ہمارے پیارے راوین جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے، جنرل عامر ریاض سدرن کمانڈ کے کور کمانڈر جبکہ موجودہ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ حکومت بلوچستان کے ترجمان۔ ان دنوں ہمارا کوئٹہ، گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کافی آنا جانا رہا، اکثر و بیشتر میں اور چوہدری غلام حسین ہم سفر ہوتے۔ ایک دن بلوچستان حکومت نے کچھ اور صحافیوں کو بھی لاہور اور اسلام آباد سے مدعو کر رکھا تھا، کور کمانڈر نے عشائیہ دیا، میرے ساتھ والی نشست پر ایک دراز قد خوبصورت فوجی افسر چپ چاپ بیٹھا رہا، گویا وہ ساری گفتگو کا بغور مشاہدہ کر رہا تھا، ان سے تعارف ہوا، تعلق بنا اور پھر دوستی ہو گئی، بعد میں میرے یہ دوست جنرل عابد لطیف خان آئی ایس آئی میں ڈی جی سی بھی رہے۔ جنرل عابد لطیف ریٹائرڈ ہوئے تو میرا خیال تھا کہ وہ بھی اپنے ہم پیشہ لوگوں کی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بڑا بزنس کریں گے مگر انہوں نے میرا خیال یہ کہہ کر خاک میں ملا دیا کہ’’میرا آبائی تعلق ایبٹ آباد سے ہے، میں ایبٹ آباد میں تھیلیسیمیا کا ایک بڑا سینٹر قائم کرونگا، یوں میں اپنے لوگوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنی مٹی سے وفا نبھاؤں گا‘‘۔ جنرل عابد لطیف اس کام میںجت گئے اور ایک شاندار تھیلیسیمیا سینٹر بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ میرا تھیلیسیمیا سے پہلا تعارف منو بھائی کے توسط سے ہوا کہ انہوں نے لاہور میں سندس فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ سندس تھیلیسیمیا کا شکار ایک بچی کا نام تھا، اسی نام کی نسبت سے فاؤنڈیشن قائم ہوئی۔ ہمارے معاشرے کے اکثر لوگوں کو تھیلیسیمیا کے بارے میں آگاہی نہیں، پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان سمیت محکمہ صحت کو چاہیے تھا کہ وہ سرکاری سطح پر اس مہلک مرض سے متعلق لوگوں کو بتاتے کہ اس مرض میں کس طرح زندگیاں ہر لمحہ تازہ خون کے انتظار میں رہتی ہیں اور اگر انہیں یہ خون میسر نہ آئے تو وہ موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔ تھیلیسیمیا کا مرض کئی اور ملکوں میں بھی سامنے آیا مگر ان ملکوں نے اس پر قابو پا لیا ۔ آس پاس کے ملکوں پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہو گا کہ تھیلیسیمیا بنگلہ دیش میں تھا، اب وہاں نہیں ہے، ایرانیوں نے بھی اس مرض پر قابو پا لیا، مگر ہمارے ہاں تو توجہ ہی نہیں دی گئی، توجہ خاک دینا تھی، آگاہی نہیں دی گئی۔ یہ مرض دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں زیادہ ہے، ممکن ہے اسکی بڑی وجہ تعلیم کا فقدان ہو مگر بدقسمتی سے ہمارے پڑھے لکھے لوگ بھی تھیلیسیمیا سے آگاہ نہیں ہیں۔ یہ مرض پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے، افسوس صد افسوس کہ ہمارے ادارے اور ہمارا میڈیا اس حوالے سے خاموش ہیں، بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا؟ تھیلیسیمیا خون کی ایک جینیاتی بیماری ہے جس میں خون کے خلیے جسمانی ضروریات کے مطابق آکسیجن کی سپلائی پوری نہیں کر پاتے، جب خون کی مقدار جسمانی ضروریات کو پورا نہیں کرتی تو بون میرو نارمل طریقے سے خون کے سرخ خلیے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا، اس لئے دل، دماغ اور دیگر جسمانی اعضاء خون کی کمی کے سبب کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مریض کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور وہ کمزوری اور لاغری کی تصویر بن جاتا ہے۔ اگر کسی مریض کو خون کی بروقت فراہمی نہ کی جائے تو موت اسے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تھیلیسیمیا کی دو قسمیں ہیں، ایک کو میجر تھیلیسیمیا اور دوسری کو مائینر تھیلیسیمیا کہا جاتا ہے۔ میجر تھیلیسیمیا خون کی خطرناک بیماری ہے، اس میں ادوایات کے ساتھ ہر مہینے خون تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے مریضوں کو وقت پر خون فراہم نہ کیا جائے تو یہ پانچ سات سال میں وفات پا جاتے ہیں۔ مائنر تھیلیسیمیا، جس کا شکار ہماری آٹھ فیصد آبادی ہے، مائنر تھیلیسیمیا میں علاج کی ضرورت تو نہیں ہوتی لیکن اگر مائنر تھیلیسیمیا رکھنے والے دو افراد کی شادی ہو جائے تو ان کے ہاں میجر تھیلیسیمیا کے حامل بچے پیدا ہوں گے، جن کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے مستقل بنیادوں پر خون کی ضرورت ہو گی۔ ہمارے ملک میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تقریباً پانچ ہزار بچے ہر سال ایسے پیدا ہو رہے ہیں جو میجر تھیلیسیمیا میں مبتلا ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت ملک میں ساٹھ ہزار سے زائد بچے میجر تھیلیسیمیا کا شکار ہیں، یہ بچے زندگی کی ایسی کشتی پر سوار ہیں جو ہر وقت موت کے بھنور میں رہتی ہے۔ ہمیں اس خطرناک مرض کی وجوہات کو ختم کرنا چاہئے، شادی کرتے وقت لڑکا اور لڑکی دونوں تھیلیسیمیا ٹیسٹ اپنے آپ پر فرض کر لیں تاکہ اگر کسی ایک کو مائنر تھیلیسیمیا ہو تو وہ اس سے شادی کرے جسے مائنر تھیلیسیمیا نہ ہو۔ صرف ایک ٹیسٹ کروانے سے ہماری بہت بچت ہو سکتی ہے، ہماری اگلی نسل کی تھیلیسیمیا سے جان چھوٹ سکتی ہے۔ اس وقت ملک میں جو لوگ بھی تھیلیسیمیا پر کام کر رہے ہیں وہ سب قابل ستائش ہیں کہ وہ دکھوں کی بستی میں انسانی زندگیوں کے چراغوں کا تحفظ کر رہے ہیں، ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ہمیں اس خطرناک مرض کی تباہیوں سے لوگوں کو آگاہ کرنا چاہئے بلکہ اس آگاہی مہم کا حصہ بھی بن جانا چاہیے کہ بقول احمد فراز
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے