(گزشتہ سے پیوستہ)
قارئین کرام! آئین نو کے جاری موضوع پر گزرے ہفتے (19اگست) کو شائع ہونے والی پہلی قسط کا حاصل یہ تھا کہ:قومی وکلا تحریک (2007-8) کے نتیجے میں صدر مشرف کے ملٹری سول (نامکمل) عشرے (1999-2008)کے خاتمے کے بعد بحالی جمہوریت کے عشرے (2008-18)کی یہ بڑی کامیابی تھی کہ اکیاون سال پر محیط ملکی تاریخ میں بار بارکے نفاذ مارشل لا کے پس منظر کے بعد الیکشن۔2008سے شروع ہونے والے کمزور جمہوری لیکن منتخب سول سیاسی عمل جاری رہتے اس عشرے میں دو منتخب ادوار اپنی آئینی مدت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 71 سالہ ملکی ڈگمگاتی سیاسی تاریخ کی مطلوب سیاسی استحکام کی یہ بڑی پیش رفت تھی۔ یہ ہی نہیں دو وزراء اعظم کا عدالتی عمل کے ذریعے اپنے عہدوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا، لیکن جماعتی حکومتی دور کا جاری رہنا بھی اسی عشرے کی ایک بڑی ارتقائی کامیابی تھی جو آئین و قانون کی شکل میں سیاسی استحکام کی بڑی عملی شکل تھی کہ دو وزراء اعظم قانون شکنی پر سزا یافتہ ہو کر اقتدار کھو بیٹھے تو کوئی مارشل لا لگا نہ ان کا خلا کسی غیر آئینی مہم جوئی سے پورا ہوا، بلکہ عین آئینی عمل کے مطابق منتخب سیاسی جماعتی دور آئینی مدت مکمل کرنے کے لئے حکومتی جماعت سے نئے وزیر اعظم کے پارلیمان میں انتخاب سے جاری رہا۔
واضح رہے جہاں تک معاملہ جنرل الیکشن کی شفافیت اور تشکیل حکومت کے بعد بھی الیکشن اور عدالتی فیصلوں پر تنقید کا ہے وہ آئینی حق، آزادی اظہار رائے و احتجاج کی شکل میں آرا تجزیوں اور احتجاجی سرگرمیوں اور سیاسی رونے دھونے کی شکل میں جاری رہا۔ یوں یہ بھی حصول آئینی حق کی عملی شکل میں جمہوری عمل سے بڑھتے سیاسی استحکام ہی کی ایک شکل تھی جس سے معاشی سرگرمیاں نہ صرف جاری رہیں بلکہ گنجائش کے مطابق ان میں اضافہ بھی جاری رہا۔ واضح ر ہے کہ یہاں سیاست دانوں اور جماعتوں کی نیک اور بد نیتی کی سیاسی عملی صورت یعنی حکومتی پالیسیوں، فیصلہ سازی اور اقدامات (عملدرآمد) اور تنقید و احتجاج سیاسی و معاشی استحکام کے عمل سے جڑ جاتی ہے، پاکستان میں یہ بھی ہوتا رہا ہر دو (گورننس اور اپوزیشن) نیک نیتی سے عوام مفادات میں ہو رہی ہوگی تو دونوں ہی استحکام کا ذریعے بنیں گے لیکن ایک جانب بھی، حکمرانی یا اپوزیشن میں بدنیتی سے گورننس بیڈ گورننس اور تنقید، انتشار کی شکل جس رفتار اور درجے پر اختیار ہونے لگے، سیاسی و معاشی استحکام عین اسی کے اتار چڑھائو میں رہتا ہے۔ یہ محض کتابی تھیوری نہیں بلکہ درجنوں ممالک میں سیاسی و معاشی استحکام کے تعلق اور ان کی فلیکچوئیشن پر ہونے والی بار بار تحقیق سے اس عمل میں آئین و قانون کی بالادستی اور پیروی کا لازمی دخل ثابت ہونے پر یہ سب کچھ گورنمنٹ اینڈ پالیٹکس کے باڈی آف نالج (ڈسپلن) کا حتمی اور اطلاق علم (ایپلائڈ نالج)بن گیا۔
