ہندو جارحیت کا وحشت ناک مظاہرہ 161

ہندو جارحیت کا وحشت ناک مظاہرہ

تحریکِ خلافت میں ہندو مسلم اتحاد سے برطانوی حکومت بہت خائف تھی، چنانچہ اِس فضا کو عداوت کے شعلوں میں بدل دینے کیلئے انتہاپسند آریہ سماجی لیڈروں سے سازباز کی جو ہندوستان میں ہندو مذہب، ہندو جاتی حکومت اور ہندو تہذیب کا غلبہ چاہتے تھے۔ آریہ سماجیوں کو بھی اِحساس ہو گیا تھا کہ تحریکِ خلافت کے دوران مسلم زعما اور عوام نے جس بےمثال جوش و خروش اور لازوال قربانیوں کا مظاہرہ کیا ہے، اِس سے مسلمانوں کے قد کاٹھ میں بےپناہ اِضافہ ہو گیا ہے، لہٰذا اُن کے ذہنوں میں یہ خیال پختہ ہوتا گیا کہ اگر مسلمان سیاست میں اِسی نہج پر ترقی کرتے رہے، تو وہ ناقابلِ شکست طاقت بن جائیں گے۔ اِس خوف کی بنا پر انگریز اور ہندو دونوں مل کر مسلمانوں کو فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے نیست و نابود کر دینا چاہتےتھے،چنانچہ اُنہوںنےمسلمانوںمیںاشتعال پھیلا نے اور اُن کی صلاحیتوں کو ہنگاموں کی نذر کر دینے کیلئے مختلف النوع منصوبے تیار کئے جن کی نشان دہی سب سے پہلے مولانا محمد علی جوہرؔ نے کوکناڑا جیل سے رہائی کے بعد اپنے ایک مضمون میں کی تھی:’’ہمارے قید ہوتے ہی ہندو مہاسبھائی مہاراشٹریہ نے مہاتما گاندھی اور عدم تعاون کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کر دیا۔ خود مہاتما گاندھی نے حکومت کو الٹی میٹم دے چکنے کے بعد برودلی میں وہ رَوش اختیار کی جسے ملک بھر میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھا گیا۔ پھر وہ بھی ہماری طرح قید کر لئے گئے اور پنڈت موتی لال نہرو اَور دَیش بندھو رہا کر دیے گئے۔ سول نافرمانی میں حصّہ لینے کے بجائے اُنہوں نے گیا شہر میں سوراج کے نام سے جو عَلمِ بغاوت بلند کیا، اُس نے تحریکِ عدم تعاون کا خاتمہ کر دیا۔ مزید ستم یہ کہ ہندو مہاسبھائیوں نے شدھی اورسنگٹھن کی تحریکیں پوری قوت سے شروع کیں جنہوں نے سیاسی تعصبات کی وہ آگ بھڑکائی جسے ہم ٹھنڈا کر چکے تھے۔ اِس طرح ہمارا کیا کرایا کام اکارت چلا گیا۔‘‘انتہاپسندآریہ سماجیوں کی جرأتیں بڑھتی گئیں اور مسلمانوں کی دلآزاری میں وہ اِس حد تک آگے چلے گئے کہ اہانتِ رسول ﷺ کرنے لگے اور مسلمانوں کے دل میں جاگزیں ایمان بالرسول کے انتہائی حساس مسئلے پر کاری ضرب لگاتے رہے۔ ایک طےشدہ منصوبے کے تحت وہ آنحضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر انتہائی رکیک حملے کرتے رہے۔ بیک وقت مختلف شہروں میں ایسے دریدہ دَہن لوگ پیدا ہو گئے جو کسی خوف کے بغیر مسلمانوں کو اِشتعال دلانے کے انتہائی خطرناک اور گندے کھیل میں دن رات مصروف ہو گئے۔ مسلمانوں نے اِن مذموم حرکات کے خلاف دادرَسی کیلئے برطانوی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر وہ اِن کے تدارک میں ناکام رہیں۔ تب مسلمان اِس ناقابلِ برداشت جارحیت کا خود سدِباب کرنے کیلئے اٹھے اور جانوں کی قربانی دے کر اِن مذموم حرکات کا راستہ بند کر دیا۔ اِس حوالے سے متعدد وَاقعات رونما ہوئے جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد کا رُخ یکسر موڑ دیا تھا۔دہلی میں بدنام آریہ سماج لیڈر شردھانند نے حضورِ اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ اُسے قاضی عبدالرشید نے پستول کی گولی سے 17؍دسمبر 1917ء کو جہنم رسید کیا اور اقبالِ جرم کے بعد شہادت کا رتبہ پایا۔ حیرت کی بات یہ کہ مہاتما گاندھی جو ایک زمانے میں مسلمانوں کی خیرخواہی کا بہت دم بھرتے تھے، اُنہوں نے توہینِ رسالتؐ کے انتہائی اشتعال انگیز واقعات کی روک تھام پر کوئی توجہ نہ دی۔ شردھانند کے قتل پر بہت واویلا مچا اور اِلزام لگایا گیا کہ اسلام قتل و غارت کا مذہب ہے۔ ماضی میں بھی اِس نے خون بہایا اور آج بھی خونریزی پر اُکسا رہا ہے۔ اِس الزام کا مسکت جواب مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے 1927ء میں اپنی شہرہ آفاق کتاب ’الجہاد فی الالسلام‘ میں دیا۔ حکیم الاُمت علامہ اقبال اِسی کتاب کے ذریعے مولانا سے متعارف ہوئے اور اُن کی دینی بصیرت، قوتِ استدلال اور علم و تحقیق کی گہرائی سے پوری طرح آشنا ہوئے اور اُنہیں پنجاب میں آ کر اسلامی فقہ پر جدید تقاضوں کے مطابق تحقیق کرنے کی دعوت دی۔ مولانا حیدرآباد دَکن سے پنجاب آئے اور پوری دنیا سے کٹ کر پٹھان کوٹ میں ایک بستی آباد کی اور اِسلامی نظام کی صورت گری پر عملی کام شروع کر دیا۔توہینِ رسولﷺ کا دوسرا وَاقعہ لاہور میں پیش آیا جہاں،مختلف اقوال کے مطابق ،سوامی پنڈت چموپتی اور کرشن پرشادپرتاب نے حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ کتاب ’رنگیلا رسول‘ لکھی جسےمہاشے راجپال آریہ سماجی نے شائع کیا،کتاب پرالبتہ بطور مصنف سوامی پنڈت چموپتی کا نام درج ہے۔مسلمانوں نے اُس کے خلاف مقدمہ درج کرایا اور عدالت نے اُسے ڈیڑھ سال قید اور ایک ہزار رُوپے جرمانے کی سزا سنائی، مگر 18 جنوری 1927 ء کو سیشن کورٹ کے جج کرنل ایف سی نکوس نے اُس میں تخفیف کر کے صرف چھ ماہ کی سزا برقرار رَکھی۔ مزید ستم یہ ہوا کہ ہائی کورٹ کے جج کرنل دلیپ سنگھ نے مجرم کو باعزت بری کر دیا۔ اِس پر مسلمان قدرتی طور پر بہت بر افروختہ ہوئے۔ لاہور کے واحد مسلمان اخبار ’مسلم آؤٹ لُک‘ نے اِن عدالتی فیصلوں کے خلاف بڑی جرأت سے لکھا، تو اخبار کے مالک نورالحق اور اُس کے مدیر سیّد دِلاور شاہ کو دو دو ماہ قید اَور ایک ایک ہزار رُوپے جرمانے کی سزا دِی گئی۔ اِس سے مسلمانوں کے اندر شدید ہیجان پیدا ہوا اَور بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں زبردست مظاہرے ہونے لگے۔اُس زمانے میں ایک نوجوان علم الدین نے توہینِ رسالت کے اقدام پر راجپال کے سینے میں خنجر گھونپ دیا اور خود تھانے میں پیش ہو گیا۔ جب مقدمہ ہائی کورٹ میں گیا، تو قائدِاعظم محمد علی جناح نے اُس کی پیروی کی۔ عدالت نے موت کی سزا برقرار رَکھی اور علم الدین کو میانوالی جیل میں 31؍اکتوبر 1929ء کو پھانسی دے دی گئی۔ اِن واقعات کے دوران تاریخ کروٹیں بدلتی رہی اور ہندو جارحیت کی کوکھ سے جنم لینے والا فساد ہندوستان کی سیاست کے رگ و پے میں اترتا گیا۔غازی علم الدین کی پھانسی نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں شدید غم و غصّے کی لہر دوڑا دِی اور پوری مسلم قیادت اِس عاشقِ رسولؐ کی جاںفروشی سے بہت متاثر ہوئی۔ علامہ اقبال افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ ہم باتیں ہی کرتے رہ گئے اور علم الدین ہم پر بازی لے گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب برطانوی حکومت آئینی معاملات کا جائزہ لینے سائمن کمیشن کے تقرر کا اعلان کر چکی تھی۔ (جاری ہے)

بشکریہ ہم سب