ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن کا مقصد اور آرٹیکل نمبر 38 (سی) کی وضاحت  412

ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن کا مقصد اور آرٹیکل نمبر 38 (سی) کی وضاحت 

ایمپلائز اولڈ بینیفٹس انسٹیٹیوشن (EOBI)کو یکم اپریل 1976 کو نافذ کیا گیا تھا تاکہ آئین کے آرٹیکل 38 (سی) کے مقصد کو حاصل کیا جا سکیں-
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 38 (سی ) سوشل سیکیورٹی اور فلاحی ریاست کے اصولوں پر مبنی ہے اس کا مقصد عوام کی فلاح اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ آرٹیکل 38 (سی ) کے تحت ریاست کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو معاشی طور پر محفوظ اور مستحکم بنانے کے لیے مختلف اقدامات کرے۔
آرٹیکل 38 (سی) خاص طور پر ریاست کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ ریاست کو ملک میں کام کرنے والے تمام بزرگ افراد کی اور دیگر سوشل سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں-
 آرٹیکل نمبر 38 (سی) کے  نفاذ تحت ای- او-بی -آئی جیسے فلاحی ادارے قائم کیے گئے ہیں تاکہ کام کرنے والے افراد کو پنشن اور دیگر سماجی فوائد فراہم کیے جا سکیں۔
یہ آرٹیکل پاکستان کے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم آئینی دفعہ ہےجو معاشرے میں رہنے والے افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے ای -او- بی- آئی کے قانون کا اطلاق صرف نجی شعبہ جات پر ہوتا ہے کیونکہ پبلک سیکٹرز ملازمین، پولیس ملازمین، لوکل اتھارٹیز لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت، ریلویز اور دیگر آئینی اداروں کیلئے پنشن کا سسٹم مختلف ہے ان کے علاؤہ حکومت نے نادار اور ے سہارا شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے دیگر پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ عشرو زکوٰۃ آرڈیننس 1980 کے تحت مسلمان نادار شہریوں کو مدد فراہم کی جاتی ہے جبکہ پاکستان بیت المال ایکٹ  1992 اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آرڈیننس  2010 (یہ پروگرام   2008 میں شروع کیا گیا تھا) کے تحت تمام نادار شہریوں کی، قطع نظر انکے مذہب کے مدد کی جاتی ہے۔ 
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس ایکٹ کا اطلاق ان تمام صنعتی اور تجارتی اداروں پر ہوتا ہے جن میں نجی بنکس ،فیکٹریز اور نجی سکولز اینڈ کالجز بھی شامل ہیں جہاں پانچ یا پانچ سے زیادہ افراد ملازم ہوں یا پچھلے بارہ ماہ میں کسی وقت بھی ملازم رہے ہوں نیز اس قانوں کا اطلاق ملازمت یافتہ افراد کی تعداد پانچ سے کم ہونے کی صورت میں بھی جاری رہے گا۔ 
جہاں تک اس قانون کے تحت دیئے گئے فوائد کا تعلق ہے اس میں تحفظ یافتہ/رجسٹرڈ شدہ ملازمین یا انکے پسماندگان کو تین قسم کی پنشن اور پنشن کیلئے اہل نہ ہونے کی صورت میں ایک قسم کی گرانٹ ملتی ہے۔ 
 ای۔او۔بی۔آئی ایک نیم خود مختار ادارہ ہے جو وفاقی وزارت محنت و افرادی قوت کے زیر نگرانی کام کرتا ہے اس کا انتظام ایک سہ فریقی بورڈ آف ٹرسٹیز کے ذمہ ہے جہاں حکومتی ملازمین کے علاوہ مزدورں اور کمپنی کے نمائندے بھی شامل  ہوتے ہیں۔
