ذرا بالکل ھٹ کے ۔۔۔۔۔! 398

ذرا بالکل ھٹ کے ۔۔۔۔۔!

مجھے آج پتہ لگا کہ اگلے دنوں کوئی محبت کا عالمی دن منایا گیا ، کوئی پھول شول تقسیم ھوئے ، جذبات کی کوئی منڈی شینڈی لگی ، اور پھر بس شام ھو گئی ، گزر گئی محبت بھی ، آپ نے اگر گرائمر پڑھی ھو تو اس میں ایک اسم معرفہ اور نکرہ ھوتا ھے ، محبت میں بھی کچھ معرفہ اور نکرہ ھوتے ہیں ، مثلآ اللہ سے محبت ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ، ماں سے محبت ، اسم معرفہ میں آئے گی کہ صرف پہلی اسم معرفہ میں آئے گی ؟ بچے سوال پوچھتے ہیں ، بلکہ ایک تو کہہ رہا تھا جس طرح گاڑیاں اور مختلف چیزیں جاپانی ، چینی ، جرمن ، ملائشین ، امریکن ، اور برطانیہ کی معروف ہیں بلکہ کورین بھی ایسے ہی بعض لوگ جاپانی طرز کی محبت کرتے ہیں اور بعض چین کو ترجیح دیتے ہیں چلیں کچھ وقت گزر جائے ، گوروں نے انجوائے منٹ کے کچھ طریقے نکالے ھوئے ھیں اور اس میں وہ کام کے بعد انجوائے کرتے ہیں لیکن ھم تو انجوائے منٹ کے ہی قائل ہیں کام ھم سے نہیں ھوتا ، بلکہ ھمارے شاعر بھی اس میں بھرپور حصہ ڈالتے ہیں کہ" بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے" ، وہ کوئی خیال میں منہ ہلا رہا تھا کسی نے پوچھا بھائی کیا کر رہے ہو ، کہتا ہے خیال میں چنے کھا رہا ہوں ، اس نے کہا ، بیوقوف خیال میں کھانا ھے تو گؤشت ھی کھا لیں ، ھم بھی ایسے ہی کہ ظالم دھوئیں میں بھی تیری تصویر نظر آتی ہے ، گوروں کو ایسی کوئی تصویر نظر نہیں آتی ، ھمیں جن نظر آتے ہیں ، کالی بلی راستہ کاٹتی ہے ، کبوتر پیغام لے جاتے ہیں ، آنکھیں پھڑکتی اور دل دھڑکتے ہیں ، کوئی یاد کرتا ہے ، اور اب گوروں نے ویلٹائن ڈے دے کر پھولوں اور ذلتوں کا ایک بازار کھول دیا ، دھڑا دھڑ سب بک رہا ہے ، اب کوئی شریف بندا مفت میں محبت بھی نہیں کر سکتا ، جینا مرنا سب پیسوں کے ساتھ جڑ گیا ہے ، بیمار ھونا ، ھسپتال میں داخل ھونا اور مرنا اتنا مشکل ھو گیا ھے کہ مرنے کو دل ہی نہیں کرتا ، پیسوں کے علاؤہ مرنے کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں رہی ، اگلے دنوں میں میں مرا تو بس پیسوں کی فکر پڑھ گئی ، کفن دفن کے علاؤہ باقی خرچوں کے بارے میں سوچا تو فرشتے سے اپیل کی یار جاؤ اللہ سے اجازت لے کر مجھے پھر زندہ کر دو ، بڑی منتوں اور مرادوں کے بعد وہ مانا اور اجازت نامہ مل گیا اور میں نے رسوا ھونے سے بہتر سمجھا کہ تھوڑا اور زندہ رہتے ہیں ، سو مرنے کے خرچے دیکھ کر مرنا چھوڑ دیا ، اب محبت کے اتنے خرچے کون پورے کرے گا ، ویلٹائن والے کہاں سے لاتے ہیں ، ھمیں چھٹی کرنے کی بڑی عادت ھے ، اتنے یوم منا رہے ہیں کہ چھٹیاں ہی چھٹیاں یہ نہ ہو کہ کل نوجوان نسل یہ بھی مطالبہ کر دے کہ 14 فروری کو بھی چھٹی ھونی چاہیے ، پھر بڑا مشکل ھو جائے گا ، وہ ماؤ نے کہا تھا جس دن میں مر جاؤں اس دن چھٹی نہیں بلکہ ڈبل کام کرنا ھے ، یہاں گنگا الٹی بہتی ھے ، ھم تنخواہ ، چھٹیوں اور کھانے پینے کا کیلنڈر بنا کر رکھتے ہیں ، آپ سوچیں کتنا کھاتے ہیں صبح اٹھ کر ناشتہ ، پھر دن کا کھانا اور پھر رات کا کھانا کیا خاتون خانہ اور کھاںے کھانوں کے علاؤہ کوئی وقت بچتا ہے ، کھانے آئے تھے کھا کر چلے گئے ھم کہاں سے آئےکیا کر چلے گئے جانا ہی تھا تو کچھ نہ کچھ کر کے جاتے ، زمین پر بوجھ ڈال کر جانے سے بہتر ہے دو چار پھول ہی کھلا دیں ، ھمیں کبوتر ڈے ، لونگ آور کوکا ڈے بھی منانا چائیے ، بلکہ بھنگیں ، چوڑیاں سرخ رومال ، مجنوں ، لیلی ، ھیر ، وغیرہ ڈے ھماری محبتوں کی روایات ہیں بہتر ہے کہ ویلٹائن ڈے کی بجائے افسانوں میں ہی کھونا ہے تو کم از کم اپنی روایات میں کھو جاتے ہیں ، آج شیریں فرہاد ڈے ھوگا ، آج لیلی مجنوں ڈے ، پھر سسی پنوں ڈے ، مرزا صاحباں ڈے ، سلیم و انارکلی ڈے ، اسی طرح ایک دو اور ڈال کر ھفتہ پورا ھو جائے گا کم از کم روایات تو پروان چڑھیں گی ، یہاں سیاست ، عشق و محبت آور دولت و منصب میں ہر کوئی صاحب حال ھے ، ان بزرگوں کے رحم و کرم پر نظام زندگی چل رہا باقی جو بچتا ہے وہ مزاروں اور زیارتوں میں گزر جاتا ہے ، بنیاد ایک ھی ھے جہالت اور محبت ، کا چولی دامن کا ساتھ ھے ھم محبت کی مٹی سے بنے ہیں ، صرف محبت ہی کرتے ہیں ، یہ نفرت ، حسد اور کینہ پتہ نہیں کہاں سے آگیا، میں اگر یہ اعلان کروں کہ " میں نہیں جانتا" تو بڑا سکون ھے ، محبت اصل یہی ہے کہ کوئی کچھ نہیں جانتا ، پاکستان "میں تو میں نہیں جانتا" کا ورد زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس وقت جاننے کی منڈی لگی ہوئی ہے اس لئے ھم کچھ نہیں جانتے ، غالب نے اپنے دوست کو دلی کے حالات پر خط لکھا تھا اور کہا کہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے ، قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے "مگر میں اس وبائے عام میں مرنا پسند نہیں کرتا" گویا مرنے کے لیے بھی کوئی وجہ ھونی چاہیے بندا ایسے ہی مر جائے یہاں محبت میں ہر کوئی کسی نہ کسی پہ مرتا ہے ، روز جنازے اٹھ رہے ہیں اس لیے وبائے عام میں ھمیں مرنا پسند نہیں ھے ، مرنا ہے تو پھر مجنوں کی طرح پتھر کھا کھا کر مریں ، یا فرہاد کی طرح کند تیشے سے ، یا دیوار میں چنوائے جائیں ، ایک کام سے محبت کرنے والے بھی مارے گئے تھے سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا ، کسی کو جیل میں ، کسی کو سرعام مرنا پڑا یہ کیا بیمار ھوئے اور مر گئے ،نہ نام ھوا نہ بدنام ھوئے ، ھم تو پناہ ھی مانگتے ہیں ، لیکن ویلٹائن ڈے کے ساتھ حوالے بدل کر مقامی حوالے یا سابقے لاحقے لگا دئیے جائیں تو کچھ تو فایدہ ھو ، یہ کیا بس بیکار وقت گزر گیا ،

بشکریہ اردو کالمز