آواز حق: سید شہاب الدین (سوات)
???? syedshahab9@gmail.com
قلم اٹھاؤں تو کس درد کو بیان کروں؟ مہنگائی کا نوحہ لکھوں یا بے روزگاری کی داستان؟ لوڈشیڈنگ کی اذیت بیان کروں یا حکومتی بے حسی کا ماتم؟ میرے وطن میں ہر چہرہ سوال ہے، ہر دروازہ مایوسی کی تصویر، ہر دن آزمائش کی نئی لہر لے کر آتا ہے۔
یہ قلم محض اظہارِ خیال نہیں، بلکہ ایک خاموش مزاحمت ہے۔ یہ تحریر صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان لاکھوں دلوں کی صدا ہے جو سہتے تو ہیں، مگر چپ نہیں رہتے۔ کیونکہ جب درد زندہ ہو، تو آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اور اگر ہم خاموش ہو گئے، تو ہمارے حقوق بھی خاموشی کی قبروں میں دفن ہو جائیں گے۔
محترم قارئین!
کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ وہ ماں جو اپنی اولاد کو تحفظ دیتی ہے، آسانیاں فراہم کرتی ہے، اور مشکل وقت میں سہارا بنتی ہے۔ مگر صد افسوس! یہاں جیسے ہی کوئی شہری اپنی مشکلات کا حل خود تلاش کرتا ہے، ریاست وہی حل اس کے لیے جرم بنا دیتی ہے۔
آج پاکستان میں بجلی ایک نعمت نہیں، بلکہ ایک مستقل آزمائش بن چکی ہے۔ ہر مہینے آنے والا بل کسی مالی دھچکے سے کم نہیں۔ فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز، جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج اور نجانے کون کون سے بوجھ عوام پر لاد دیے گئے ہیں اور بدلے میں عوام کو ملتی ہے تو کئی کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، وولٹیج کی کمی، ناقص ترسیلی نظام، اور گرمی میں جلتا ہوا اندھیرا۔
ایسے میں جب زید جیسے کسی عام شہری نے اپنی محدود بچت سے دو سولر پینل، ایک بیٹری اور چندبارہ وولٹ کے پنکھے نصب کیے تاکہ بلوں سے نجات پا کر سکون کی سانس لے سکے تو یہ قدم خود انحصاری، باشعوری اور امید کی ایک روشن کرن تھا۔ مگر ریاست کو شاید یہ چراغاں گوارا نہ ہوا۔
جون 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ عوام کو کھلا پیغام دیا گیا کہ اگر بجلی ہماری کمپنیوں سے خریدو گے تو خیر ہے، لیکن اگر خود بنانے کی کوشش کی، تو سزا پاؤ گے۔
یہی نہیں، بلکہ حکومت نے آن لائن خریداری پر بھی 18 فیصد ٹیکس لگا کر عوام کی بچت اور اختیار کو محدود کر دیا۔ گویا سہولت نہیں، صرف فرمانبرداری چاہیے۔
ادھر کاربن لیوی کے نام پر پٹرولیم مصنوعات پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاری ہے۔ جس کے براہ راست اثرات غریب عوام پرپڑیں گے۔مہنگی ٹرانسپورٹ، بلند ہوتی اشیائے خور و نوش کی قیمتیں، اور یوں ہر گھر پر مہنگائی کا ایک اور حملہ ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ اگر ریاست ماں ہے، تو پھر قربانی صرف اولاد ہی کیوں دے؟
یہ کیسا نظام ہے جس میں حکمران تو لگژری گاڑیوں، درجنوں اہلکاروں کے پروٹوکول، بیرونی دوروں، اے سی دفاتر اور مراعات سے بھرپور زندگی گزار رہے ہیں، اور عوام سے کہا جاتا ہے کہ "مشکل وقت ہے، برداشت کریں!"برداشت کی حد کیا ہو؟ اور کیوں ہو؟ اور کب تلک ہو؟
اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو خلافتِ راشدہ کا نظام ہمارے سامنے ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں بیت المال سے صرف اتنی تنخواہ مقرر ہوئی جو ضروریاتِ زندگی پوری کر سکے۔ جب ان کی اہلیہ نے معمولی بچت کر لی، تو آپؓ نے پوچھا: "یہ کہاں سے آئی؟جواب ملا: تھوڑا تھوڑا بچایا تھا۔یہ سن کر فرمایا: "جب بچت ممکن ہے تو بیت المال سے اتنی رقم کی بھی ضرورت نہیں۔"اور اگلے روز اپنی تنخواہ کم کروا دی۔
یہی ہوتی ہے احساس والی ریاست، اور یہی ہوتے ہیں وہ حاکم جو رعایا کا بوجھ اٹھاتے ہیں، بوجھ ڈالتے نہیں۔
آج ریاستی پالیسیوں میں وہی کچھ نظر آتا ہے جو عوام سے چھیننے کا ایک طویل سلسلہ بن چکا ہے ۔ کبھی بجلی پر بوجھ، کبھی سولر پر ٹیکس، کبھی پٹرول پر لیوی، کبھی آن لائن خریداری پر قدغن اور کبھی مہنگائی کا طوفان ۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا عوام واقعی صرف بل بھرنے والی مشینیں رہ گئے ہیں؟کیا ان کا کوئی حق باقی نہیں بچا؟کیا یہی جمہوریت ہے کہ جس میں ووٹ لینے کے بعد عوام کو تکلیفوں کی بھٹی میں جھونک دیا جائے؟
یہ صرف بجلی یا پٹرول کا مسئلہ نہیں۔بلکہ یہ ایک پوری حکومتی سوچ کا عکس ہے ۔ جس میں حکمران عوام پر قربانی واجب تو سمجھتے ہیں، مگر خود اپنے شاہانہ اخراجات کو مقدس قرار دیتے ہیں۔
پاکستان کے عوام کو سوچنا ہو گا، بولنا ہو گا، اور متحد ہو کر آواز بلند کرنا ہو گی۔ کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل یہ آواز بھی ہم سے چھن جائے گی اور پھر شاید ہم جو سانس لے رہے ہیں ۔اس پر بھی ٹیکس لگایا جائے گا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں؟ عوام کوئی غیر حقیقی مطالبات نہیں کرتے۔ ان کی برسوں سے یہ خواہش رہی ہے کہ ہم نے بہت قربانیاں دیں اور بہت برداشت کیا ۔اب بجلی ہو، تو مستقل ہو۔بل آئے، تو استطاعت میں ہو۔چیز خریدیں، تو اس پر دس پردوں میں چھپے ٹیکس نہ ہوں۔روزگار ملے اور عزت سے جینے کا حق ہو۔سرکاری سطح پر کفایت شعاری ہو اورعوام کی سادگی کا مذاق نہ اڑایا جائےاور سب سے بڑھ کر، ایک ایسا نظام ہو جہاں مسائل کا حل خود نکالنا جرم نہ سمجھا جائے!
یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہوسکے گا ۔ جب لائن لاسز، کرپشن اور غیر منصفانہ سرچارجز ختم کیے جائیں۔ مقامی سطح پر بجلی کی پیداوار میں سولر جیسے ذرائع کو فروغ دیا جائے، نہ کہ انہیں ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جائے۔حکومتی عہدیداروں کے پروٹوکول، لگژری گاڑیاں، غیر ضروری بیرونی دورے، اور اعلیٰ سطحی مراعات محدود کی جائیں۔کم آمدنی والے طبقات کے لیے ضروری اشیاء پر براہ راست سبسڈی دی جائے تاکہ انہیں ریلیف ملے، نہ کہ ہر ایک پر بلا تفریق بوجھ ڈالا جائے۔زرعی شعبے، چھوٹے کاروبار، اور مقامی مینوفیکچرنگ پر توجہ دی جائے تاکہ درآمدات کم ہوں اور روزگار کے مواقع بڑھیں۔تمام بڑے منصوبوں اور ٹیکسز کی آمدن کا آڈٹ عوامی سطح پر پیش کیا جائے تاکہ اعتماد بحال ہو اور عوام دیکھ سکیں کہ ان کے دیے گئے پیسے کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔
اور اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو پھر سوال تو بنتا ہے کہ :ـاگر خود انحصاری جرم ہے، تو پھریہ جرم نہ کرنے والا کون ہے
بس کرو مہنگائی، جینے دو ہمیں!