ای -او- بی -آئی (EOBI) پاکستان میں نجی شعبے کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ، معذوری، اور وفات کی صورت میں ان کے اہل خانہ کو ماہانہ پنشن فراہم کرتا ہے اس کا طریقہ کار اور پنشن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:-
 ای -او- بی -آئی کی ماہانہ پنشن دس ہزار ( 10,000) روپے ہے یہ رقم پہلے 8,500 روپے تھی لیکن اب حکومت پاکستان نے اس میں اضافہ کر کے 10,000 روپے کر دیا ۔  
پنشن کے اقسام
ضعیف العمر پنشن حضرات میں مردوں کی عمر 60 سال تک مقرر کی گئی ہے اور خواتین کی عمر 55 سال تک مقرر کی گئی ہے اگر ملازمت کے دوران میں کوئی حادثہ رونما ہو جو مستقل معذوری کی صورت میں ہو تب بھی پنشن کا اطلاق ہوتا ہے اگر کوئی ملازم ملازمت کے دوران میں وفات ہو جائے تو اہل خانہ کو
ماہانہ پنشن ای- او -بی -آئی ادا کرتا ہے  اگر کسی ملازم نے 15 سال سے کم عرصہ ملازمت کی ہو اور اس کی وفات ہوگئی ہو تب بھی  ای- او- بی -آئی ایک ہی بار یکمشت پنشن ادا کرتا ہے پنشن حاصل کرنے کے لیے ای- او- بی -آئی میں ملازم اور کمپنی کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہےماہانہ کنٹری بیوشن ملازم کی تنخواہ کا 1%اور کمپنی کا 5% ہوتا ہے ۔  
درخواست جمع کروانا ریٹائرمنٹ یا معذوری کی صورت میں متعلقہ فارم بھر کر ای -او- بی -آئی کے دفتر میں جمع کروائیں ضروری دستاویزات میں قومی شناختی کارڈ، ملازمت کی تصدیق اور بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات شامل ہیں ۔  
ادائیگی کا طریقہ پنشن بینک اکاؤنٹ میں بذریعہ ڈائریکٹ کریڈٹ یا نادرا کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کے بعد جاری کی جاتی ہے نئی موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے بھی پنشنرز اپنی تفصیلات چیک کر سکتے ہیں ۔  
اگر کمپنی اپنے حصے کی رقم ادا نہیں کرتی تو ملازم کا حق مارتی ہے -
ہر رجسڑڈ شدہ شخص بھی اپنا نام اور دیگر ضروری تفصیلات ادارے کو فراہم کر سکتا ہےموصول ہونے والی اطلاع پر ادارہ صنعت یا رجسٹرڈ شدہ شخص کا اندراج بھی  کرے گا اور رجسٹرڈ شدہ شخص کو رجسٹریشن کارڈ جاری کرنے کا پابند ہو گا-
یکم جولائی 2008 کو ای او بی آئی کے قوانین میں کچھ ترامیم کی گئیں جس کے تحت جب کوئی صنعت یا تجارتی ادارہ 5 یا اس سے زیادہ ملازمین رکھتا ہے یا اگر کوئی صنعت یا تجارتی ادارہ جس میں 5 سے کم ملازمین ہوں اسے خود اس اسکیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہےتمام صنعتی اور تجارتی اداروں کے مالکان  پر جہاں ای- او- بی-ائی ایکٹ لاگو ہوتا ہے وہیں انہیں کم از کم اجرت کا 5% حصہ ادا کرنا ہوتا ہےای -او -بی- آئی اسکیم کے تحت، رجسٹرڈ شدہ افراد کو مختلف فوائد حاصل کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے جیسے کہ، بزرگوں کی پنشن ریٹائرمنٹ کی صورت میں معذوری کی پنشن مستقل معذوری کی صورت میں بزرگوں کا وظیفہ عمر رسیدہ ملازمین کے لیے ای- او- بی- آئی کی طرف سے فوائد درج ذیل ہیں:-
اہل افراد کو ماہانہ پنشن فراہم کرتا ہے جس کی کم از کم رقم 10,000 روپے ہے اور زیادہ سے زیادہ رقم فارمولا کے مطابق متغیر ہوتی رہتی ہے حالیہ اضافوں کے نتیجے مزید  بڑھا دی گئی ہے، اور فارمولا کی بنیاد پر 30% کا اضافہ بھی کیا گیا ہے -
ای- او -بی- آئی کے پنشنرز اپنی پنشن اے ٹی ایم کے نیٹ ورک کے ذریعے نکال سکتے ہیں اور انہیں ایک محفوظ پنشن والیٹ تک رسائی بھی حاصل ہے۔
زیادہ سے زیادہ پنشن فارمولا کے مطابق دی جاتی ہے، جو ممکنہ طور پر 30,000 روپے فی ماہ تک پہنچ سکتی ہے۔
ای -او -بی -آئی حکومت سے مالی معاونت نہیں حاصل کرتا کمپنیاں ملازم کی تنخواہ کا پانچ فی صد  حصہ شاملِ کرتیں ہیں جبکہ ملازم اپنی تنخواہ کا ایک فی صد  حصہ شامل کرتا ہے -
 ای -او -بی -ائی ایکٹ ان صنعتوں یا اداروں پر لاگو ہوتا ہے جن میں 10 یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں یا وہ جو خود سے شامل ہونے کے لیے درخواست دیں جیسا کہ عمر رسیدہ ملازمین کے لیے معاشی فوائد ادارے نے وضع کیے ہیں -
کمپنی اور ملازمین اس اسکیم میں کم از کم اجرت کی بنیاد پر شراکت کرتے ہیں جس میں کمپنی حصہ بڑا ہوتا ہےپنشن اور دیگر فوائد کا حساب شراکت کے سالوں کی تعداد اور ملازم کی تنخواہ کی تاریخ جیسے عوامل پر مبنی ہوتا ہے۔
 ای- او -بی -آئی پاکستان میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ آئینی حکم کے تحت کام کرنے والے شہریوں کے لیے سوشل سیکیورٹی فراہم کرتا ہے خاص طور پر عمر رسیدگی اور معذوری کے حوالے سے جیسا کہ عمر رسیدہ ملازمین کے حوالے سے درج بالا سطور میں  وضاحت پیش کی ہے۔
نومبر 2023 ء تک پاکستان میں ای- او- بی- آئی کے تقریباً 9.8 ملین رجسٹرڈ ورکرز تھے جو مختلف سطحوں پر کام کرنے والے 70 ملین سے زائد ورکرز کا ایک حصہ تھے یہ تعداد ملک کے ورک فورس کا ایک حصہ ظاہر کرتی ہے تاہم یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ایک بڑی تعداد میں ورکرز غیر رجسٹرڈ ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ ای- او- بی- آئی کی پنشن اسکیمز کے تحت شامل نہیں ہیں رپورٹس کے مطابق ایک بڑی تعداد میں گروپس ،کمپنیاں اور کئی ادارے ای او بی آئی ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو رجسٹر نہیں کرتے جس کے نتیجے میں وہ اپنی جائز پنشن کے فوائد سے محروم رہتے ہیں۔
کمپنیوں کو ہر ملازم کی کم از کم اجرت کا 5 فیصد حصہ ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ ملازمین 1 فیصد شراکت کرتے ہیں چونکہ موجودہ کم از کم اجرت 37000ہزار روپے ماہانہ ہے اس کا مطلب ہے کہ کمپنی ہر ملازم کی طرف سے 1,600 روپے اور ملازم 320 روپے کی ماہانہ شراکت کرتے ہیں جس کا مجموعہ 1,920 روپے فی ملازم فی ماہ بنتا ہے۔
یہ ماہانہ ادائیگیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ رجسٹرڈ شدہ افراد جب 60 سال کی عمر (مردوں کے لیے) اور 55 سال (خواتین کے لیے) تک پہنچیں بشرطیکہ انہوں نے کم از کم 15 سال کی رجسٹرڈ شدہ ملازمت مکمل کی ہو انہیں پنشن ملتی ہے -
ای -او- بی- آئی رجسٹرڈ شدہ شخص کے انتقال کی صورت میں اس کے خاندان کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ وہ رجسٹرڈ شدہ افراد جو معذوری کی وجہ سے کام کرنے سے قاصر ہیں ان کو مدد بھی فراہم کرتا ہے جو افراد عمر رسیدہ ہونے کی عمر حاصل کر چکے ہوں مگر پنشن کے لیے کم از کم معیار پورا نہیں کرتےانہیں ایک مرتبہ کی بھی ادائیگی کا حکم دیتا ہے -

بشکریہ اردو کالمز