محرم الحرام میں امن وامان کے قیام اور بین المسالک ہم آہنگی کے استحکام کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی لیڈر شپ میں حکومت پنجاب مستعد اور سرگرم عمل ہے۔ گزشتہ دنوں صوبہ بھر کے اکابر علماء ودینی شخصیات کا ایک نہایت اہم اور غیر معمولی اجلاس ایوان ِ وزیر اعلیٰ،90 شاہراہ ِ قائد اعظم لاہور میں منعقد ہوا، جس میں تقریباً ایک سو جیّد علمی و دینی شخصیات کے علاوہ کیبنٹ کمیٹی لا اینڈ آرڈر اور اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے ممبران موجود تھے، جبکہ سینئر منسٹر مریم اورنگ زیب اور وزیر صحت سلمان رفیق، وزیر اوقاف چوہدری شافع حسین، وزیر قانون صہیب احمد بھرتھ، وزیر لائیو سٹاک سیّد عاشق حسین کرمانی اور دیگر عمائدین نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے بالخصوص نواسہ ء رسول، سیّد الشہدا حضرت امام عالی مقام کی راہ ِ حق میں لازوال قربانیوں کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امامِ عالی مقام کا اسوہء ہمیں مِلّی یکجہتی کے فروغ اورباہمی اتحاد و اتفاق کی ترویج کا درس دیتا ہے،ملک وقوم کو جب بھی ضرورت پڑی، علماء کرام نے انہیں نااْمید نہیں کیا۔ محرم الحرام میں علماء کرام قیام امن کے لیے جو کوششیں کرتے ہیں وہ ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔صوبے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے استحکام کے حوالے سے علماء کرام ومشائخ عظام کا کردار انتہائی مؤثر ہے۔اس موقع پر اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے لیگل اور ایڈ منسٹریٹوفریم ورک اور اس کے اجلاس کو سہ ماہی بنیادوں پر منعقد کرنے، سوشل میڈیا کا اشتعال انگیزاور فرقہ وارانہ مواد کے حوالے سے استعمال، عاشورہ محرم کے حوالے سے حکومت کے انتظامات سمیت دیگر مختلف پہلو زیر ِ غور آئے، اس موقع پر ایک نہایت وقیع اور جامع ’’مشترکہ اعلامیہ‘‘جس پر تمام علماء اور دینی شخصیات کے دستخط تھے، جس کا ایک ایک لفظ اخوّت، رواداری اور انسان دوستی کا امین تھا، پڑھ کر سنایا گیا۔ پنجاب حکومت کی شبانہ روز محنت سے، ایسے خوبصورت مناظر اسلامیان ِ پاکستان کو میسر ہوئے ہیں، جس کے مطابق تمام مسالک اور مکاتب کی اکابر شخصیات، ایک ہی میز پر ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے بیٹھی تھیں، اس میں اوقاف ڈیپارٹمنٹ کی اتحاد بین المسلمین کمیٹی کابڑا بنیادی کردار ہے۔ اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب (محکمہ اوقاف ومذہبی امور) کے زیر اہتمام مورخہ 28جون 2025ء وطن عزیز کی نمائندہ علمی ودینی شخصیات اور تمام مکاتب فکر کے ممتاز و معتبر علماء کرام ومشائخ وعظام کا "نمائندہ اجلاس "زیر صدارت جناب خواجہ سلمان رفیق چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے امن وامان "مشترکہ اعلامیہ" کے ذریعے اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ: i۔پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں علمائے کرام اور دینی شخصیات کا کردار ہماری تاریخ کاایک روشن باب ہے۔ وطن عزیز کے معروضی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ علماء کرام اور مذہبی ودینی شخصیات قومی یکجہتی، ملکی استحکام،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی امن وامان کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنا اساسی اور کلیدی کردار ادا کرتے رہیں۔ ہم حکومت پنجاب کی وساطت سے پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ محراب ومنبر دفاع وطن اور قومی وملی سلامتی کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہے۔ہم ضرورت پڑنے پر، پوری قوم کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ومتفق کھڑے ہوں گے۔ ii۔جملہ مکاتب فکر کے علماء /خطباء اور ذاکرین اپنے خطبات میں میانہ روی اور مثبت رویہ اختیار کریں گے،تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا نہ ہو۔