ رہے ہیں اس کے علاوہ عملی طور پر ان کے لیے کوئی بھی کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک مصر کے ساتھ ان کا صرف ایک بارڈر لگتا ہے جہاں سے امید کی کچھ کرن ہے مگر ابھی تک مصر نے اس کو بارڈر کو کھولا نہیں اور کھولنے کے بعد بھی اس بات کی امید نہیں ہے کہ وہاں سے پناہ گزین مصر میں داخل ہو سکیں یعنی فلسطینیوں کو اسرائیلی بھیڑیوں کے آگے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے اور چاروں طرف سے انہیں بند کر دیا گیا ہے کہ کوئی اپنی جان بچا کے کسی برادر اسلامی ملک میں بھی پنا ہ نہ لے سکے۔ اب اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ غزہ کے اس محاصرے کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کریں اور فلسطینیوں کو اس جیل سے رہائی دلائیں۔ جو ممالک اسلحہ فراہم کر سکتے ہیں وہ حماس کو اسلحہ فراہم کر کے اسرائیل کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کریں ۔ اسی طرح جو ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کم از کم غزہ میں معصوموں کو شہید نہ کیا جائے اور اس کا محاصرہ ختم کر کے عوام تک امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دی جائے ، تاکہ عوام کو کھانے پینے کی اشیااور زخمیوں کے لیے طبی امداد پہنچائی جا سکے۔

بشکریہ اردو کالمز