ایک وقت تھا ھم بھارت میں ھونے والی ترقی یا تنزلی دونوں کا ایک مخالفانہ تجزیہ، طنز کرتے اور کوئی نہ کوئی سازش ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تھے ، جس سے بھارت کو نیچا دکھا سکیں یہی عمل بھارت میں بھی تواتر سے بلکہ زیادہ زور و شور سے جاری ھوتا تھا انہوں نے نظر انداز کر دیا ، ھمیں سانپ سونگھ گیا ہے ، نہ صرف ہمیں بلکہ کسی حد تک چین بھی پریشان اور ان کا میڈیا ، تھینک ٹینک خاموش ہے ، ذاتی حیثیت میں نہیں عالمی سطح پر ، اسے چپ لگ گئی ،گزشتہ دو سال سے اس محاذ پر مکمل خاموشی ھے ، نہ کشمیر کا زیادہ تذکرہ اور نہ ہی مخالفت اور مخاصمت کا کوئی پہلو ، بھارت کے دفاعی تجزیہ نگار گزشتہ کئی سال سے اپنی حکومت کو سمجھا ریے تھے کہ ھمارا مقابلہ پاکستان سے ہر گز نہیں ہے اور نہ ہی ھمیں اس پر توانائیاں صرف کرنی چاہیے ، وہ اپنے دفاعی ،اقتصادی اور حکومتی اداروں کو باور کراتے رہے کہ ھمارا مقابلہ دفاعی ،اور معاشی طور پر چین کے ساتھ ھونا چاھئے ، مودی حکومت نے2018ء کا الیکشن کشمیر ، مسلم دشمنی اور پاکستان مخالف جذبات اور ھندواتا کے نظریے پر جیتا تھا جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آتے ہی 5 اگست کو کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ، اور یک دم توجہ چین کی طرف موڑ دی ، وہ گلوان وادی کا فوجی ٹاکرا ھو یا رافیل ، ایس 200 میزائل سسٹم اور سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی کے امریکہ اور روس سے معاہدے اور خریداری ھو اس کا ھدف چین ھے ، دوسری سطح پر بھارت نے اقتصادی میدان میں ھندو بنیے کی روایتی تیزی دکھانا شروع کر دی ، آج بھارت کی معیشت 7.6 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے بلکہ کئی شعبوں میں ترقی یافتہ کہلانے کے قابل ہو چکی ،
میں سال پہلے سعودیہ گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں ہر چیز بھارت کی بکتی ہے ، تاجر ، انجینئر ، مزدور ہوں سب بھارت کی افرادی قوت اور سعودی عرب میں ہر مارکیٹ ، منصوبے اور کاروباری سرگرمیوں میں بھارت کے لوگ نمایاں ہیں ، وہ ملکی سیاست سے بے خبر ھو کر صرف اپنے اور اپنے ملک کے لیے کام کرتے ہیں ، ھمارے لوگ مزدوری کرکے بھی سیاست لازمی کرتے ہیں ، یہی حال دبئی ، قطر ، اور دیگر عرب ممالک اور یورپ میں ھے ، کیا اس میں ترقی کرنا ان کا حق نہیں ھے ؟ جب قومی سطح پر حکومتیں ، ادارے اور ماہرین فیصلہ کر لیں کہ ھم نے اتنی ترقی کرنی ہے ، پھر اس کام پر جت جائیں ، لازمی اس کے نتائج نکلتے ہیں ، اس میں مسلم ، غیر مسلم کی تخصیص نہیں ھوتی ، فطرت کا یہی اصول ھے جو محنت کرے گا نتائج پائے گا ، بھارتی تجزیہ نگاروں ، حکومت ، پالیسی ساز اداروں اور میڈیا نے یہی فیصلہ کیا اور آج بھارت چاند پر ، اور ھم پاتال میں ہیں ، میں پوری تحقیق اور اعداد و شمار سے تجزیہ کر سکتا تھا لیکن فوائد اس لئے نہیں کہ ھمارے ہاں مسائل ختم کرنے کے لیے آگے بھی بڑھے تو واپس اسی صف میں دھکیل دیا جاتا ہے ، آدھی صدی سے یہ پیٹا جا رہا ہے کہ پاکستان جیو اسٹراٹیجک اہمیت رکھتا ہے اور یہ ترقی کرے گا مگر جو حشر ھم نے سی پیک کے ساتھ کیا ، اس جیو اسٹراٹیجک پوزیشن اور اہمیت