مزید براں اسلام اپنی تعلیمات میں اہل کتاب او رغیر مسلموں سے بھی رواداری کا سبق دیتا ہے۔ لہٰذا علماء کرام اپنے خطبوں میں رواداری اور اتحاد امت پر بھی خصوصی زور دیں گے اور باہمی افتراق سے مکمل احتراز کریں گے۔ بالخصوص محرم الحرام کے دوران امن وامان کے قیام کے لیے انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں گے۔ iii۔تمام مکاتب فکر کے علماء ا س امر پر بھی متفق ہیں کہ کسی مسلمان کی دل آزاری نہ کی جائے، جس کے لیے ہم سب "اپنے مسلک کو چھوڑ و نہ اور دوسروں کے مسلک کو چھیڑو نہ "کی پالیسی پر سختی سے کار بند رہیں گے، اور ایسی ہر تقریر اور تحریر سے گریز اور اجتناب کریں گے جو کسی بھی مکتبہ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔ iv۔ہم ملک میں مذہب کے نام پرتشدّد پرستی، دہشت گردی اور قتل وغارت گری کو خلاف اسلام سمجھتے اور اس کی پْرزو ر مذمت کرتے ہیں۔ ایسی ہر تقریر اور تحریر سے گریز اوراجتناب کریں گے جوکسی بھی مکتبہ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہو۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاک فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کی جوانمردی،دلیری اور شجاعت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ v۔اتحادِ امت کے حوالے سے یہ وقیع فورم بین المذاہب مکالمے اور بین المسالک ہم آہنگی پر یقین اورہر قسم کی انتہا پسندی، نفرت انگیزی، عدم برداشت اور دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ یہ اجلاس ادیانِ عالم کے قائدین اور عالمی لیڈرشپ کی توجہ "اسلاموفوبیا"یعنی اسلام کی روز افزوں ترویج سے خوفزدہ مغربی اقوام کے اشتعال انگیز رویّے کی طرف بھی مبذول کرواتا ہے،جس کے سبب دنیا بھر میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار اور اسلامی مقدسات کو بلا جواز طعن و تشنیع کا سامنا رہتا ہے۔یہ اجلاس غزہ کے مسلمانوں کے بہیمانہ قتل اور ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک اور اسرائیلی بہیمیت، تشدد اور جارحیت کی بھی مذمت کر تا ہے اور اس امر کا بھی اعلان کرتا ہے کہ ایران پر حملہ محض کسی ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کے وجود پر وار ہے۔ vi۔ یہ اجلاس پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور بالخصوص افواج ِ پاکستان کی اس مساعی کو بھی خراج ِ تحسین پیش کرتا ہے، جس کے سبب طاقت اور جدید اسلحہ کے گھمنڈ میں مبتلا انتہائی عیار اور کینہ پرور دشمن۔۔۔بھارت۔۔۔ پر، اللہ تعالیٰ نے، 10 مئی 2025ء کو ہمیں فتح و نصرت سے سرفراز و سربلند کیا۔ اس موقع پر پنجاب حکومت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں قومی سلامتی، ملکی یکجہتی اور دفاعِ وطن کے جذبوں کو اْجاگر کرتے ہوئے، جس طرح اپنی جملہ توانائیاں صَرف اور تمام وسائل ارزاں کیے، وہ بھی قابل ِ تحسین اورلائقِ صد مبارکباد ہے۔ vii۔پنجاب حکومت نے مالی سال 2025-26کے لیے ایک جامع، متواز ن اور پروگریسو بجٹ پیش کیا، جس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ’’وزیر اعلیٰ شرائنز ڈویلپمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت، پنجاب کے پچاس مزارات و مساجد کی ترقیاتی سکیمیں خصوصی طور پر شامل ہوئیں، دینی طبقات وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اقدام کی بھی تحسین کرتے ہیں۔ یقینا وطنِ عزیز اس وقت اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں ہم صبر، حوصلے اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے، وطنِ عزیز کو امن وسلامتی کا گہوارہ بنا کر اسے مضبوط او ر مستحکم کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ خدائے بزرگ وبرتر مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کرنے کی ہماری ان کوششوں کو ثمر بار فرمائے۔(آمین)
'.$config["ad_footer"].'
':'';?>
