بی آر آئی فورم 233

بی آر آئی فورم

یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کے ہمسائے چین جیسے بڑے ملک نے ایک مختلف تصور کے ساتھ دنیا بھر میں معاشی ترقی کیلئے ایک مکمل منصوبہ تیار کیا اور اس میں وطن عزیز کیلئے خوش قسمتی کا پہلو یہ ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے کہ جس میں سی پیک جیسا منصوبہ شروع کیا گیا اور چین کیلئے بھی بحر ہند اور بحیرہ عرب سے بذریعہ سڑک منسلک ہونے کا یہی واحد راستہ ہے ۔ چین سے پاکستان ، سینٹرل ایشیا ، افریقہ یورپ جانے کا ایک ایسا راستہ جو ان تمام ممالک کو ایک مضبوط معاشی دھارے سے منسلک کر دے گا ۔ اسی لئے پاکستان میں سی پیک کی دسویں سالگرہ کے موقع پر چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے چیئر مین کی آمد چین کیلئے اس منصوبہ کی اہمیت کو ظاہر کر رہی تھی ۔ اب تک پاکستان کو چین سے اس بارے میں کوئی شکایت بھی نہیں کہ چین نے کوئی وعدہ کیا ہو اور اس کو پورا نہ کر سکا ہو ۔ مگر اس کا ایک اور بھی پہلو ہے کہ پاکستان کی جانب سے وہ کارکردگی پیش نہیں کی جا سکی جس طرح کی کارکردگی اس منصوبے کے تمام مراحل کو بر وقت مکمل کرنے کیلئے درکار تھی ۔ جب اس منصوبے کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت پاکستان میں یہ تصور بہت مضبوط تھا کہ اگر پاکستان اور چین نے اس منصوبے کو بر وقت مکمل کر لیا تو پاکستان کی معیشت بہت مضبوط ہو جائے گی مگر بد قسمتی سے پاکستان میں آئے دو ہزار سترہ کے سیاسی جھٹکے کی وجہ سے یہ منصوبہ کچھ مشکلات کا شکار ہو گیا ۔ پھر میرے چینی دوستوں نے مجھے براہ راست بھی کہا اور چین میں یہ تصور مضبوط بھی ہے کہ پاکستان کی پلاننگ وزارت اور اس میں تعینات سیاسی و بیورو کریسی میں بھی یہ صلاحیت سرے سے نہیں تھی کہ وہ اتنے بڑے منصوبے پر کام کر سکتے اور اسی لئے سی پیک کی بدولت پاکستان کی معاشی بحالی کا خواب ہنوز شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔ اس میں بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کی معاشی بحالی کیلئے سی پیک کی سب سے زیادہ لمحہ موجود تک اہمیت ہے۔ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ دنیا بھر کے تعلقات میں بنیادی نوعیت ان ممالک کا مختلف امور میں نقطہ نظر ہوتا ہے ، باہمی مفادات ہوتے ہیں اور ان باہمی دلچسپی کے معاملات پر ہی ساری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت سی پیک کا خیال اس لئے آیا کہ رواں ماہ میں چین میں بی آر آئی فورم کا اجلاس ہو رہا ہے اور اس کی بھی دسویں سالگرہ آ گئی ہے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو ایک ایسا منصوبہ ہے کہ جس سے ایشیا ، یورپ ، افریقہ وغیرہ کو سلک روٹ سے جوڑنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ اس روٹ کی تکمیل کی غرض سے ان ممالک کو بھی انفر اسٹرکچر وغیرہ کی تعمیر کے حوالے سے غیر معمولی فائدہ دیکھنے میں آیا جن کے ذریعہ سامان ایکسپورٹ یا امپورٹ ہونا ہے ۔ چین کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے یا اس کی حالیہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو وہ توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھتا ۔ اس لئے اس کی معاشی موجودگی کسی کو بھی چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا یا کمزور ملک ہو اس خطرے سے دوچار نہیں کر سکتی کہ اس کی خود مختاری کو کوئی زک پہنچ سکتی ہے ۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایشیا کے ساتھ ساتھ وہ افریقہ میں بھی بڑے پیمانے پر بی آر آئی کے ویژن کے ساتھ انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مصروف ہے اس کے ساتھ ساتھ چین نے اس امر پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے کہ بی آر آئی سے وابستہ ممالک کے اگرنقطہ نظر یا ضروریات میں فرق آ جائے تو چین ان کے ساتھ اس حوالے سے کسی مشترکہ سوچ تک پہنچ جائے ۔ مثال کے طور پر پاکستان میں جب سی پیک شروع ہوا تو اس وقت پاکستان کے کچھ حلقوں میں یہ سوچ تھی کہ انفراسٹرکچر کی تعمیر تو ہو جائے گی مگر اس کیلئے جو رقم خرچ کی جائے گی اس کی ادائیگی میں مشکلات ہونگی ۔ اب یہی آوازیں افریقہ میں بھی سنائی دے رہی ہیں اور انہی آوازوں کو سنتے ہوئے اور ان تحفظات کو دور کرنے کی غرض سے چین اپنی حکمت عملی میں بتدریج تبدیلی لا رہا ہے ۔ چینی صدر شی نے اگست دو ہزار تیئس میں کہا کہ’’میںنے ترقی پذیر ممالک، خاص طور پر افریقہ کے ممالک کے تحفظات کو سنا ۔ وہ مزید لاجسٹکس اور نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ نہیں چاہتےبلکہ اس کے بجائے وہ صنعت کاری چاہتے ہیں۔ چین ان ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔‘‘یہ بی آر آئی فورم کے اجلاس کے انعقاد سے قبل ایک ایسا بیان ہے کہ جو یہ ثابت کر رہا ہے کہ چین بی آر آئی فورم اور اس کے اجلاس کے دوران صرف اپنی مرضی نہیں چلانا چاہتا بلکہ دیگر ممالک کے معاملات اور ان کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے آغاز کے وقت اس منصوبے کی ساری توجہ سلک روٹ کی از سر نو بحالی اور اس سے جڑے ممالک میں انفر اسٹرکچر کی تعمیر تھی تا کہ سامان تجارت کی نقل و حمل کو آسان اور سستا بنایا جا سکے ۔ دس سال گزرنے کے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر کے شعبے میں قابل قدر کام ہو چکا ہے اور اب اس اجلاس کے بعد اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بی آر آئی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہو جائے گی اور ترقی پذیر ممالک میں فنانسنگ کے ذریعے انڈسٹری لائیزیشن کے مرحلہ کا آغاز کر دیا جائے گا ۔ پاکستان کیلئے یہ ممکنہ تبدیلی غیر معمولی طور پر اہمیت کی حامل ہوگی کیوں کہ پاکستان میں یہ پوٹینشل تو موجود ہے کہ وہ انڈسٹری کی بنیاد پر اپنی معیشت کو بحال کر سکے مگر اس کیلئے اس کو کک اسٹارٹ کی ضرورت ہے اگر اس کو کک اسٹارٹ مل گیا تو معیشت بھی جلد بحال ہو جائے گی ۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز