13 جون 2025 ء کو ایران اور اسرائیل کے مابین شروع ہونے والی جنگ (جسے امریکی صدر ٹرمپ نے بارہ روزہ جنگ کا نام دیا ہے) نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ جنگ عسکری سطح پر شدید نوعیت کی تھی، وہیں اس کے اثرات خارجہ پالیسی، علاقائی صف بندی، اور بین الاقوامی سفارت کاری پر کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوں گے۔ یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی نہیں، بلکہ سفارتی بیانیے، تزویراتی مفادات، اور جغرافیائی اثر و رسوخ کی جنگ بھی تھی۔ ایران کی خارجہ پالیسی کا مرکز فلسطین کی حمایت، مزاحمتی گروہوں کی پشت پناہی، اور "صیہونی ریاست" کو تسلیم نہ کرنا رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے ہمیشہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ یہی بنیادی تضاد اس حالیہ جنگ کا پس منظر بنا۔ مئی 2025ء میں اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے شام اور لبنان میں ایرانی اہداف پر شدید حملوں کے بعد اسرائیل نے جون کی تیرہ تاریخ کو ایران پر شدید فضائی حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے پہلی مرتبہ براہِ راست اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ اس جنگ میں عالمی طاقتوں کی پوزیشنیں ان کی خارجہ پالیسی ترجیحات کو ظاہر کرتی ہیں۔ امریکہ نے ابتدا میں اسرائیل کے حقِ دفاع کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کی، اور بعد ازاں اسرائیل کو بنکر بسٹر بم فراہم کیے تاکہ وہ ایران کی زیرِ زمین نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنا سکے۔ تاہم، جب جنگ وسیع ہونے لگی تو بائیس جون کو امریکہ نے اپنے بی۔ٹو طیاروں کے ذریعے گراؤنڈڈ پینیٹریٹر میزائلوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور ان تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جس کے ردعمل میں ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل پھینکے جس کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھایا تاکہ خطے میں اس کے معاشی و تزویراتی مفادات متاثر نہ ہوں۔ چین نے اگرچہ ایک غیر جانب دارانہ موقف اختیار کیا، لیکن پسِ پردہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کی بنیاد پر اسے تنہا نہیں چھوڑا۔ بیجنگ نے علاقائی استحکام کو اپنی "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" کی بقا کے لیے ضروری قرار دیا۔ روس نے روایتی طور پر ایران کا دفاع کیا اور مغرب کی جانب سے یک طرفہ حمایت پر تنقید کی، مگر وہ بھی براہِ راست مداخلت سے گریز کرتا رہا تاکہ یوکرین کی جنگ کے تناظر میں خود کو کسی نئی محاذ آرائی میں نہ جھونک دے۔ اسرائیل اور ایران کے مابین لڑی جانے والی اس بارہ روزہ جنگ (جس میں باالآخر امریکہ بھی شامل ہوگیا) کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کئی نئی صف بندیاں ترتیب پا رہی ہیں۔ خلیجی ممالک جیسے ، متحدہ عرب امارات اور بحرین، جو حالیہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کر چکے تھے، اس جنگ کے دوران سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان ممالک نے براہِ راست فریق بننے سے اجتناب کیا، تاہم ایران کے خلاف نرم بیانیہ برقرار رکھا۔ ترکی نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا، مگر عملی طور پر ایران کے مؤقف کی زیادہ تائید کی۔ یہ ترکی کی "میکرو-ڈپلومیسی" کی ایک جھلک تھی جہاں وہ ثالثی کے کردار میں خود کو پیش کر رہا ہے۔ قطر، جو ہمیشہ سے ایران کے قریب رہا ہے، نے بھی جنگ بندی پر زور دیا لیکن اسرائیلی کارروائیوں کو غیر متناسب قرار دیا۔ پاکستان نے اس جنگ پر ایک متوازن مؤقف اختیار کیا۔ دفترِ خارجہ نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور خطے میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کا یہ مؤقف بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، اور آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن تنظیم کی پالیسیوں سے ہم آہنگ تھا۔ اسرائیل نے نہ صرف عسکری میدان میں برتری حاصل کی بلکہ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی امریکہ، یورپ اور خلیجی ممالک کی تائید حاصل کر کے ایک کامیاب سفارتی مہم چلائی۔ اس نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ وہ ایک "جوہری ایران" کو برداشت نہیں کر سکتا اور اگر عالمی طاقتیں اس حوالے سے ناکام رہیں تو وہ خودکار دفاعی اقدامات کرے گا۔ یہ موقف اگرچہ یک طرفہ تھا، لیکن اسرائیل نے اسے خارجہ پالیسی کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر براہِ راست حملے کر کے اپنا ردعمل دیا، مگر اس کی خارجہ پالیسی کا ہدف جس میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کو متحرک کرنا شامل تھا ایران اس میں ناکام رہا ہے اگرچہ اس کی ٹھوس وجوہات ہیں کیونکہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیمیں حماس، حزب اللٰہ کے تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کو اسرائیل گزشتہ ایک سال میں کافی حد تک نقصان پہنچا چکا ہے جبکہ عراقی ملیشیا گروپوں کی خاموشی نے ایران کو سفارتی اور عسکری تنہائی سے دوچار کیا۔ اس پس منظر میں ایران کو اپنی خارجہ پالیسی پر ازسرِ نو غور کرنا ہو گا۔ عالمی پابندیوں، معاشی زوال اور اندرونی عدم استحکام نے ایران کو ایک مشکل صورت حال میں لا کھڑا کیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اسے اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرنی ہو گی۔ ایران-اسرائیل کی حالیہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ مستقبل کی جنگیں صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، تزویراتی اور معلوماتی محاذوں پر بھی لڑی جائیں گی۔ خارجہ پالیسی کا کردار اس میں نہایت اہم اور فیصلہ کن ہو گا۔ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو اب ایسے فیصلے کرنے ہوں گے جو صرف وقتی جذبات پر مبنی نہ ہوں بلکہ طویل مدتی استحکام، سفارتی وقار اور قومی مفادات کے تابع ہوں۔ یہی خارجہ پالیسی کی اصل روح ہے یعنی نہایت پیچیدہ عالمی نظام میں قومی مفادات کو پرامن، باوقار اور ذمہ دارانہ طریقے سے آگے بڑھانا اور ان کے حصول کو یقینی بنانا۔ اگرچہ پاکستان نے اس جنگ کے دوارن ایک متوازن مؤقف اختیار کیا۔ تاہم،پاکستان کو چاہیئے کہ وہ اسلامی تعاون کی تنظیم کے پلیٹ فارم کو فعال بنانے کے لیے سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کرے تاکہ مسلم اْمہ کے اجتماعی مفادات کا دفاع مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور اسلامی دنیا کی اہم ریاست ہونے کے ناطے ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ خاص طور پر ترکیہ کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ کے علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک موثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے جس میں ایران میں استحکام کو یقینی بنانا شامل ہے کیونکہ پاکستان اور ترکیہ کی سرحدیں ایران کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایران میں عدم استحکام پاکستان اور ترکیہ دونوں کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ پاکستان کے خلیجی ممالک سے بھی بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات اور معاشی وابستگیاں خلیجی ریاستوں سے جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا خارجہ پالیسی میں جذباتی فیصلوں کے بجائے تزویراتی توازن کو بنیاد بنانا ضروری ہے اور پاکستان ابھی تک اس میں کافی کامیاب رہا ہے۔
186