ہماری ریاست کا شمار ان بدقسمت ممالک میں ہوتا ہے ،جس کے مافیاز ماہ مقدس کا استقبال عوام کو ذہنی اذیت پہنچا کر کرتے ہیں،گیارہ مہینے وہ ماہ رمضان کے منتظر رہتے ہیں،اسکی آمد پر منافع کمانے کی یہ حس شدت سے بیدار ہو جاتی ہے، موقع پاتے ہی اپنی تجوریوں کا منہ کھول کر انھیں بھرنا شروع کردیتے ہیں اس لئے تاجر روزوں کے آنے سے پہلے ہی اشیاء منگوانے اور ان کا سٹاک کرنے کے لئے متحرک ہو جاتے ہیں،ان کے گودام بھر جاتے ہیں،رمضان شریف میں یہ ہر چیز کو دوگنی قیمت پر بیچنے کو ''ثواب'' بھی خیال کرتے ہیں، انکی حسرت ہوتی ہے کہ وہ نماز تراویح کی پہلی صف میں موجود ہوں، ہر نماز باجماعت پڑھی جائے،ذکر و اذکار بھی خوب ہو ہر روز ایک دیگ بھی دی جائے گنتی کے چند دنوں میں منافع خوری سے دولت انبار لگے ہوں یہی ان کا دل چاہتا ہے، وہ عبادت اور کاروبار کو الگ الگ خیال کرتے ہیں، وہ دین کے 80 فیصد معاملات سے صرف نظر کر کے 20فیصد عبادت کوکلیدی اہمیت دیتے ہیں۔ مخلوق خدا کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے وہ مسجد میں چندہ دینا،روزداروں کی افطاری کروانا ہے زیادہ اہم سمجھتے ہیں اپنے مال پر دوگنا منافع کمانا ان کے نزدیک البتہ جائزہے۔ تاجر برادری کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اس اسلامی مہینہ میں اتحاد اور اتفاق کا علمی مظاہرہ کرتی ہے، گووادر کے ساحل سے لے کر لنڈی کوتل تک انکی ایک ہی فکر ہوتی ہے کہ کس طرح عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا جائے،افطاری اور ِخوردونوش کی اشیاء کس انداز میں روزہ دار کی دسترس سے باہر رکھی جائے،سبزیات ،پھل،مشروبات کس طرح انکی پہنچ سے دور ہوں ،اسکی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اس طریقہ '' واردات'' میں چھوٹے تاجر سے لے کر خوانچہ فروش بھی ان کا ہمنوا ہوتا ہے،اسکی پوری کوشش ہوتی کہ اس ماہ مقدس میں ہر طرح کی چیز بیچ ڈالی جائے جو غیر معیاری اور مضر صحت بھی ہو روزدار کی مجبوری سے جتنا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہو وہ کم ہے، مزید یہ کہ ناپ تول میں کمی کرنے میں بھی غفلت نہ برتی جائے،اس مشق سے کم از کم ایک عمرہ کی رقم ضرور اکھٹی کی جائے اور در نبیۖ پر حاضری دی جائے تاکہ خانہ خد ا میں حاضری لگوا کر سارے گناہ بخشوا لئے جائیں پھر تازہ دم ہو کر اپنے کاروبار میں مصروف رہا جائے، اس عمل میں شریک رہنے والے نہ تو عوام کی تنقید کو خاطر میں لاتے ہیں نہ ہی سرکار ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ ہر سرکار کی رٹ کو ایک خوانچہ ،مرچنٹ اور سبزی فروش ہی چیلنج کئے رکھتا ہے، زیادہ آہ و بکاہ پر انتظامیہ اگر متحرک بھی ہوتی تو ایسے افراد کو جرمانے کر دیتی ہے،غیر ضروری منافع کمانے اور سرکاری نرخ پر اشیاء فروخت نہ کرنے پر جو سزا انھیں دیتی ہے وہ اسے دل و جان سے قبول کرتے ہیں، کیونکہ جرمانوں کی ادائیگی کے بعد وہ منافع کی شرح بڑھا دیتے ہیں، ہر دو صورتوں میں چھری عوام کے گلے پر ہی چلتی ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے طور پر ستایا ہوا شہری کوئی شکایت کر بھی دے تو وہ اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا ہے، الٹا شکایت کندہ پر ہنستے ہیں کہ عوام بیچاری کتنی سادہ ہے اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ بھاری بھر منافع انتظامیہ کی حمایت کے بغیر کیسے کمایا جاسکتا ہے، انتظامیہ کی'' خدمت'' رمضان المبارک سے پہلے انجام دی جاتی ہے تاکہ دھڑلے سے پورا مہینہ رعب اور دبدبہ سے مال فروخت کیا جاتا رہے۔ پھر بھی کوئی شہری اعلیٰ حکام کو فریاد کرتاہے تو اسے پروفیسر کے المناک انجام سے لازمی باخبر رہنا چاہئے جو پاکستانی نژاد برطانوی شہری تھا، جھنگ کے علاقہ میں خوانچہ فروش کی بدتمیزی پر اس نے 15پر کال کی اور کہا کہ اسکی جان کو خطرہ ہے کہ سارے خوانچہ فروش ناقص فروٹ دینے کے احتجاج پر تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں، مگر یہ پروفیسر اس مار کو بھول گیا، بھائی کے ساتھ کو تھانہ میں جو برداشت کرنا پڑی، دکھ بھری آپ بیتی کی کہانی کی وڈیو وائرل ہوئی کہ سب نے اس ظلم پر کانوں کو ہاتھ لگا لئے، اس سے خوانچہ فروش مافیاز کی طاقت کا اندزہ ہوتا ہے ،شرم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ واقعہ بھی رمضان المبارک میں دو بھائیوں کے ساتھ پیش آیا تھا، اس لئے احتیاط لازم ہے۔ ہمارے آئین میں مختلف طبقات کو یونین سازی کی جو سہولت دی گئی ہے اس کا بُری طرح سے ہر طبقہ نے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے، جو سب سے زیادہ مستعفید ہوئی ہے وہ تاجر برادری ہے، اسکی آڑ میں جو کم سے کم استحصال کیا جاسکتا ہے وہ بھاری منافع کمانا ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ تجارت کی دنیا میں کبھی کسی تاجر کو کسی جرم پر کڑی سے کڑی سزا ہوئی ہو، اس کو پابند سلاسل کیا گیا ہو، اسکی دوکان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سیل کر دیا گیا ہوالبتہ اس بات کی شہادتیں لازمی ملتی ہیں کہ صارف کے شکایت کرنے پر اس پر حیاتی تنگ کردی جاتی ہے، اس لئے بھی کہ انھیں مقامی تھانے کا پورا پورا تعاون حاصل ہوتا ہے، تاجر برداری کے بعض عہدیدار پولیس،پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی خا طر مدارت کرنے میں ''خاص '' شہرت رکھتے ہیں، ریاضت کے مقامات طے کرتے کرتے یہ نسلی قسم کے ٹاوٹ کا درجہ پا لیتے ہیں، ان کے پیچھے،جعل ساز اور دیگر مجرم بھی باآسانی چھپ جاتے ہیں۔مصنوعی مہنگائی کرنے میں اس برادری کا کوئی ثانی نہیں ہے، یہ بڑی فریبی سے اس فعل کو ''ڈیمانڈ اینڈ سپلائی '' کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ اسلامی دنیا کے تاجر ایک جیسے نہیں ہوتے ان میں کچھ خدا ترس بھی ہیں ،اب تو یہ سعادت غیر مسلم تاجر بھی حاصل کر رہے ہیں،رمضان آتے ہی وہ اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے کا برملا اعلان کرتے ہیں، مگر ہمارا تاجرروزداروں کی دعائیں لینے کی بجائے صرف منافع کی'' فیوض و برکات'' سمیٹنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔اس طبقہ کے ہاتھوں دولت لٹنے کے بعد یہ احسا س ہوتا ہے یہ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار بر س کی بات نہیں، کیونکہ ہر عہد کے اخبار اٹھا کر دیکھ لیں یہ بیان ہر سرکار کی طرف سے ضرور داغ دیا جاتا ہے کہ منافع خوروں کو من مانی کی اجازت نہیں ہو گی، ویسے اس طاقتور مافیا کو اجازت کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جب یہ فریضہ بغیر اجازت ہی انجام دینا آسان ہے۔ ہر رمضان میں سرکار اتنا احسان ضرور کرتی ہے کہ سستی چیزوں کے نام پر غیر معیاری اشیاء کی فروخت ایک چھت کے نیچے'' رمضان بازار'' کی صورت میں فراہم کرتی ہے اس'' پاکیزہ مافیا'' کی سہولت کار مقامی انتظامیہ ہوتی ہے۔ اگر یہ طبقہ روزہ داروں کی حیاتی کو سہل بنانا چاہتا ہو تو کوئی نہ کوئی سبیل نکال سکتا ہے، شعبہ شماریات کی معاونت سے ان چیزوں کی فراہمی اور درآمدگی اس ماہ سے قبل یقینی بنا سکتا ہے جو عمومی طور پر اس ماہ مقدس میں زیر استعمال رہتی ہیں۔ ان کے خام مال کا تعلق تو ہماری زراعت ہی سے ہے ،اگر اسکے ساتھ اچھی گورننس بھی ہو تو کم از کم روزہ دار مہنگائی کے ہاتھوں مجبور نہیں ہو گا۔ ہر عہد کے نعرے اور دعوے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بند کمروں میں کئے گئے فیصلے عوام میں جلد غیر مقبول ہو جاتے ہیں۔نجانے وہ سرکار کب مسند اقتدار ہو گی جس کی رٹ کو ایک خوانچہ فروش چیلنج نہ کر سکے۔
185