سو ہمیں اگر پاکستان میں معاشی بحران سے نجات، قومی معیشت کی بحالی اور استحکام و ترقی مقصود ہے تو ہر حالت میں ملک میں سیاسی استحکام لانا ہوگا جیسا کہ متعلقہ علم کی روشنی میں یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آئین و قانون کے مکمل اطلا ق اور سب شہریوں پر یکساں اطلاق و نفاذ سے ہی یہ ممکن ہوگا۔ ہمارا سچا اور بااعتماد دوست ترکیہ اس کی بڑی مثال ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی دوسرا تجربہ کامیاب نہیں ہو سکتا آئین صدارتی، پارلیمانی یا ون پارٹی رول کی آمریت یا بادشاہت جو بھی عوام الناس کی طرف سے قبول آئین و قانون ہے اس کو اختیار کرکے سیاسی و اقتصادی استحکام کے ہموار سفر کا روڈ میپ اختیار کرنا ہوگا آج ہم سیاسی و معاشی عدم استحکام کے جس گرداب میں بری طرح پھنس گئے ہیں جیسے آئین و قانون کو خود حکومتیں سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے ہی رولنگ بال (لڑکتی گیند) بنا کر جس اکھڑ پن سے سیاست و حکومت کو مضحکہ خیز اور تشویشناک تماشہ بن چکے ہیں اس کا شاخسانہ پاکستان کے 25میں سے 24کروڑ عوام انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہو کر قابل رحم حد تک حالت میں بھگت رہے ہیں، سیاست اور گورننس کو آئین و قانون سے متصادم کرکے ملکی وسائل پر چند اجارہ داروں کی اجارہ داری قائم کر دی گئی ہے اب تو خزانہ مکمل اجڑنے اور آئین کی رسوائی کاقومی ماتم ہو رہا ہے پہلے فوجی آمروں سے شکایات ہیں کہ انہوں نے آئین کا حلیہ بگاڑ کر ہوتی ترقی کو بار بار سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نقصان پہنچایا اور ڈیزاسٹر کئے، جس میں عوام نے ہی اقتدار کی طوالت اور بعض بڑی کامیابیوں کے باوجود اپنے ساتھ ہونے و الے مجموعی فیض سلوک اور جمہوری حقوق سلب کرکے مسلسل نقصان پہنچایا۔ حکمران طبقے اور ان کے وارے نیارے کی کوئی حد ہی نہیں اب سول حکومتیں ان سے دو ہاتھ آگے 2008ء سے 2018ء تک کے جس نیم جمہوری سیاسی منتخب عشرے کو بیڈگورننس، خصوصاً کرپشن، تھانہ کچہری کلچر کے بدستور قائم رہنے اور شدت پکڑنے اور عوام سے بحالی جمہوریت کے باوجود مسلسل بے پروائی اختیار کرنے کے باوجود 76سالہ پرآشوب ملکی سیاسی تاریخ کا سیاسی استحکام میں کامیابی کا عشرہ بتایا گیا ہے جس سے منتخب ادوار مکمل ہوئے اور بالائی عدالتوں کی ساکھ اور مطلوب کردار میں اضافہ ہوا اگلا عشرہ جاری بھی شکایات و احتجاج کے ساتھ قبول ہونیوالے عمومی اور بالآخر عوامی قبولیت پانے والے تیسری پارلیمانی قوت کے دور سے شروع تو ہو گیا تھا اپنی کئی خوبیوں اور خامیوں کیساتھ اس نے اپنے ساڑھے تین سال مکمل کرلئے تھے لیکن منفی شخصی سیاسی رویے جاری آئینی و جمہوری عمل پر حاوی ہو گئے ۔پی ڈی ایم کی تشکیل جو اک بار ٹوٹنے کے باوجود پھر حکومت اکھاڑنے کیلئے بنا اور پاکستان کے عوام اور ریاست دونوں کیلئے بڑا غضبناک اور نام نہاد اشرافیہ کے لئے بظاہر غیر معمولی حد تک بظاہر نفع بخش ثابت ہوا اس نے آئین و قانون کے ساتھ بدترین کھلواڑ مچا کر جاتے جاتے لنگڑی پارلیمان میں درجن درجن کے شرکاء کے اجلاسوں سے ملکی سیاسی تاریخ کی جتنی سیاہ قانون سازی کی اس پر ماضی کے آمرانہ مارشل لا ضابطے ہیچ ہوگئے ۔ (جاری ہے)