پاکستان کے 25کروڑ عوام اور مکمل ملکی ریاستی ڈھانچہ آج شدید اضطراب و غیر یقینی اور تعطل میں مبتلا ہے اس کی جڑ آئین شکنی پر اختتام پذیر پی ڈی ایم حکومت کی حکومت اکھاڑ مہم جوئی تھی۔
اب یہ حتمی اور مزید قابل بحث طلب نہیں کہ اس کی عملی وجہ آئین و جمہوریت سے ماورا، اسلام آباد میں لگا ہارس ٹریڈنگ کا بازار اور ایک بڑی مداخلت تھی ۔بازار تو سرعام لگا اور دنیا نے دیکھا مداخلت کی تصدیق و وضاحت بڑے معتبر قومی فورم اور ادارے سے ہوئی پس پردہ کئی ماہ پر محیط کوویڈ وبا میں بھی لگتا مہنگائی کانعرہ تھا اور اس کے متوازی بغیر کسی سرکاری مداخلت کے تین ڈھیلے ڈھالے لانگ مارچ تھے جو جیسے تیسے شامل کرائے گئے پارٹی کارکنوں تک محدود تھے۔
میڈیا پی ڈی ایم سے بڑھ کر مہنگائی کے ایجنڈے کی جارحانہ کوریج کر رہا تھا پبلک افیئرز کی یہ رپورٹنگ قابل قبول تھی لیکن اس کا اثر رائے عامہ پر نہ تھا وجہ یہ تھی کہ ایک حد تک مہنگائی پر پی ڈی ایم کا جارحانہ ابلاغ، عوام سے ہمدردی کی بجائے ہر حالت میں حکومت ہی اکھاڑنے کی پروپیگنڈہ مہم جوئی کا تاثر دے رہا تھا۔ عوام میں کورونا وبا میں اقتصادی بحران کے باوجود غربا کو فوری بھاری بھر امداد اوربجلی کی مفت ترسیل کی تقسیم احساس پروگرام بڑے شہروں میں لنگر خانے اور ٹیکسٹائل پاور کنسٹرکشن انڈسٹری کو بڑی مراعات اور کام کی اجازت سے ملنے والا روزگار یقیناً بڑھتی مہنگائی کے باوجود عوام کو حکومت اکھاڑنے کے اتحادی کھلواڑکی تائید و حمایت میں رائے عامہ کی تشکیل میں قابل فہم ریکارڈ تھی ۔
پی ڈی ایم جماعتوں کو یقین ہو گیا کہ ان کا گٹھ جوڑ مشترکہ مقصد وحید برائے خاتمہ عمران حکومت ایک مستحکم اتحاد بن گیا ہے تو چمک باٹنے ، کھلواڑ مچانے اور بڑی مداخلت کے سہارے مہم نتیجہ خیز ہونے کے اعتبار کا گراف آسمان کو چھو رہا تھا۔ایسے میں کوئی بھی تو کیا پی ڈی ایم کیا عدلیہ کیا مداخلت کار اور خیبرپختونخوا کی دونوں حکومتیں مکمل غیر آئینی ہیں۔الیکشن کی طرف یہ خود آئیں نہ الیکشن کمیشن انہیں لے کر آیا اس آئین شکنی میں جس طرح وفاقی آئین کی پابند وزارتوں نے آئین شکنی میں ان کا ساتھ دیا اس کے بعد آج ریاستی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ مکمل غیر آئینی ہو کر مسلط ہے شہباز حکومت نے 16ماہ میں الیکشن کے لازمی آئینی تقاضے نئی مردم شماری پر 35ارب خرچ کرکے جس طرح اسے ادھورا چھوڑا ہے اس نے پھر انتخابات کو آگے لے جانے کی غیر آئینی علت پیدا کر دی ہے۔
اس پر ان کے اپنے ماہرین آئین اس تاریخی سیاہ حکومتی کردار میں اپنا دامن اور پیشہ ورانہ پوزیشن بچانے کےلئے مکمل نامساعد حکومت اور اس کے تابع و فادار اراکین پارلیمان عدالتوں سے انصاف کے طالب بن گئے شہباز حکومت خود سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف کھلواڑ مچا کر جس طرح عدلیہ کے انتظامی امور میں مداخلت کرکے اسے تقسیم کرنے کی مرتکب ہوئی یہ اتنا مجرمانہ اور ملک کےلئے تباہ کن حکومتی اقدام ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر کرکے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کو بھی بڑی حد تک معطل کرکے رکھ دیا جس ڈھٹائی سے الیکشن رکنے کےلئے سپریم کورٹ کی حکم عدولی اور اسے تقسیم رکھنے کا گند ڈالا گیا اسی رفتارسے قانون و قاعدے کی کھلی خلاف ورزی کرنے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں جوابی گواہی اور حق کے دفاع کو سلب کرکےاور جس طرح پنجاب پولیس نےخلاف قانون سابق وزیر اعظم کو گرفتار کیا اس نے پاکستان میں آئین و قانون اور عدالتی نظام کی دھجیاں اڑا دیں ۔