کو بھی بھول چکے پاکستان ،روس ، چین ، ترکی اور مشرق وسطی کے بنتے بلاک کو کسی نے توڑ دیا یا فی الحال اس کشتی میں سوراخ کر دیا ہے ، جس کا نظارہ حال ہی میں بھارت میں ھونے والی جی ٹونٹی کانفرنس ھے جسمیں چین ،روس اور ترکی کے سربراہان کے علاؤہ باقی بڑے ممالک میں امریکہ کے صدر جو بائیڈن ، برطانیہ کے وزیراعظم ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت یورپ کے دیگر ممالک نے شرکت کی ، بھارت یا خود مودی نے جن سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ان سب کو پس پشت ڈال دیا گیا ، گجرات کا قصائی کہلانے والا اپنی کامیاب سفارت کاری ، سے امریکہ کی آشیرباد کے سائے میں تھا ہی ، سعودی ولی عہد کا بھی دولارا بن گیا ،
بھارت نے سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان میں بدامنی پیدا کی ، امریکہ نے پاکستان کو دباؤ میں لایا ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ذریعے سی پیک کی سزا دی ، بھارت کو لانچ کیا ان سب باتوں کے گواہ عرب ممالک بھی ہیں ، مگر انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر معیشت کو چن رکھا ہے جس کے لیے وہ چین کے ساتھ حال ہی میں خلیج تعاون کونسل ، عرب لیگ سمیت انفرادی طور پر کئی معاہدے کر چکا ہے ،روس کے ساتھ بھی سعودی عرب کے تعلقات اچھے ہیں ، بھارت پر کچھ زیادہ ہی نوازشوں کا انبار لگا دیا ، سب سے بڑا بریک تھرو ، انڈیا ، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کوریڈور کا معاہدہ ھے جس کی تعمیر تو وقت لگے گا مگر پرسپشن نے ہی چین اور پاکستان کا توازن بگاڑ دیا ، یہی نہیں انڈیا اور سعودی عرب نے افرادی قوت ، انفراسٹرکچر ، مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 50 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ، سعودی عرب دو لاکھ بھارتی افراد کو روزگار بھی دے گا ، ان معاہدوں میں امریکہ یورپ ، مشرق وسطی اور اسرائیل بھی شامل ہے ، اس لئے دفاع اور معیشت میں پاکستان کے لئے نئے خطرات آور چین کے لیے بڑی تھرٹ ثابت ہو رہا ہے ، کوریڈور کی اہمیت اور پرسپشن ہی اتنی خطرناک ہے تو یہ ریلوے لائن ، سڑکیں اور انفراسٹرکچر بننے کے پاکستان کہاں کھڑا ہو گا ، جس کی نہ انڈسٹری ھے نہ امن و استحکام ، نہ زراعت و تعلیم ، کیا ھم بنگلہ دیش ، بھارت ،حتی کہ نیپال اور برازیل کی ترقی سے نہیں سیکھ سکتے ، ؟ سی پیک کا ایک بڑا حصہ مکمل ھے ، یہ وہ نقظہ ھے جس پر تیز رفتاری اور نظر ثانی کو بڑھا کر تجارت اور کاروبار کا رخ ادھر موڑا جا سکتا ہے ، ھم بروقت فیصلے نہیں کرتے اس لئے فاصلے بڑھ جاتے ہیں ، ھمیں سیاسی استحکام ، کرپشن کے خاتمے اور سفارت کاری برائے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ، ورنہ دنیا کا رخ اپنے مفادات دیکھتا ہے ، وہ ارب سے ابادی والے ملک بھارت کو نہیں بھول سکتا ، وہ ولی عہد ھوں یا کوئی اور ، پاکستان اور چین کو مل کر سوچنا ہوگا ، ھمارے دانشوروں ، صحافیوں کو شارٹ ٹرم بحث چھوڑ کر آگے کا سفر کرنا ھوگا ، تاکہ آنے والی نسلوں تک ثمرات پہنچ سکیں، وہ چاند پر پہنچنے کے بعد سورج کو چھونے کی کوشش میں ھے ھم زمین پر بھی ٹھہرانے کے قابل نہیں کیا ؟
220