افغان مہاجرین کے انخلا کا مسئلہ: چند تجاویز 193

افغان مہاجرین کے انخلا کا مسئلہ: چند تجاویز

ان دنوں پاکستان میں افغان مہاجرین کے انخلا کا مسئلہ زیر بحث ہے اور اسمعاملے میں حکومت کی طرف سے حالیہ پیش رفت میں سرحدی اور ریاستی امور کی وزارت نے صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد انتظامیہ کو سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ قانونی دستاویزات رکھنے والے افغان مہاجرین کو زبردستی واپس افغانستان نہ بھیجیں اور ان مسائل کو فوری اور مؤثر طریقے سے حل کیا جائے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں گہری اور تاریخی ہیں۔ 1980 کی دہائی میں سوویت افغان جنگ کے بعد سے پاکستان ایک قابل ذکر تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جنہوں نے اپنے وطن میں تنازعات سے پناہ مانگی تھی۔ ان سالوں کے دوران ان میں سے بہت سے پناہ گزین پاکستانی معاشرے میں ضم ہو چکے ہیں اورقانونی دستاویزات حاصل کر چکے ہیں اور یہاں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ تاہم افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد مناسب دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہے۔ سرحدی اور ریاستی امور کی وزارت کی طرف سے حالیہ ہدایت ایک خوش آئند اقدام ہے جب کہ غیر قانونی افغان باشندوں کی پاکستان میں موجودگی کو روکنا بھی اشد ضروری ہے ۔ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ماہ کا الٹی میٹم افغان مہاجرین کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے۔ نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ملک سے قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ موقف ان لوگوں کے لیے اطمینان بخش ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات ہیں اور وہ پاکستانی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کو ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے، اور یہ ایک ایسی تشویش ہے جسے مؤثر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کیا جائے: حکومت کو افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے واضح اور شفاف پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ قانونی دستاویزات رکھنے والوں کو تحفظ اور مدد فراہم کی جائے، جبکہ مناسب دستاویزات نہ رکھنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کے پر امن انخلا کے سلسلے میں انتظامات کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کرے، ان کی وطن واپسی یا پاکستانی معاشرے میں انضمام پر توجہ مرکوز کرے۔ افغان مہاجرین اور پاکستانی شہریوں دونوں کو افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومت کے موقف اور پالیسیوں سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم چلاجائے، اس سے غلط معلومات اور استحصال کو روکنے میں مدد ملے گی۔ پائیدار طویل مدتی حل پر کام کریں، جس میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون شامل ہو، تاکہ افغان مہاجرین کے بے گھر ہونے کی بنیادی وجوہات کو حل کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس مسئلے کے دیرپا حل پر توجہ دی جاسکے۔ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کے انخلا کا مسئلہ ایک پیچیدہ اور حساس مسئلہ ہے جس پر محتاط غور و فکر کے ساتھ ساتھ انسانی نقطہ نظر کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ غیر قانونی رہائش کے چیلنجوں سے نمٹنے کے دوران قومی سلامتی کے خدشات اور انسانی اقدار کے درمیان توازن قائم کرے۔ اس مسئلے کو حل کرنے اور پاکستان میں افغان مہاجرین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ باہمی تعاون اور شفاف پالیسیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز