ہر شخص قدرت کے حسین مناظر دیکھنے کا شوق رکھتا ہے کچھ لوگ اس شوق کی تکمیل کے لیے عمر کا طویل حصہ سیاحت کے لیے وقف کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ عزیز و اقارب ، دوستوں ، ہم جماعتی طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ (ایک طویل مدت کے بعد) سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔ زمانہ طالب علمی میں عموماً یہ شوق زیادہ پروان چڑھتا ہے ۔ بحیثیت طالب علم اور بحیثیت معلم اللہ پاک نے یہ موقع دیا کہ کئی بار تاریخی مقامات کی سیر کی اور کچھ یادگار سفر بھی رہے ۔ ان میں سے ایک سکواڈرن لیڈر مسعود الحق شہید ماڈل اسکول اینڈ کالج باغ کے سنگ اسلام آباد کا دلچسپ سفر بھی تھا ۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سال اول و دوم کی طالبات نے پرنسپل ادارہ ہذا میڈم فریحہ سے درخواست کی کہ ہم اسلام آباد کا سیاحتی و مطالعاتی دورہ کرنا چاہتی ہیں ۔ میڈم فریحہ حسن نے ان کی درخواست پر خوشی کا اظہار کیا اور باہم مشاورت سے 23 ستمبر 2023 (بروز ہفتہ) اس دلچسپ سفر کے لیے رکھا گیا. تمام طالبات کو آگاہ کیا گیا کہ اپنی تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دیں ۔ اس سفر میں جماعت ششم سے لے کر انٹرمیڈیٹ سال دوم تک 53 طالبات شامل تھیں ۔ 23 ستمبر کی پرنور صبح سات بجے اس سفر کا باقاعدہ آغاز کالج سے ہوا ۔ تمام طالبات کالج میں مقررہ وقت پر پہنچ چکی تھیں ۔ طالبات کے چہرے پر خوشی کی لہر کو محسوس کیا جا سکتا تھا ۔ اس سفر میں دو کوسٹر گاڑیاں شامل تھیں اور میڈم فریحہ حسن کی زیر سرپرستی یہ سفر جاری تھا ان کے ساتھ ادارہ ہذا کے فیکلٹی ممبر اسد لطیف صاحب ، میڈم کہکشاں ، راقم اور کالج کے سپورٹنگ سٹاف ممبر (نام دیو مالی جیسی باکمال صفات کے حامل) محترم منیر احمد شامل تھے ۔ یہ سفر باغ آزاد کشمیر کی سرزمین سے اسلام آباد کی جانب براستہ ٹائیں ڈھلکوٹ شروع ہوا ۔ باغ سے راولپنڈی کا اس روٹ سے فاصلہ 150 کلو میٹر ہے ۔ گاڑی کا پہلا پڑاؤ لہتراڑ رتہ کس کے مقام پر کشمیر ریسٹورنٹ میں ہوا ۔ یہاں کچھ دیر تھکاوٹ دور کرنے کے بعد اسلام آباد کی جانب گاڑی دوبارہ رواں ہوئی ۔ گاڑی میں طالبات موسیقی کے ذریعے لطف اندوز ہو رہی تھیں ۔ 11 بج کر 40 منٹ پر راولپنڈی کے مشہور Joyland Park میں ٹھہراؤ کیا گیا۔ یہاں مختلف انواع کے جھولے ، گیمنگ اور بھوت بنگلہ اور دیگر لطف اندوز کرنے والے مراکز قاٸم ہیں ۔ اس پارک کی ایک خاصیت یہ ہے یہاں انٹری کے بعد مزید ٹکٹ کے لیے پیسے صرف نہیں کرنے پڑتے تھے ۔ دو گھنٹے یہاں لطف اندوز ہونے کے بعد ایوب نیشنل پارک کی جانب رخ کیا گیا ۔ یہاں مختلف قسم کے جانور اور پرندے بھی موجود تھے ۔ یہ بھی طلبہ کے لیے مفید اور معلوماتی پارک تھا ۔ یہاں دوپہر کا کھانا بھی کھایا گیا ۔ اس کے بعد فیصل مسجد اسلام آباد (اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دارالحکومت ہے جو سطح مرتفع پوٹھوہار کے شمالی کنارے اور مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے ۔ پاکستان کے خوبصورت شہروں میں سے ایک شہر ہے ۔ اسلام آباد کا نام ایک رپورٹ کے مطابق عارف والا کے ایک اسکول ٹیچر قاضی عبدالرحمن امرتسری نے تجویز کیا تھا ) کا رخ کیا گیا ۔ فیصل مسجد جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے ۔ اس مسجد کا سنگ بنیاد اکتوبر 1976 کو رکھا گیا ، 1987 میں تکمیل کے مراحل کو پہنچی تعمیری لاگت 120 ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ صرف ہوئے ۔ اس مسجد میں تقریبا تین لاکھ افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔ کوئی دن اب ایسا نہیں گزرتا جس روز وہاں عوام کی کثیر تعداد موجود نہ ہو ۔ اس مسجد میں سیاحت سے دلچسپی رکھنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح بھی بڑی تعداد میں تشریف لاتے ہیں ۔ اس مسجد کے چار مینار ہیں اور ہر مینار کی بلندی 286 فٹ ہے ۔ مسجد کے مرکزی دروازے کے قریب ہی سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کا مزار بھی موجود ہے ۔ شام سات بجے تک طالبات اس مسجد کے احاطہ میں موجود رہیں ۔ یادگار کے لیے گروپ فوٹو بھی لیا گیا ۔ طالبات سفر کے آغاز سے اب تک کے مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بھی کر رہیں تھیں ۔ فیصل مسجد کے احاطہ میں بڑی تعداد میں سائلہ موجود ہیں ۔ ہر طرف سے گونج دار آوازیں سنائی دیتی ہیں جو کم سن معصوم بچوں کو گود میں رکھے ہوئے اس ماں کی صدا ہوتی ہے کہ خدا کے نام پر کچھ دے دیں ۔مسجد کے چاروں جانب معصوم بچے جن کے کھیلنے کودنے ، کتابیں اور قلم اٹھانے کی عمر ہے ان کے ہاتھ میں کشکول تھما دیا گیا ہے ۔ آخر یہ سب کب تک اور کیسے ختم ہو گا ؟ اس سوال کا جواب ملنا مشکل ہے ۔ ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جمعہ کے وقت بھی اور جب کہیں کوئی اجتماع ہو تو وہاں جوتے چوری ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔ فیصل مسجد میں بھی یہ صورتحال برقرار ہے ۔ آخر کب تک ہم ایسی غیر شعوری زندگی بسر کرتے رہیں گے ؟
شام سات بجے گاڑی باغ کی جانب دوبارہ رواں ہوئی یہ سفر اختتام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا ۔طالبات کی خواہش تھی کہ مزید تاریخی مقامات کا بھی رخ کیا جائے مگر وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے گاڑی باغ کی جانب رواں ہوئی ۔ گاڑی میں شوروغل آغاز سے اب تک بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔ گاڑی میں بچوں کو لطف اندوز کرنے کے لیے میڈم کہکشاں (مطالعہ پاکستان کی معلمہ ) نے خوبصورت آواز میں ملی نغمے بھی گاٸے اور نور جہاں کی دور کے پرانے گانے بھی ۔ بچیوں کی جانب سے بھی دلچسپی دکھائی گئی انھوں نے بھی نظمیں پڑھیں اور بیت بازی کا مقابلہ کیا ۔ عموماً دیکھنے کو ملتا ہے کہ ڈرائیور حضرات اس سفر کے دوران شوروغل سے تنگ ہوتے ہیں مگر ان کے چہرے پر بھی ویسے ہی خوشی دیکھنے کو مل رہی تھی جیسی بچیوں کے چہرے پہ تھی ۔ اس سفر کے دوران تھکاوٹ بھی محسوس کی گئی روڈ کی خستہ حالی اس کی وجہ تھی ۔ حکومت کو چاہیے کہ سیاحتی مقامات کی جانب جاتی ہوٸی مین شاہراہ کو پختہ کیا جائے تاکہ حادثات سے بھی بچا جا سکے ۔ کشمیر ریسٹورنٹ رتہ کس لہتراڑ کے مقام پر آتے وقت بھی دوبارہ ٹھہراؤ کیا گیا ۔ یہاں رات کا کھانا کھایا گیا اور چائے بھی نوش کی گئی ۔ بعدازاں گاڑی دوبارہ منزل کی جانب بڑھی اور رات 11 بج کر 40 منٹ پر گاڑی باغ شہر میں دوبارہ داخل ہو گٸی ۔ سب طالبات کے والدین پہلے سے موجود منزل پر موجود تھے اور سب باخیریت اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گے ۔
2488