پاکستان کو پوری دنیا میں تماشہ گاہ بنا دیا گیا باتیں اور لوریاں عوامی مال سے اشتہاری مہمات اور کھوکھلی سیاسی ابلاغی مہم ترقی و استحکام کی یقین دہانی کے لئے بڑے زور شور سے جاری ہیں۔ عوام کے لئے فقط انہیں مبتلائے عذاب کرنے والا مہنگائی کا تواتر سے بڑھتا بوجھ اور غیر قانونی وفاقی صوبائی حکومتوں کی فسطائیت سے پیدا کیا خوف ہے۔
یہ جاتی حکومت کا کتنا بڑا بے رحمانہ اور دیدہ دلیرانہ حکومتی سیاسی کھلواڑ ہے ۔یعنی معاشی استحکام اور اس کی ضمانت سیاسی استحکام پیدا ہونے کے ہر امکان کو ختم کرنے کے لئے آئین کی مسلسل اور ایسی ایسی خلاف ورزیاں جاری ہیں کہ ملک میں لگے مارشل لا آمریتیں موجود پاکستانی الیگارکی (مافیا ٹولے ) کی آئین شکنی کے مقابل سب مل کر بھی کم درجے پر آگئیں۔
پی ڈی ایم کی آئین شکنی کا یہ انتہائی حساس ارتکاب یہیں ختم نہیں ہو جاتا مردم شماری بنیادی آئینی تقاضا اور انتخابی لازمہ ہی نہیں یہ آج کی جدید دنیا میں سیاسی استحکام اور نتیجہ خیز ترقیاتی منصوبہ بندی کی بھی ناگزیر سائنسی ضرورت ہے ۔
غریب سے غریب ممالک کی گورننس میں بھی حکومتیں اس پر چوکس رہتی ہیں کیونکہ مختلف النوع کی عالمی ترقیاتی امداد، گرانٹس اور قرضے بھی اسے بنیادی شرط میں قرار دیتے ہیں لیکن ہمارا عشروں سے مسلط اپنی سیاست گھاگ موجود حکومتی ٹولہ سیاسی و معاشی استحکام کے اس تقاضے سے روگردانی فقط اپنے گھرانوں اور پارٹیوں کی سیاسی ناجائز مفادات کے لئے کر رہا ہے۔
مختلف صوبوں شہروں اور دیہات کی آبادی بھی حقائق کی بنیاد پر ریکارڈ میں لانے کی بجائے انتخابی سیاسی ضرورتوں کے مطابق فراڈ سے من مانی کرکے کی جا رہی ہے ۔جمعیت علمائے اسلام کے موجود سنجیدہ اور ماہر قانون سینئر جناب کامران مرتضیٰ نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان کی آبادی نئی مردم شماری میں 64لاکھ تک کم کر دی ہے جبکہ کراچی میں ایم کیو ایم اور شہر عظیم کے سرگرم سیاست دان ہرائے گئے میئر شپ کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان کی ڈیڑھ کروڑ نفوس کا اندراج نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں۔کامران مرتضیٰ صاحب نے تو پارلیمان میں کھڑے ہو کر انتباہ کیا کہ اس کا پیغام بلوچستان میں صحیح نہیں گیا۔
اس بری طرح اور اتنے تسلسل اور دیدہ دلیری سے آئین شکنی کے بعد پہلے ہی آئینی و سیاسی اور اقتصادی و انتظامی بحران میں جکڑا وطن عزیز کا آخر کیا بنے گا ۔کراچی کے میئر شپ کے انتخاب میں 31منتخب اراکین ووٹرز کو غائب کرنے سے لیکر ملک کی بار بار ثابت ہونے والی بہت مقبول پی ٹی آئی کی حددرجہ فسطائی توڑ پھوڑ اور اس کے لیڈر کو بری طرح گھیرگھار کے مطلع سیاسی ہٹانے اور بری طرح مچی آئین شکنی کچھ اور کسی ریاستی ذمے دار کو ہوش ہے ملک کو کہاں لے جائے گی۔
پی ڈی ایم خیبر کی مختصرالتحصیل کے ضمنی انتخاب میں جمعیت علما اسلام کی روایتی نشست پی ٹی آئی کو چلے جانے سے عوامی تیور کا کچھ اندازہ لگائیں کہ ان کے انداز سیاست سے کیا ہو رہا ہے۔